کیا عالمی امداد حکومت کو ملنی چاہیے؟

کیا عالمی امداد حکومت کو ملنی چاہیے؟

 

حفصہ جنید
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوٹیرس کا دو روزہ دورہ پاکستان کے موقع پر اقوام عالم اور عالمی اداروں سے مشکل کی اس گھڑی میں فراخدلی سے پاکستان کی مدد کرنے کی گزارش کرتے ہوئے کہنا تھا کہ صورتحال کو لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے، پاکستان کو لاکھوں افراد کی بحالی کیلئے فوری طور پر بڑی امداد کی ضرورت ہے۔ اس سے قبل بلاول بھٹو کی سیلاب زدگان کے لیے کی گئی اپیل پر تقریباً131  ارب روپیہ عالمی امداد ملنے کی خبر سامنے آئی۔ کہا جا رہا ہے کہ مختلف ممالک، اداروں سے160  ملین امداد ملنے کی توقع ہے۔


پاکستان میں اس سال جون سے شروع ہونے والی بارشوں نے جو تباہی مچائی ہے تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ دیہات کے دیہات ڈوب گئے، پل بھر میں بلند و بالا ہوٹل زمین بوس ہو گئے۔ جہاں جہاں سے یہ سیلاب گزرا وہاں کچے مکانوں کا نام و نشان تک مٹ گیا۔ یہ سیلاب کتنی ہی انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بنا۔ کتنے ہی افراد کو بے گھر کر کے انھیں کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور کرگیا، ان کی صدیوں کی کمائی بہا لے گیا، کتنے ہی مویشیوں کو اپنے ساتھ بہا کر ان کے مالک سے ان کی عمر بھر کی کمائی کا ذریعہ چھین گیا۔ کتنی ہی فصلوں کو تباہ کر گیا۔ جن کے گھر ٹوٹ گئے، ان کو اپنا گھر کتنا عزیز ہو گا، کتنی ہی یادیں اس مٹی کے مکان سے وابستہ ہوں گی۔ جن کے اپنے اس سیلاب کی نذر ہو گئے کیا ان کے آنسو کبھی تھم پائیں گے؟ جن کی فصلیں تباہ اور مویشی ڈوب گئے ان کی کتنی ہی امیدیں پل میں بکھری ہوں گی۔ اس وقت متاثرین کی کیا حالت ہو گی؟ وہ کتنے تکلیف میں ہوں گے؟ ہم امن سے رہنے والے ان کی تکلیف کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔

 

 


ایک ملک گیر سروے کے مطابق80  فیصد سے زائد لوگوں نے سیلاب زدگان کے لیے عطیات الخدمت کو دیے، عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما نے بھی الخدمت کو عطیات دینے کی گزارش کی، الخدمت کو عالمی سطح پر بھی سراہا گیا وہیں دوسری طرف جے ڈی سی کے کردار کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اپنے لوگ ہی حکومت پر یقین نہیں کر رہے تو عالمی امداد حکومت کے پاس کیوں جائے، حکومت کو کیوں ملے، ہڑپنے کے لیے؟ یہ امداد کرپشن کی نذر ہونے کے لیے ہمیں نہیں مل رہی بلکہ جن کا سب کچھ سیلاب بہا کر لے گیا ہے ان کے لیے مل رہی ہے، تو کیا یہ امداد الخدمت یا جے ڈی سی کو نہیں ملنی چاہیے جنھوں نے اب تک عوام سے ملنے والی عطیات کی ایک ایک پائی کو ایمانداری سے استعمال کیا ہے؟

 


