مشیر خزانہ شوکت ترین خیبر پختونخوا سے سینیٹر منتخب

مشیر خزانہ شوکت ترین خیبر پختونخوا سے سینیٹر منتخب

پشاور: مشیر خزانہ شوکت ترین خیبرپختونخوا سے سینیٹ کے رکن منتخب ہوگئے۔

 

الیکشن کے لیے پولنگ صوبائی اسمبلی کے پرانے ہال میں ہوئی جو سہ پہر 4 بجے تک جاری رہی۔

 

خیبر پختونخوا سے سینیٹ کی نشست پر الیکشن میں صبح 9 سے شام چار بجے تک پولنگ ہوئی اور کُل 122 ووٹ کاسٹ کیے گئے جس میں سے 9 ووٹ مسترد ہوئے۔

 

113 ووٹوں میں سے 87 ووٹ لے کر شوکت ترین سینیٹر منتخب ہو گئے، عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار شوکت امیرزادہ اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیدواروں ظاہر شاہ کو 13، 13 ووٹ ملے۔

 

شوکت ترین نے سینیٹر منتخب ہونے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں پہلی مرتبہ سینیٹر نہیں بنا بلکہ اس سے پہلے بھی بن چکا ہوں، اس سے قبل جب میں بنا تھا تو اس وقت میں وزیر خزانہ تھا اور ساتواں این ایف سی ایوارڈ 19سال بعد دیا تھا۔

 

صوبائی وزیر صحت تیمور جھگڑا کے مطابق سینیٹ کی خالی نشست کے لیے پولنگ میں 4 ووٹ مسترد ہوئے اور پانچ ارکان کسی وجہ سے ووٹ ڈالنے نہیں آسکے۔

 

تحریک انصاف نے ایوب آفریدی کو سینیٹ کی نشست سے مستعفی کرا کر شوکت ترین کو ٹکٹ دیا تھا جب کہ مشیر خزانہ کے سامنے اے این پی کے شوکت امیر زادہ، پی پی کے محمد سعید اور جے یو آئی ف کےظاہر شاہ مدمقابل تھے۔

 

یاد رہے کہ 145رکان پرمشتمل صوبائی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے94 ارکان ہیں، جے یو آئی ف کےارکان کی تعداد 15، اے این پی کی 12 ، مسلم لیگ ن7، پیپلز پارٹی 5، بلوچستان عوامی پارٹی 4 ، جماعت اسلامی 3 اور،مسلم لیگ ق کاامیدوار ہے جبکہ آزاد ارکان کی تعداد 4 ہے۔

 

سینیٹر منتخب ہونے کیلئے امیدوار کو 145 اراکین میں سے 50 فیصد سے زیادہ ووٹ درکار ہوں گے۔