ڈپریشن کا حل خودکشی ہرگز نہیں

ڈپریشن کا حل خودکشی ہرگز نہیں


بیگم سیدہ ناجیہ شعیب احمد
ہر40  سیکنڈ میں دنیا میں کہیں نہ کہیں ایک مرد خودکشی کرتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مرد اپنے مسائل کے بارے میں کم بات کرتے ہیں یا کم ہی مدد کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ وہ کون سے موضوعات ہیں جن کے بارے میں نوجوانوں کو زیادہ بات کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے؟ 


آج سے چھ ماہ قبل، مارچ کے شروع میں اپر چترال کے علاقے پرواک میں چودہ سالہ صہیب عالم نے گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کر لی۔ ابتدائی رپورٹ میں خودکشی کی وجہ ڈپریشن درج ہوئی۔ خودکشی کے مجموعی واقعات میں بیاسی فیصد افراد کی عمر پندرہ سے تیس سال کے درمیان ہے۔ والدین ابھی تک نہیں سمجھ سکے کہ ایسا کیا ہوا جس کی وجہ سے صہیب عالم نے خودکشی جیسا انتہائی قدم اٹھا لیا۔ صہیب کے والد کرم علی نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ وہ چترال بجلی گھر میں بطور سکیورٹی گارڈ کی نوکری پر تعینات ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صہیب اپنے آبائی گاؤں پرواک، اپرچترال کے ایک پرائیویٹ سکول میں نویں جماعت کا طالب علم تھا۔ بہن بھائیوں میں اس کا نمبر تیسرا تھا۔ وہ انتہائی تیز مزاج کا مالک تھا۔ فٹ بال اور دوسرے کھیلوں میں بڑی دلچسپی رکھتا تھا۔ گھر میں بچے انتہائی دوستانہ ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں۔ گھر والے نہیں سمجھ سکے کہ ایسی کیا بات اس کے اندر ہوئی جس نے اس کو خودکشی جیسے سخت اور تکلیف دہ اقدام پر مجبور کر دیا۔
صہیب کے والد نے مزید بتایا کہ جس دن خودکشی کا حادثہ ہوا حسبِ عادت صہیب نے اپنی ماں سے حلوے کی فرمائش کی۔ اس کی جلالی طبیعت کا خیال رکھتے ہوئے ماں فوراً حلوے کی تیاری میں لگ گئی۔ جب حلوہ کھانے کے لیے تیار ہوگیا تو ماں نے آوازیں دیں مگر صہیب نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس کے کمرے کا دروازہ بند تھا۔ گھر والوں نے دروازہ توڑا تو دیکھا کہ اس نے اپنے ہاتھوں اپنی زندگی ختم کر دی تھی۔کرم علی نے بتایا کہ ان کے آبائی گائوں پرواک پائین میں گزشتہ چند سالوں کے اندر خودکشی کا یہ چھٹا واقعہ پیش آیا اور ان میں کئی ایک کو بچایا جا سکتا تھا کیونکہ ان کی سانسیں چل رہی ہوتی تھیں۔ 


گائوں کے نزدیک ہسپتال اور ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سے وہ کسی کو نہ بچا سکے۔ یہاں تک کہ وہ اپنے بچے کو بھی نہ بچا سکے۔ ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ چترال کے دیہی علاقوں میں ڈپریشن جیسی بیماریوں کی وجہ سے کئی واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ لوگوں کی اس حوالے سے سمجھ بوجھ نہ ہونے کے برابر ہے۔ جبکہ ان کو اس حوالے سے آگہی اور شعور کی اشد ضرورت ہے۔ جیسے کہ صہیب کے والدین جو نہیں جان سکے کہ صہیب کو کیسے بچایا جا سکتا تھا؟ ڈپریشن کی بیماری ان کے خاندان میں موجود تھی کیونکہ ماضی میں صہیب کے ماموں بھی دو مرتبہ خودکشی کی کو شش کر چکے تھے۔ ڈسٹرکٹ پولیس افیسر لوئر چترال محترمہ سونیا شمروز خان نے بتایا کہ خودکشی ایک ایسا المیہ ہے کہ اس کی روک تھام اور تدارک کے لیے معاشرے کے تمام طبقوں کا اپنا کردار ادا کر نا چاہیے۔