سیلاب کو روکا نہیں جا سکتا یہ قدرتی آفات میں سے ایک ہے۔ اس کی بنیاد پر کئی ماہرین پانی جو ڈیم کے خلاف ہیں، یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ڈیم بنا کے دریا کے پانی کو روکنے کی کوشش کرنا قدرت کے نظام میں مداخلت کرنے کے مترادف ہے۔ دریا کو گزرنے کا رستہ دینا چاہیے۔ لیکن اس تھیوری کو اکثر پانی کے ماہرین مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سیلاب کو روکا نہیں جا سکتا لیکن ڈیم بنا کر اس پانی کو اسٹور کر کے سارا سال گھریلو اور زرعی استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ یاد رہے پاکستان کا شمار ان ممالک میں کیا جاتا ہے جن میں پانی کی شدید قلت ہے۔ لیکن ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے خیال کیا جا رہا ہے کہ آنے والے چند سالوں میں ہمارے خطے میں پانی کا وولیم بڑھ جائے گا۔ اس صورتحال میں ڈیم کی تعمیر ناگزیر ہو جاتی ہے تاکہ بارشی پانی کو ذخیرہ کر کے باقی سال استعمال میں لایا جائے۔ اس دفعہ بھی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ڈیم بنے ہوتے تو جانی اور مالی نقصان میں کمی لائی جا سکتی تھی۔

 


گو کہ شہباز شریف نے یہ یقین دہانی کروائی ہے کہ ایک ایک پیسہ شفافیت سے خرچ کریں گے لیکن یہی دعوی2010  میں آنے والے سیلاب اور2005  میں آنے والے زلزلے کے بعد ملنے والی غیرملکی امداد سے متعلق بھی کیا گیا تھا۔ لیکن وہ امدادیں بھی کرپشن کی نذر ہو گئیں۔ آج تک پتہ نہ چل سکا کہ جو امداد ملی وہ کہاں گئی؟ کہاں خرچ ہوئی؟


پاکستان کی بدقسمتی کہ اس کو آج تک کوئی پرخلوص قیادت میسر نہ آ سکی جس کی وجہ سے ملک کے مسائل میں اضافہ ہوتا گیا، جن میں پانی کا مسئلہ سرفہرست ہے۔ گرمیوں میں تھر جیسے علاقوں میں لوگ پانی کی ایک بوند کے لیے ترس کر رہ جاتے ہیں، اکثر علاقوں میں پینے کے لیے صاف پانی تک میسر نہیں ہوتا۔ مویشی پیاس کے مارے مرنے لگتے ہیں۔ زیر زمین پانی دور سے دور ہو جاتا ہے۔ خشک سالی ہونے لگتی ہے۔ پاکستان کو پانی کی قلت والے ممالک کی فہرست میں تیسرے نمبر پر رکھا جاتا ہے۔ لیکن مون سون کے آتے ہی ملک کی اکثر سڑکیں تالاب کا سا منظر پیش کر رہی ہوتی ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ گاڑیاں تیر رہی ہوتی ہیں تو غلط نہ ہو گا۔ وطن عزیز کے سب سے بڑے شہر کراچی میں مسافروں کے لیے ایک گلی سے دوسری گلی تک جانا محال ہو جاتا ہے۔ یہ کیسا مذاق ہے؟ لیکن ماضی کی حکومتیں اس مسئلہ کی جانب توجہ دینے میں ناکام رہیں۔ اگر ہماری حکومتیں اس مسئلے کی سنگینی کو محسوس کر پاتیں یا اس ریاست سے مخلص ہوتیں، عوام کا درد ان کے دلوں میں ہوتا  تو  چند مخصوص لوگوں کے کالا باغ ڈیم پر اعتراضات کو خاطر میں نہ لا کر  اب تک کالا باغ ڈیم تعمیر کروا چکی ہوتیں۔ 

 


اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کی قیمت چکا رہا ہے،1954  سے اب تک عالمی کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں پاکستان کا حصہ محض  0.4فیصد رہا ہے لیکن وہ موسمیاتی تبدیلیوں کی بھاری قیمت چکا رہا ہے، لہذا اگر پاکستان کو مختلف ممالک کی جانب سے امداد ملتی ہے تو یہ پاکستان کا حق ہے، جو لوگ اس سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں ان کا حق ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ امداد کبھی سیلاب متاثرین تک پہنچ پائے گی؟
 


