خیبر پختونخوا بجٹ میں کاروباری طبقہ پر سیلز ٹیکس کی شرح میں نمایاں کمی

خیبر پختونخوا بجٹ میں کاروباری طبقہ پر سیلز ٹیکس کی شرح میں نمایاں کمی

 پشاور ( نیوز رپورٹر ) خیبرپختونخوا حکومت نے نئے مالی سال میں کاروباری افراد اور ٹیکس دہندگان کو بجٹ میں 31 شعبہ جات پر سیلز ٹیکس آن سروسز کی شرح میں نمایاں کمی اور ردوبدل تجویز کر دی۔سروسز سے وابستہ کل 10 شعبہ جات پر سیلز ٹیکس کی شرح کو کم کر کے صرف ایک فیصد کر دیا گیا ہے۔

 

رواں مالی سال کے بجٹ میں بھی حکومت خیبر پختونخوا کی جانب سے سروسز سے وابستہ 29 شعبہ جات پر ٹیکس کی شرح میں نمایاں کمی کی گئی تھی۔صوبے میں تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور کورونا وبا سے متاثرہ کاروباری افراد کو مدد فراہم کرنے کیلئے وزیر اعلی خیبر پختونخواہ محمود خان اور وزیر خزانہ تیمور خان جھگڑا کی خصوصی ہدایات پر خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی نے سروسز سے وابستہ مختلف شعبہ جات پر ٹیکس میں نمایاں کمی کی سفارشات فنانس بل 2021  میں شامل کر دیں ہیں۔ نئے مالی سال میں ٹیکس شرح میں کمی ان اقدامات کا حصہ ہے جو کہ کاروباری شعبے پر کورونا وبا کے اثرات کو زائل کرنے کے لیے اٹھائیجا رہے ہیں۔

 

تفصیلات کے مطابق 10 شعبہ جات بشمول پرنٹ میڈیا کے اشتہارات، پراپرٹی ڈیلرز سروسز، زراعت کے لئے کولڈ سٹوریج اور گودام کے سروسز، صنعتی ورکشاپ، کار واش، سینما ٹو گرافی سروسز، انڈر رائیٹر سروسز، آکشنیئرز، کوالٹی اشورینس اینڈ انسپکشن سروسز اور کمشنگ اور انسٹالیشن سروسز پر سیلز ٹیکس کی شرح میں کمی کرکے صرف ایک فیصد پر لایا گیا ہے۔

 

اسی طرح صوبے میں سیاحت کو فروغ دینے کیلئے کاغان اور ناران میں قائم ہوٹل اور ریسٹورانٹس پر ٹیکس کی شرح کو 8 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کر دیا گیا ہے‘ ٹیکس دہندگان کی درخواست پر بعض شعبہ جات پر ٹیکس کی شرح میں ردوبدل کی گئی ہے جن کی بدولت ٹیکس دہندگان کو ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی قانونی سہولت میسر ہو جائے گی اور ڈبل ٹیکسیشن کے خدشات بھی نہیں رہینگے۔

 

ڈائریکٹر جنرل کیپرا جناب فیاض علی شاہ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ موجودہ حکومت تاجر برادری کی فلاح و بہبود کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ ٹیکس کی شرح میں کمی کا بنیادی مقصد حکومت کا صوبے میں سرمایہ کاری اور ٹیکس کلچر کو فروغ دینا ہے۔