نوجوانوں میں خودکشی کے واقعات کی روک تھام کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اور نئی نسل کو مشکلات سے نمٹنے، ڈپریشن اور ذہنی تناؤ کو کم کرنے کے طریقے، تکلیف دہ تجربات سے باہر نکالنے اور معاشی و معاشرتی دباؤ کو کنٹرول کرنے کے گر سکھانا بہت ضروری ہیں۔ پاکستان کے دیہی و پسماندہ علاقوں میں20  سے40  سال کی شادی شدہ خواتین میں خودکشی کے رحجانات زیادہ ہیں اس کی اصل وجہ غربت، بے روزگاری، ذہنی و نفسیاتی امراض ہیں۔ جن جوان عورتوں کے مرد حضرات روزگار کمانے کی خاطر تین چار سال کے قریب گھر سے باہر ہوتے ہیں جس کی وجہ سے گھر میں ان خواتین پر دباؤ ہوتا ہے اور یہ خواتین گھریلو پریشانیوں اور معاشرے کے رسوم و رواج کی بندشوں کی وجہ سے ذہنی کھنچاؤ کا شکار ہو جاتی ہیں جو ان کو اس انتہائی اقدام کی طرف لے جاتا ہے۔


والدین اور بچوں کے درمیان موجودہ جنرنیشن گیپ کو کم کرنے کے لیے آگاہی سیشنز کا انعقاد کرنے، عبادت گاہوں میں مذہبی علماء کے ذریعے اور سکولوں کالجوں میں ماہرین کے ذریعے آگاہی پروگرام اور مہم چلانے کی اشد ضرورت ہے۔ معاشرے کے ہر فرد کو خودکشی کے مسئلے کا ادراک کرنا چاہیے۔ بحیثیت باپ، ماں، ساس سسر، بہن، بھائی اور شوہر بیوی کسی بھی انسان کو اپنی زندگی کا چراغ گل کرنے سے روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔


ایک سروے کے مطابق خود کشی کرنے والی خواتین میں اکثریت شادی شدہ نوجوان خواتین کی ہے جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ شادی شدہ لڑکیوں کے ساتھ ان کے سسرالیوں کا رویہ ایسے انتہائی اقدام کا باعث بنتا ہے۔ کبھی نند، دیور یا ساس کے ناروا سلوک سے تنگ آ کر نوجوان نوبیاہتا دلہن موت کو گلے لگا لیتی ہے۔ تو کہیں بیوی کی ناجائز فرمائشوں ، بے روزگاری سے عاجز ہو کر اعلی تعلیم یافتہ نوجوان خود کو سولی پر لٹکا لیتا ہے۔جب بھی بچی یا بچہ غصے میں آ کر خودکشی کی دھمکی دیتا ہے تو ایسی حالت میں اس دھمکی کو دھمکی برائے دھمکی کے طور پر ہرگز نہیں لینا چاہیے بلکہ معمولی دھمکی کو بھی سنجیدہ لینا چاہیے اور خصوصاً امتحان کے دنوں میں والدین کو اپنے حساس مزاج کے بچوں اور بچیوں کی طرف زیادہ سے زیادہ فکرمند رہنا چاہیے۔
پاکستان کے روایتی دستور، خاندانی اونچ نیچ، مہنگائی، بے روزگاری اور بے بسی کا احساس بڑھنے کی وجہ سے لوگوں میں جینے کی امنگ کم ہوتی جا رہی ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے پاکستان میں خودکشی کے بڑھتے رحجان نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ خودکشی کرنے والے زیادہ تر افراد کی عمریں30  برس سے کم ہوتی ہیں۔ زیادہ تر افراد غربت اور بیروزگاری کی وجہ سے ڈپریشن کا شکار ہو کر اپنی جان لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں، اس کے علاوہ اکثر عورتیں گھریلو تشدد سے تنگ کر اپنی جان لے لیتی ہیں۔ رواں سال 2022 میں خودکشی کرنے والے افراد میں سے اکثریت یعنی82  فیصد کی عمریں15  سے30  سال کے درمیان ہیں۔58  فیصد خواتین نے اپنی جان لی جن میں55  فی صد شادی شدہ تھیں۔ مجموعی طور پر36  فیصد متاثرہ افراد نے دریائے چترال میں ڈوب کر اپنی جانیں لے لیں جن میں اکثریت یعنی77  فیصد خواتین شامل ہیں۔28  فیصد متاثرہ افراد نے خود کو گولی سے اڑا دیا جن میں85  فیصد شرح لڑکوں کی ہے۔ مرنے والوں میں سے باقی نے زہر کھا کر یا پھر گلے میں پھندا ڈال کر خود کو ہلاک کیا۔سوشل میڈیا بمقابلہ حقیقتسوشل میڈیا کے زیادہ استعمال کا اثر انسان کی ذہنی صحت پر ہو سکتا ہے۔