اس بدترین سیلابی صورتحال میں بھی حکومت اور اپوزیشن آپس میں الجھتے رہے۔ عمران خان نہ صرف جلسے جلوس کرتے رہے بلکہ ان پر تنقید کرنے والے صحافیوں کو بھی وقتاً فوقتاً کھری کھری سناتے رہے۔ حکومت اپنے آپ میں الجھی رہی، پی ٹی آئی پر لعن طعن کا سلسلہ جاری رکھا۔ سیلابی بارشیں جون سے شروع ہوئیں۔ جون گزرا، جولائی گزرا، اگست کے آخر میں عوام کے شدید پریشر پر حکومت ہوش میں آئی لیکن پاکستان کو امریکہ کی غلامی سے آزاد کروانے کے سفر پر رواں خان صاحب کو پھر بھی ہوش نہ آیا۔ حتی کہ کچھ ہمدرد تک نے پی ٹی آئی پر تنقید شروع کی تو انھیں ہوش آیا پر جلسے جلوس جاری رہے۔ لیکن اس سارے عرصے میں حقیقی طور پر جو جماعتیں سیلاب زدگان کے لیے مسیحا بنیں، انھیں ریسکیو کر کے محفوظ مقامات پر منتقل کیا، انھیں امداد فراہم کی، خیموں کا بندوبست کیا، انھیں دوائیاں فراہم کیں، مچھر دانیاں تقسیم کیں ان میں الخدمت اور جے ڈی سی کا نام نمایاں رہا۔


اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کی قیمت چکا رہا ہے۔1954  سے اب تک عالمی کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں پاکستان کا حصہ محض  0.4فیصد رہا ہے۔ لیکن وہ موسمیاتی تبدیلیوں کی بھاری قیمت چکا رہا ہے۔ لہذا اگر پاکستان کو مختلف ممالک کی جانب سے امداد ملتی ہے تو یہ پاکستان کا حق ہے۔ جو لوگ اس سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں ان کا حق ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ امداد کبھی سیلاب متاثرین تک پہنچ پائے گی؟ یا ہمیشہ کی طرح کرپشن کی نذر ہو جائے گی؟ گو کہ شہباز شریف نے یہ یقین دہانی کروائی ہے کہ ایک ایک پیسہ شفافیت سے خرچ کریں گے لیکن یہی دعوی2010  میں آنے والے سیلاب اور2005  میں آنے والے زلزلے کے بعد ملنے والی غیرملکی امداد سے متعلق بھی کیا گیا تھا۔ لیکن وہ امدادیں بھی کرپشن کی نذر ہو گئیں۔ آج تک پتہ نہ چل سکا کہ جو امداد ملی وہ کہاں گئی؟ کہاں خرچ ہوئی؟


اس دفعہ کے سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں کے بعد تو اب عالمی سطح پر بھی یہ سوالات اٹھائے جانے لگے کہ2005  اور 2010 میں ملنے والی غیرملکی امداد، جو اس عزم پر حاصل کی گئی تھی کہ اس کی مدد سے ایسا انتظام کرنے کی کوشش کی جائے گی جو آئندہ آنے والی نسلوں کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچانے میں معاون ثابت ہو گی تو پھر کیوں آج تک سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچنے کے لیے کوئی خاطر خواہ انتظام نہ کیا گیا؟ اس حوالے سے کیوں کوئی کوشش نہ کی گئی؟ اور اگر کی گئی ہے تو ہم اسے دیکھ کیوں نہیں پا رہے؟ حتی کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر بھی عمل میں نہ لائی گئی۔ تو اس چیز کی کیا گارنٹی ہے کہ حکومت جو روز میڈیا پہ آ کے سیلاب زدگان کی مدد کے حوالے سے جو وعدے کر رہی ہے انھیں وہ پورا کرے گی؟ عوام اس مرتبہ حکومت پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔ شہباز شریف کی یقین دہانی کے باوجود عوام ان پر یقین نہیں کر رہی۔ جس کا سب سے بڑا ثبوت حکومت کا قائم کر دہ ریلیف فنڈ ہے جس میں عوام اپنے عطیات جمع نہیں کروا رہی۔ سیلاب زدگان کی عطیات مختلف مذہبی اور فلاحی جماعتوں کو دی جا رہی ہے جن میں الخدمت اور جے ڈی سی نمایاں ہیں۔

