سولہواں حصہ

سولہواں حصہ


حمیرا علیم
نبی کریم صلی اللہ علیہ حج کے موسم میں اور عرب کے بازاروں میں قبائل کے خیموں اور ٹھکانوں پر تشریف لے جاتے اور انہیں اسلام کی دعوت دیتے تھے۔ دور جاہلیت میں عرب کے مشہور اور مکہ کے قریب ترین بازار تین تھے؛ عکاز، مجنہ اور ذوالمجاز۔ عکاظ نخلہ اور طائف کے درمیان ایک بستی تھی۔ جہاں پہلی ذی القعدہ سے بیس ذی القعدہ تک بازار لگتا تھا۔ اس کے بعد لوگ مجنہ منتقل ہو جاتے اور وہاں ذی القعدہ کے خاتمے تک بازار لگاتے تھے۔ مجنہ مکہ سے نیچے وادی مرالمظہران میں ایک مقام کا نام ہے۔ ذوالمجاز جبل عرفہ یعنی جبل رحمت کے پیچھے ہے۔ وہاں پہلی ذی الحج سے آٹھ ذی الحج تک بازار لگتا تھا۔ اس کے بعد لوگ مناسک حج کی ادائیگی کیلئے فارغ ہو جاتے تھے۔ جن قبائل کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دعوت اسلام دی اور پناہ مانگی وہ یہ ہیں: بنو عامر بن صعصعہ، بنو محارب بن خصفہ، بنو فزارہ، غسان اور مرہ، بنو حنیفہ، بنو سلیم، بنو عبس، بنو نصر، بنو البکا، کندہ اور کلب، بنو الحارث بن کعب، عذرہ اور حضارمہ۔ ان میں سے کسی نے بھی آپۖ کی دعوت قبول نہ کی لیکن کسی نے اچھے انداز میں انکار کیا اور کسی نے آپۖ کے بعد اپنے لئے سرداری کی شرط لگائی۔ کسی نے کہا ''آپ کا خاندان اور قبیلہ آپ کو بہتر جانتا ہے کہ اس نے آپ کی پیروی نہیں کی۔'' مکہ میں تو دعوت مشکل تھی مگر مکہ سے باہر کچھ لوگ ایمان لائے۔ ان میں سے بعض یہ ہیں: 


سوید بن صامت رضی اللہ عنہ
یہ یثرب کے شاعر تھے اور اسی وجہ سے کامل کہلاتے تھے۔ جب یہ حج و عمرہ کیلئے مکہ آئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دعوت اسلام دی تو انہوں نے حکمت لقمان پیش کی، آپۖ نے قرآن پیش کیا تو وہ مسلمان ہو گئے۔ وہ بعاث کی جنگ سے پہلے اوس و خزرج کی لڑائی میں قتل ہو گئے۔


ایاس بن معاذ رضی اللہ عنہ
یہ یثرب کے نوخیز نوجوان تھے۔ 11 نبوت میں اوس کے وفد کے ہمراہ مکہ آئے جو خزرج کے خلاف تعاون چاہتا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کو دعوت اسلام دی اور تلاوت قرآن فرمائی۔ ایاس نے کہا ''واللہ! یہ اس سے بہتر ہے جس کیلئے آپ تشریف لائے ہیں۔'' وفد کے ایک رکن ابوالبیسر نے کنکریاں آپ کے منہ پہ مار کر کہا ''یہ بات چھوڑو ہم یہاں دوسرے مقصد سے آئے ہیں۔'' چنانچہ وہ خاموش ہو گئے۔ یثرب آ کر وہ جلد ہی وفات پا گئے۔ وقت وفات وہ تسبیح و تہلیل میں مصروف تھے۔


ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ
انہیں سوید اور ایاس رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے اپنے بھائی کو مکہ بھیجا لیکن وہ تسلی نہ کر سکے تو یہ خود مکہ پہنچے اور مسجد حرم میں ایک ماہ رہے، زمزم کا پانی پیتے رہے جو کھانا اور پانی دونوں کا کام کرتا ہے۔ لیکن جان کے ڈر سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا نہ پوچھتے۔ بالآخر علی رضی اللہ عنہ ان کو لے کر گئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ملوایا۔ اور وہ مسلمان ہو گئے۔ پھر انہوں نے مسجد حرام میں آ کر اعلان کیا۔ یہ سن کر قریش نے اتنا مارا کہ مر جائیں لیکن عباس رضی اللہ عنہ نے بچا لیا۔ دوسرے دن بھی یہی ہوا۔ اس کے بعد وہ اپنی قوم بنو غفار میں واپس چلے گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ مدینہ ہجرت فرمائی۔ 


طفیل دوسی رضی اللہ عنہ
یہ یمن کے قبیلہ دوس کے سردار تھے اور شاعر تھے۔ 11 نبوت میں مکہ آئے تو اہل مکہ نے انہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اتنا ڈرایا کہ مسجد حرام میں گئے تو کانوں میں روئی ٹھونس لی۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نماز پڑھ رہے تھے تو آواز ان کے کان میں پڑ گئی۔ انہیں اچھا لگا۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے گھر پہنچ کر اسلام قبول کر لیا۔ انہوں نے کہا میری قوم میری بات مانتی ہے، آپ دعا کریں کہ اللہ مجھے کوئی نشانی دے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دعا کی۔ جب وہ اپنی قوم میں پہنچے تو ان کا چہرہ چراغ کی طرح روشن ہو گیا۔ تب انہوں نے دعا کی کہ یہ چہرے سے کہیں اور منتقل ہو جائے جس پر یہ روشنی کوڑے میں نیچے چلی گئی۔ جب انہوں نے قوم کو دعوت دی تو والد اور بیوی نے قبول کی مگر قوم ہجرت مدینہ کے وقت مانی۔ 


ضماد ازدی رضی اللہ عنہ
یہ یمن کے باشندے اور ازدشنوہ سے تھے۔ جھاڑ پھونک کر کے پاگل پن اور جن بھگاتے تھے۔ مکہ آئے تو لوگوں نے کہا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پاگل ہیں۔ یہ آپۖ کا علاج کرنے آئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ''ساری تعریف اللہ کیلئے ہے۔ ہم اس کی تعریف کرتے ہیں اور اسی سے مدد چاہتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے اللہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ اور میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ تنہا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔ امابعد'' ضماد نے اسے تین بار دہرانے کی فرمائش کی پھر کہا ''میں کاہنوں، جادوگروں اور شاعروں کی بات سن چکا ہوں لیکن میں نے آپ جیسے کلمات کہیں نہیں سنے۔ یہ تو سمندر کی اتھاہ گہرائی کو پہنچے ہوئے ہیں۔ لائیے ہاتھ بڑھائیے! آپ سے اسلام پر بیعت کروں۔'' اور انہوں نے بیعت کر لی۔ (جاری ہے)