سوشل میڈیا اور صحافت 

سوشل میڈیا اور صحافت 

                                                             آصف علی درانی  
پاکستان میں سوشل میڈیا کی مقبولیت نے معاشرے میں صحافت اور صحافی کا معیار اور اہمیت گرا دیا اور ایسے لوگ اس سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آئے جو اپنے آپ کو صحافی تو کہتے ہیں مگر ان لوگوں کے پاس ابلاغ عامہ یا ماس کمیونیکیشن کی ڈگری نہیں ہوتی۔ اور یہ بات بھی درست ہے کہ موجودہ دور میں پاکستان کے ہر گھر میں صحافی موجود ہے۔ یہ لوگ سوشل میڈیا پر اپنا اکاؤنٹ بناتے ہیں اور ایک مائیک ہاتھ میں پکڑ کر اپنے آپ کو صحافی سمجھتے ہیں۔ یہ برائے نام صحافی سوشل میڈیا پہ بیٹھ کے ہر مسئلے پر باتیں کرتے ہیں، تجزیہ کرتے ہیں۔ بعض تو ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنے آپ کو صحافی سمجھتے ہیں اور دوسری طرف مختلف سیاسی جماعتوں کے لیے اپنے سوشل میڈیا چینلز سے ان کے حق میں بات کرتے ہیں اور اس کے بدلے میں ان سیاسی جماعتوں سے بھاری رقم وصول کرتے ہیں۔ صحافت کی تعریف کیا ہے یا صحافت کسے کہتے ہیں آج تک صحافت کے بارے میں، میں نے اپنے سینئر صحافیوں اور اساتذہ سے جو سنا ہے وہ یہ ہے کہ کسی نیوز چینل یا نیوز ایجنسی کے لیے خبر تلاش کرنا اور پھر اس خبر پہ رپورٹ بنانا اور اپنی رائے اس میں شامل نہ کرنا اور اس کو پھر نیوز چینل یا ادارے کو دینا یہ سارا عمل صحافت ہے۔ اور جو شخص یہ کام کرتا ہے اسے صحافی کہتے ہیں۔ صحافی بننے کے لیے صحافت کی ڈگری حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔ جس طرح ایک شخص ڈاکٹر بننے کے لیے ڈاکٹری مطلب ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کرتا ہے پھر اس کے بعد وہ میدان میں آتا ہے اور لوگوں کا علاج معالجہ کرتے ہیں۔ جس طرح کوئی وکیل، ڈاکٹر، انجینئر، استاد حتی کہ ایک ٹیکنیشن یا نرس ڈگری حاصل کرنے کے بغیر کام یا نوکری نہیں کر سکتا لیکن صحافت پاکستان میں وہ واحد شعبہ ہے جس میں کوئی پابندی نہیں چاہے کسی کے پاس ماس کمیونیکیشن کی ڈگری ہو یا نہ ہو وہ صحافت کر سکتا ہے اور ایک پروفیشنل صحافی سے کافی زیادہ پیسے بھی کما سکتا ہے۔ بہت سے ایسے غیرتعلیم یافتہ افراد سوشل میڈیا پہ موجود ہیں۔ ان برائے نام صحافیوں کو عوام بھی بہت شوق سے دیکھتے ہیں۔ اس لیے بھی دیکھتے ہیں کیونکہ یہ سوشل میڈیا کے صحافی حضرات بغیر کسی تحقیق کے کسی موضوع پر بات کرتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو مخصوص سیاسی جماعت کے حق میں باتیں کرتے ہیں اسی وجہ سے بھی اس جماعت کے سپورٹرز ان کو دیکھتے ہیں۔ آج کل ملک میں جو سیاسی حالات چل رہے ہیں اور جو سیاسی گرما گرمی ہے ان حالات میں ہر سیاسی جماعت نے اپنے سوشل میڈیا صحافی رکھے ہوئے ہیں اور یہ صحافی سوشل میڈیا پہ اپنے چینل کے زریعے بعض سیاسی جماعتوں کے حق میں اور بعض کے خلاف بات کرتے ہیں۔ آسان الفاظ میں کہ ایک گیم کھیل جاری ہے۔ اور ان لوگوں کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح عوام کو بیوقوف بنائیں اور عوام کو حقیقت کا پتہ نہ چلے۔ صحافیوں میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جن کے پاس ڈگری ہے مگر ابلاغ عامہ کی نہیں، بعض ایسے صحافی بھی ہیں جو باقاعدہ ٹیلی ویژن پر شو پروگرام بھی کرتے ہیں مگر پیشے کے لحاظ سے وہ ڈاکٹر ہیں،ان کے پاس ڈاکٹری کی ڈگری ہے اور وہ صحافت کر رہے ہیں۔ بعض صحافیوں کے پاس انگلش یا پولیٹیکل سائنس کی ڈگری ہے اور وہ الیکٹرانک میڈیا پہ پروگرام کررہے ہیں۔ اب یہ بندہ تو گریجویٹ ہے مگر اس نے تو صحافت نہیں پڑھی ہے تو اس کو صحافت کے اصولوں کا بھی نہیں پتہ کہ کس جگہ پہ کون سی اور کس طرح بات کرنی ہے، سوال کس طرح کرنا ہے کیونکہ انھوں نے میڈیا کے اصول پڑھے نہیں ہیں۔ اس وجہ سے ہماری صحافت کا معیار گر رہا ہے۔ اور جو پروفیشنل صحافی ہیں، جن کے پاس صحافت اور ابلاغ عامہ کی ڈگری ہے، ان کی اہمیت بھی روز بروز کم ہو رہی ہے کیونکہ وہ غلط کام نہیں کرتے، کسی کو بلیک میل نہیں کرتے اور خبر کے بارے میں تحقیق کرتے ہیں۔ اور عوام کو حقیقت بتاتے ہیں کہ جھوٹ کیا ہے اور سچ کیا اسی وجہ سے ایسے صحافی کو سیاسی پارٹیوں کے سپورٹرز گالیاں بھی دیتے ہیں، اس صحافی کو پسند بھی نہیں کرتے، دیکھتے بھی نہیں اور جب دیکھتے نہیں تو پھر میڈیا کے مالکان بھی اس صحافی کو ہٹاتے ہیں اور اس کی جگہ پہ وہ صحافی بٹھاتے ہیں کہ جو جھوٹ بولیں، کچھ بھی کریں تاکہ چینل کی ریٹنگ بڑھے اور اشتہارات زیادہ ملیں۔