 یونیورسٹی آف پنسلوینیا کی ایک تحقیق کے مطابق جتنا زیادہ وقت ہم سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں اتنا ہی زیادہ ہم تنہا محسوس کر سکتے ہیں اور اداسی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ لیکن اس کا الٹا اثر بھی ہو سکتا ہے۔ سوشل میڈیا انسان کے اصل احساسات کے بارے میں بھی بتا سکتا ہے۔ اس تحقیق کی مصنف ملیسا ہنٹ کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کا عام طور پر معمول سے کم استعمال آپ کو تنہائی اور ڈپریشن میں کمی کی طرف لے کر جائے گا۔ یہ نتائج اور اثرات بطور خاص ان لوگوں کے بارے میں بتائے گئے جو اس تحقیق کا حصہ بنے اور بہت زیادہ ڈپریشن کا شکار تھے۔ لیکن سوشل میڈیا خطرناک بھی ہو سکتا ہے! مشی گن یونیورسٹی میں علم نفسیات کے پروفیسر اوسکر یبارا کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر جو ہوتا ہے وہ کم ہی اصل زندگی کی عکاسی کرتا ہے، اگرچہ ہم اس میں مدد نہیں کر سکتے لیکن موازنہ کر سکتے ہیں۔ تنہائی کے بارے میں بی بی سی اور ویلکم کولیکشن فنڈ کے تعاون سے ہونے والے اپنی نوعیت کے پہلے سروے کے مطابق16  سے24  برس کی عمر کے نوجوان تنہائی محسوس کرتے ہیں۔ مردوں کے لیے تنہائی سے نمٹنا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ جب تنہائی بیماری کی حد تک بڑھ جائے تو یہ جسمانی اور ذہنی صحت پر اثرات مرتب کرتی ہے۔ تنہائی، ڈمینشیا یعنی بھولنے کا مرض، متعدی امراض وغیرہ آپ کے رویے پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ 


بہت سی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ رونے کے عمل سے نہ صرف انسان ہلکا پھلکا محسوس کرتا ہے بلکہ اس سے ہمدردی کے جذبات بھی پیدا ہوتے ہیں اور سماجی تعلقات میں مدد ملتی ہے۔ لیکن یہ لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات چپک گئی ہے کہ مرد رویا نہیں کرتے۔ برطانیہ میں ہونے والے ایک سروے کے مطابق18  سے24  برس کی عمر کے لڑکے یہ سوچتے ہیں کہ رونا مردانگی کی کمی کا عکاس ہے۔


آسٹریلیا میں خودکشی کو روکنے اور ایسے رجحانات رکھنے والوں کی مدد کرنے کے لیے امدادی ادارے، لائف لائن کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر کولمن او ڈرسکول کہتے ہیں کہ ہم لڑکوں کو بہت چھوٹی عمر سے سکھاتے ہیں کہ وہ اپنے جذبات کا اظہار نہ کریں کیونکہ ایسا کرنا کمزوری کی علامت ہے۔ جبکہ ایک تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ایک فیصد بیروزگاری بڑھنے سے خودکشی کی شرح میں اعشاریہ سات نو فیصد اضافہ ہوتا ہے۔ جو بندہ خودکشی کر لے اس کے لیے کیا سزا ہے؟ اور کیا وہ جنت میں جاسکتا ہے، اس کا یہ گناہ معاف ہو سکتا ہے؟ اور خوکشی کی سزا کیا ہے آخرت میں؟


ان تمام سوالوں کے جواب میں ایک معروف عالم دین لکھتے ہیں کہ ہر انسان کی روح اللہ تعالی کی طرف سے اس کے پاس امانت ہوتی ہے جس میں خیانت کرنے کا حق کسی کو بھی حاصل نہیں ہوتا، اس وجہ سے خودکشی کرنا (یعنی اپنے آپ کو خود ہی مارنا) اللہ تعالی کی امانت میں خیانت کرنے کی وجہ سے اسلام میں حرام ہے اور  یہ ایک گناہ کبیرہ ہے، خودکشی کرنے والے کی سزا کے بارے میں مذکور ہے ایسے شخص کو اس طرح  سزا دی جائے گی جس طرح اس نے اپنے آپ کو قتل کیا ہوگا، جیسے کہ مذکورہ حدیثِ شریف میں خودکشی کی مختلف صورتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپۖ نے فرمایا: جس نے اپنے آپ کو پہاڑ سے گرایا اور قتل کیا تو وہ جہنم  کی آگ میں ہمیشہ کے لیے گرتا رہے گا، اور جس نے زہر پی کر اپنے آپ کو قتل کیا تو جہنم کی آگ میں زہر ہاتھ میں پکڑ کر اسے ہمیشہ پیتا رہے گا، اور جس نے کس لوہے کے ہتھیار کے ساتھ اپنے آپ کو قتل کیا تو وہ ہتھیار اس کے ہاتھ میں ہوگا اور ہمیشہ وہ اسے جہنم کی آگ میں اپنے پیٹ میں مارتا رہے گا۔ لہذا اب اگر کوئی شخص خود کشی کو حلال سمجھ کر کرتا ہے تب تو ہمیشہ اس کی یہ سزا ہوگی، اور اگر کوئی شخص مذکورہ گناہ کو مباح سمجھ کر نہیں کرتا تو امید ہے کہ اللہ تعالی اس کو اپنے فضل سے جب چاہے معاف کر کے جنت میں داخل کر دے۔


