گرمی کی چھٹیاں

گرمی کی چھٹیاں

تحرير: کاشف سلطان ساحل

گرمی کی چھٹیاں ایسے ہی خاص ہیں جیسے گرمیوں میں برف اور آم کو سمجھا جاتا ہے۔ چھٹیوں کے حوالے سے جو جذبہ، جوش اور ولولہ بچوں میں پایا جاتا ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔ تین مہینے کی گرمی کی چھٹیاں ایسے سمجھا جاتا تھا جیسے ہم جہنم سے نکل کر جنت کی طرف جا رہے ہیں۔ ہر جماعت میں تین طرح طلبا پائے جاتے ہیں؛ ایک وہ جو بہت زیادہ ذہین اور نمایاں پوزیشن کے حامل ہوتے ہیں، ایک ذرا درمیانے درجے کے ہوتے ہیں اور تیسرے نمبر پہ وہ جنہیں بس ''اللہ لوگ'' کہا جا سکتا ہے۔ تیسرے طبقے کے لوگوں کا جوش و جذبہ ایسا ہوتا ہے جیسے کہ ملک فتح کر لیا ہو اور اب واپس گھر کی طرف روانگی ہو۔ تاریخ کے سنہرے اوراق میں لکھا گیا ہے کہ ایک مہینہ پہلے ہی تیسرے طبقے کے لوگ اساتذہ کرام سے چھٹیوں کا پوچھ پوچھ کر ان کا سر کھا جاتے تھے۔ جس دن چھٹیوں کا اعلان ہوتا اس دن ایک الگ ہی ماحول نظر آتا تھا۔ اس دن خوشی منانے کا سب سے بڑا طریقہ یہ ہوتا تھا کہ لڑکوں نے انک یا سیاہی میں پانی ملا کر نیلے اور کالے رنگ کی بوتلیں بھر رکھی ہوتی تھیں اور پھر وہ ایک دوسرے پر پھینک کر رنگوں میں نہلا دیتے تھے۔ چھٹی ہوتے ہی سب کی دوڑیں لگتی تھیں پھر مجھ جیسے کمزور، ناتواں، نازک طبع اور بدن بمثلِ پھول طلبہ ڈر کے مارے ایک طرف دبک جاتے تھے کہیں ہمیں روند ہی نہ دیا جائے۔ مجھے اس چیز سے بہت خوف آتا تھا کیوں کہ اکثر اوقات جب پی ٹی صاحب دوڑ لگواتے تو کئی بار لڑکوں نے فٹ بال سمجھ کر مجھے گھسیٹا تھا۔ گرمی کی چھٹیوں کی سب سے بڑی سوغات ''گرمی کی چھٹیوں کا کام'' ہوا کرتی تھی۔ گھر جاتے ہی ہم پہلا ارادہ یہی کرتے کہ ایک ہی ہفتے میں دن رات بیٹھ کر چھٹیوں کا سارا کام مکمل کر لیں گے اور باقی کے سارے دن آرام سے کھیلیں گے اور کودیں گے۔ مکس دستہ، (جس میں آدھے اردو کے، انگریزی کا، ریاضی کا اور سائنسی مضامین کے صفحات شامل ہوتے تھے) قلم، مارکر وغیرہ سب لوازمات پہلے ہی دن لے کر رکھ لیتے۔ دستے کے اوپر اخبار چڑھا کر اسے سوئی دھاگے سے سی لیا جاتا اور پھر بڑے نمایاں الفاظ میں دستے پہ ''گرمی کی چھٹیوں کا کام'' لکھا کرتے اور پھر جب ایک چیز کا کام ختم ہو جاتا تو آخر پہ بڑا سا تیر بنا کر ختمہ کرتے اور پھر ایک صفحہ چھوڑ کر ''دی اینڈ'' لکھنے کی الگ خوشی ہوتی تھی۔ خدا گواہ ہے کام کرنے کا یہ بھوت ابتدائی دنوں میں جتنا شدید انداز سے سوار ہوتا اتنا ہی جلد اتر بھی جایا کرتا تھا۔ اس کے بعد گھر والے ہمارے پیچھے پیچھے اور ہم آگے آگے ہوتے تھے۔ تاریخ گواہ ہے کہ چھٹیوں کا کام نہ تو کبھی مکمل لکھا گیا اور نہ ہی کبھی چیک ہوا۔ اصل موت تو اس وقت پڑتی تھی کہ جب گرمی کی چھٹیوں کا سفر اپنے اختتام کے قریب ہوتے ہوئے ایک دن وصالِ سکول کا وقت بھی آن پہنچتا تھا خصوصاً پہلے دو چار دن تو سب کچھ نیا نیا لگتا تھا، سب طالب علموں کا منہ لٹکا ہوا ہوتا تھا سب سے بڑا ڈر یہ ہوتا تھا کہ استاد صاحب چھٹیوں کا کام چیک کریں گے، مزہ تو تب آتا تھا جب ہر کسی کے پاس ایک ہی بہانہ ہوتا تھا کہ ''استاد جی رجسٹر گھر رہ گیا ہے۔'' اکثر استائذہ کام چیک کرتے تھے جس کا نامکمل ہوتا تو اس کو3  بار لکھنے کو دے دیتے۔ اور پھر کام چیک کروا کر ہم اس دستے کو بیچ کر پتیسہ کھا لیا کرتے تھے:
میرے بچپن کے دن ،کتنے اچھے تھے دن
آج بیٹھے بٹھائے کیوں یاد آ گئے
میرے بچھڑوں کو مجھ سے ملا دے کوئی
میرا بچپن کسی مول لا دے کوئی
کیسے سہانے دن تھے پرانے
اک اک کھیل میں سو افسانے
سب کے سب وہ فسانے سنا دے کوئی
میرا بچپن کسی مول لا دے کوئی