سماجی اخلاقیات

سماجی اخلاقیات

فضل مومند
سماجی اخلاقیات کیا ہیں؟ اور کیا ہم لوگوں کو کسی نے سماجی اخلاقیات سکھائیں یا سمجھائی ہیں، کیا سماجی اخلاقیات کی خلاف ورزی پر قانون میں کوئی دفعہ بھی موجود ہے یا نہیں؟ ہمارے ملک کے بیشتر عوامی مقامات پر  بس اڈوں پر یا دوسرے عوامی مقامات پر سب سے زیادہ سماجی اخلاقیات کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، آئس یا ہیروئن کی خرید و فروخت اور اس کا استعمال زیادہ تر ان ہی عوامی مقامات پر ہو رہا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر مقصود کہتے ہیں کہ سیاسی اخلاقیات ہوں یا اقتصادی اخلاقیات، یا سماجی اخلاقیات ہوں یا مذہبی اخلاقیات ان تمام کا تعلق انسانی سماج کی بہتری سے ہے اسی لئے سماجی اخلاقیات کے ارد گرد تمام مکتبہ ہائے فکر محوِگردش ہیں۔ جس معاشرے میں انسان کی عظمت کا تصور ناپید ہو وہ حیوانی معاشرہ ہے، سماجی اور مذہبی اخلاقیات کا درس تو سارے پیغمبروں نے دیا ہے مگر ہمارے معاشرے میں نہ تو سماجی اخلاقیات کی کوئی پرواہ کرتا ہے اور نہ انسانی اور مذہبی اخلاقیات سے باخبر ہیں۔ مثلاً کسی اسپتال کے سامنے بورڈ لگا ہو اور ڈرائیوروں کے لیے تنبیہہ ہو، اس پر درج ہو کہ ہارن بجانا منع ہے اس کے باوجود ڈرائیور حضرات پریشر ہارن بجاتے ہیں تو یہ سماجی اخلاقیات کی خلاف ورزی ہے۔ کسی پبلک مقام پر اگر کوئی بندہ گندی حرکت یا شور شرابا کرتا ہے تو یہ بھی سماجی اخلاقیات کی خلاف ورزی تصور کی جاتی ہے۔ عوامی مقامات پر جتنی خلاف ورزی ہمارے ہاں ہوتی ہیں شاید کسی عرب یا یورپ کے ممالک میں ہو، لکھا ہوتا ہے تھوکنا منع ہے پھر بھی لوگ وہی تھوکتے ہیں، یہاں پر پیشاب کرنا منع ہے مگر لوگ وہیں بیٹھ کر پیشاب کرتے ہیں، سامنے بورڈ پر لکھا ہوتا ہے سگریٹ پینا منع ہے مگر اسی بورڈ کے نیچے بیٹھ کر سگریٹ کے کش لگاتے نظر آتے ہیں، لوگ سماجی اخلاقیات کی پرواہ کئے بغیر خلاف ورزی کرتے رہتے ہیں۔ کچھ دن پہلے اسی طرح کا ایک واقعہ سعودی عرب کے شہر ریاض میں پیش آیا۔ عوامی مقام پر بلند آواز میں بولنے اور سماجی اخلاقیات کی خلاف ورزی پر ایک سعودی نوجوان کو گرفتار کیا گیا۔ عوامی مقام پر سعودی نوجوان کا وڈیو کلپ وائرل ہوا تھا۔ ریاض پولیس نے لوگوں کی جانب سے ردعمل پر وڈیو کلپ کا نوٹس لیا۔ ریاض پولیس نے بیان میں کہا کہ  سعودی شہری کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی ہے، سوشل میڈیا صارفین نے وڈیو کلپ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا  کہ عوامی مقام پر اس نوجوان نے جو کچھ کیا وہ سعودی معاشرے کی توہین کے مترادف ہے۔ سماجی، مذہبی اور انسانی اخلاقیات کی خلاف ورزیاں ہم نے 14 اگست کے دن بھی دیکھی ہیں، ان اخلاقیات کا جنازہ نکلتا ہوا دیکھا ہے۔ صبح سے شام تک گھروں اور مسجدوں کے سامنے بگل بجتے رہے، ان گھروں میں کوئی بیمار یا بلڈ پریشر کے مریض بھی تو ہو سکتے ہیں، ان کو جو تکلیف ملی تو یہ ساری سماجی اخلاقیات کی خلاف ورزیاں ہیں  اسلام تو ہمیں سماجی، انسانی اور مذہبی اخلاقیات کا درس دیتا ہے مگر ہم کہاں جا رہے ہیں؟