 


اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوٹیرس کا دو روزہ دورہ پاکستان کے موقع پر اقوام عالم اور عالمی اداروں سے مشکل کی اس گھڑی میں فراخدلی سے پاکستان کی مدد کرنے کی گزارش کرتے ہوئے کہنا تھا کہ صورتحال کو لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے، پاکستان کو لاکھوں افراد کی بحالی کیلئے فوری طور پر بڑی امداد کی ضرورت ہے، اس سے قبل بلاول بھٹو کی سیلاب زدگان کے لیے کی گئی اپیل پر تقریباً131  ارب روپیہ عالمی امداد ملنے کی خبر سامنے آئی، کہا جا رہا ہے کہ مختلف ممالک، اداروں سے160  ملین امداد ملنے کی توقع ہے


ایک ملک گیر سروے کے مطابق80  فیصد سے زائد لوگوں نے سیلاب زدگان کے لیے عطیات الخدمت کو دیے۔ عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما نے بھی الخدمت کو عطیات دینے کی گزارش کی۔ الخدمت کو عالمی سطح پر بھی سراہا گیا۔ وہیں دوسری طرف جے ڈی سی کے کردار کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔


سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اپنے لوگ ہی حکومت پر یقین نہیں کر رہے تو عالمی امداد حکومت کے پاس کیوں جائے؟ حکومت کو کیوں ملے؟ ہڑپنے کے لیے؟ یہ امداد کرپشن کی نذر ہونے کے لیے ہمیں نہیں مل رہی بلکہ جن کا سب کچھ سیلاب بہا کر لے گیا ہے ان کے لیے مل رہی ہے۔ تو کیا یہ امداد الخدمت یا جے ڈی سی کو نہیں ملنی چاہیے جنھوں نے اب تک عوام سے ملنے والی عطیات کی ایک ایک پائی کو ایمانداری سے استعمال کیا ہے؟ اس امداد کو حقداروں تک پہنچایا ہے۔ جنھوں نے اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر سیلاب زدگان کو ریسکیو کیا ہے۔ سیلاب زدگان کا درد ان کے دلوں میں ہے اور اپنے عمل سے انھوں نے یہ ثابت بھی کیا ہے لہذا عالمی اداروں کو امداد کے صحیح استعمال کے لیے حکومت پاکستان پر نہیں بلکہ الخدمت یا جے ڈی سی پر اعتماد کرنا چاہیے۔


سیلاب زدگان اور آزادی کے سفر پر رواں خان صاحب
اس بدترین سیلابی صورتحال میں بھی حکومت اور اپوزیشن آپس میں الجھتے رہے۔ عمران خان نہ صرف جلسے جلوس کرتے رہے بلکہ ان پر تنقید کرنے والے صحافیوں کو بھی وقتاً فوقتاً کھری کھری سناتے رہے۔ حکومت اپنے آپ میں الجھی رہی، پی ٹی آئی پر لعن طعن کا سلسلہ جاری رکھا۔ سیلابی بارشیں جون سے شروع ہوئیں۔ جون گزرا، جولائی گزرا، اگست کے آخر میں عوام کے شدید پریشر پر حکومت ہوش میں آئی لیکن پاکستان کو امریکہ کی غلامی سے آزاد کروانے کے سفر پر رواں خان صاحب کو پھر بھی ہوش نہ آیا۔ حتی کہ کچھ ہمدرد تک نے پی ٹی آئی پر تنقید شروع کی تو انھیں ہوش آیا پر جلسے جلوس جاری رہے۔ لیکن اس سارے عرصے میں حقیقی طور پر جو جماعتیں سیلاب زدگان کے لیے مسیحا بنیں، انھیں ریسکیو کر کے محفوظ مقامات پر منتقل کیا، انھیں امداد فراہم کی، خیموں کا بندوبست کیا، انھیں دوائیاں فراہم کیں، مچھر دانیاں تقسیم کیں ان میں الخدمت اور جے ڈی سی کا نام نمایاں رہا۔