عام مثل مشہور ہے کہ جہاں چار برتن ہوں گے وہ کھڑکیں گے ضرور۔ دو انسانوں کے درمیان مکمل، صد فیصد ذہنی ہم آہنگی ممکن نہیں ہے۔ یہ عمومی سی بات ہے کہ ہر شخص کی سوچ، مقاصد، نظری و ضابط حیات، زندگی برتنے اور اسے گزارنے کے اصول مختلف ہوتے ہیں۔ ایک ماں کے پیٹ سے جنم لینے والے یا ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے افراد کے مزاجوں میں کتنی ہم آہنگی کیوں نہ موجود ہو، لیکن کبھی نہ کبھی کوئی ایسی بات ضرور وجود میں آ جاتی ہے جس میں کسی ایک کی اختلافی رائے موجود ہو۔ ایسی نازک و حساس صورت میں مخالف فریق کو انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے۔ ہر شخص کو مکمل طور پر اظہار رائے کا حق ہونا چاہیے۔ معاشرے کو اجتماعی اور ہمیں انفرادی طور پر اپنی غلطیوں پر نظرِ ثانی کرنا چاہیے۔ اپنی کوتاہیوں، خامیوں کا اعتراف کرنے اور انہیں سدھارنے میں کوئی جھجھک یا عار محسوس نہیں ہونی چاہیے۔ یہی عظیم انسانوں کا شیوہ ہے۔ بعض والدین اپنے اختلاف و جھگڑوں میں بلاوجہ اپنی اولاد کو گھسیٹتے ہیں، انہیں اپنے سرد و ترش رویوں سے زچ کر کے رکھ دیتے ہیں۔ اکثر گھرانوں میں دیکھا گیا ہے کہ مائیں اپنے بچوں کے کان میں باپ یا ددھیال کے خلاف زہر اگل رہی ہیں یا والد صاحب موقع ملتے ہی اولاد کو اس کی ماں یا ننھیال کے خلاف بھڑکانے سے باز نہیں رہتے۔ 


ذرا سا سوچنے کی بات ہے کہ آپ کس کا خون زہر آلود کر رہے ہیں؟ آپ تو لڑ بھڑ کے پھر مفاہمت کر لیں گے مگر اس جنگ میں آپ کے بچے تنہا رہ کر اپنی جان کی بازی ہار جائیں گے۔ لڑائی جھگڑے، تنازعات و اختلافات کس گھر میں نہیں ہوتے لیکن کامیاب وہی لوگ ہیں جو اپنے جھگڑوں اور تنازعات کو اپنے گھروں سے باہر نہیں نکالتے بلکہ گھر کی چار دیواری میں ہی ہر اٹھنے والے جھگڑے کو دفن کر دیتے ہیں۔ گھریلو معاملات خراب ہونے کی صورت میں ایک دوسرے کو بولنے کا موقع دینا چاہیے۔ مثبت سوچ اور مناسب و بروقت الفاظ کا درست چناؤ بڑی سی بڑی ٹینشن اور مسئلے کو چٹکیوں میں حل کرنے میں بہترین معاون ثابت ہوتا ہے۔ حالات کے دباؤ میں آ کر اپنی جان لینے کے بجائے اپنی پریشانیوں کے خاتمے کے لیے خالق حقیقی اللہ رب العالمین سے مدد طلب کریں۔ قرآن و سنت کی روشنی میں اپنے مسائل کا حل دریافت کریں۔ اپنے دل دماغ اور روح کو تروتازہ رکھنے کی کوشش کریں اور خودکشیجیسے قبیح فعل سے کوسوں دور رہیں۔