بونیر ، کان کنی میٹریل کی سپلائی ضلعی انتظامیہ کی سرپرستی میں کرپشن عروج پر

بونیر ، کان کنی میٹریل کی سپلائی ضلعی انتظامیہ کی سرپرستی میں کرپشن عروج پر


پشاور(شہباز رپورٹ)ضلع بونیر میں کان کنی کیلئے میٹریل سپلائی کی مد میں کرپشن کا بازار گرم،ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کانوں کو کرنٹ بھتی اور بارود کی سپلائی پر پابندی سے ضلعی انتظامیہ کی سرپرستی میں بلیک میں فروخت جاری،ضلعی انتظامیہ بونیر کی جانب سے ماربل کان کنی میں استعمال ہونے والے میٹریل پر پابندی سے بونیر مرادن اور نو شہرہ ماربل انڈسٹری کو ماربل سپلائی نہ ہونے سے ہزاروں کارخانے بند ہونے کا خدشہ،ضلعی انتظامیہ نے امن امان کی خراب صورتحال کے پیش نظر ماربل کانوں میں بلاسٹنگ کیلئے درکار کرنٹ بھتی،اور بارود کی سپلائی پر پابندی عائد کردی جس سے ماربل کارخانوں کو سپلائی بند ہوگئی ہے۔


عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے روزنامہ شہباز کو بتایا کہ ایک طرف صوبائی حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ صوبے میں حالات ٹھیک ہے اور دوسری جانب ضلع بونیر میں ماربل کان کنی میں بارود کی سپلائی پرامن امان کی خراب صورتحال کے پیش نظر پابندی عائد کرتی ہے


انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت خیبر پختونخوا میں ماربل سیکٹر سمیت تمام محکموں میںکرپشن کا بازار گرم ہے اور نیب خیبر پختونخوا صوبے کے 4 کروڑعوام کی برداشت کا امتحان نہ لے گزشتہ 10 سالوں سے پختونخوا میں جس طرح کرپشن جاری ہے اور نیب نے اس کرپشن پر خاموشی اختیار کرلی ہے تو اس صوبے کے عوام بہت جلد نیب آفس کے سامنے دھرنا دینے پر مجبور ہونگے،صوبائی حکو مت نے عمران خان کو سرکاری وسائل استعمال کرنے کیلئے قانون سازی کی ہے،صوبائی حکومت ایوان عددی اکثریت سے صوبے کے وسائل میں جس طرح کرپشن کا بازار گرم رکھا ہے اس کے خلاف ہر فورم پر اپنی آواز اٹھائینگے۔


 اس سلسلے میں بونیر کے لیز ہولڈروں نے رابطہ کیا ہے اس اہم مسئلے کو ہم نے پہلے بھی ایوان میں اٹھایا تھا اب بھی اس کو اٹھائیں گے کیونکہ بونیر ماربل سیکٹر کے لاکھوں افراد کا روزگار اس سے وابستہ ہے،


لیز ہولڈر کے مطابق ضلع بونیر کے لیز ہولڈر کے مطابق ماربل اور دیگر قدرتی معدنیات سے مالا مال ضلع بونیر جس سے سرکاری خزانے مختلف مدوں میں سالانہ اربوں روپے کی محصولات مل رہی ہے،بونیر سے منتخب نمائندوں کو کئی بار آگاہ کرنے کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ملی،چالیس ہزار کی کرنٹ بتی ضلعی انتظامیہ کی سرپرستی میں ستر ہزار روپے میں بلیک فروخت جاری ہے ان تمام غیر قانونی سرگرمیوں ضلعی انتظامیہ کے اہلکار ملوث ہیں،پہلے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے درجنوں کارخانے بند ہوئے آب یہاں پر ضلعی انتظامیہ میٹرئیل کی سپلائی پر پابندی کی وجہ سے ماربل سیکٹر سے وابستہ لاکھوں افراد کا روزگار خطرے میں پڑ گیا ہے۔

 

سابق سپیکر پختونخوا اسمبلی بخت جہان ایڈوکیٹ نے روزنامہ شہباز کو بتایا کہ ضلع بونیر میں بیشتر لوگوں کا روزگار ماربل سے وابستہ ہے اس وقت حکومت کی سرپرستی میں اور سرکاری گاڑیوں بارود کی سپلائی بلیک میں کی جارہی ہے ضلعی انتظامیہ کی اس اقدام سے یہاں پر لاکھوں لوگوں کی روزگار بند ہونے کا خدشہ ہے اس سلسلے میں ہم تمام سیاسی جماعتیں اپنی لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں ہم کسی کو رزق حلال میں روکاوٹیں ڈالنے والوں کے خلاف ہر میدان سامنا کرینگے،اس سلسلے میں بہت جلد تمام سیاسی جماعتوں سے رابطہ کرینگے۔

 

ضلع بونیر سے پی ٹی آئی کے ممبر صوبائی اسمبلی سید فخر جہان نے بتایا کہ ماربل انڈسٹری کے بلاسٹنگ بارود کی فروخت کیلئے جو لائسنس جاری کیئے انہوں نے دیگر اضلاع میں بارود فروخت کیئے جس پر انکے لائسنس معطل کردیئے گئے ہیں،اس وقت بونیر میں ایک ہی لائسنس فعال ہے جو کان کنی کے لئے بارود اور کرنٹ بتی فروخت کرتا ہے دیگر لائسنس خلاف ورزی پر معطل کردیئے گئے جس کی وجہ سے اس سیکٹر کو مشکلات کا سامنا ہے

 

 بونیر ماربل انڈسٹری ایسوسی ایشن کے سینئر نائب صدر گلروز خان نے روزنامہ شہباز کو بتایا کہ ضلعی انتظامیہ کی اس اقدام سے نہ صرف بونیر میں چھ سو سے زائد ماربل انڈسٹری متاثر ہوگی بلکہ مردان،رسالپور،اور جانگیرہ انڈسٹری زون کو بھی سپلائی بند ہوگی جس سے لاکھوں لوگوں کے بے روزگار ہونے کا خدشہ ہے،اس سے قبل جب بونیر میںماربل انڈسٹری نے ایک ماہ ہڑتال سے جو سروے سامنے آیا تھا اس سے تین لاکھ سے زائد وابسطہ افراد متاثر ہوئے تھے آب اگر بونیر سے دیگر اضلاع کے کارخانوں کو سپلائی بند ہوجاتی ہے تو اس تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوگا اس وقت ایک لیز میں تین سو ملین روپے کی مشینری لگی ہے جبکہ ایک لیز درجنوں افراد برسرے روزگار ہے،

 

بونیر لیز مائننگ ایسوسی ایشن کے صدر فضل ربی نے شہبازکوبتایا کہ اس وقت صرف بونیر لیز ہولڈر کی تعداد 8  سے زائد ہے جو نہ صرف بونیر کے ماربل انڈسٹری کو سپلائی کرتا ہے بلکہ دیگر اضلاع کے کارخانوں میں بونیر کے ماربل بڑی تعداد سپلائی ہورہا ہے آب حکومت کی اس اقدام سے یہاں پر نہ صرف لیز ہولڈر متاثر ہونگے بلکہ ماربل انڈسٹری کی بندہونے کا خدشہ بھی ہے جب کان کنوں پر پابندی کے باعث سپلائی بند ہوجائیگی تو کارخانے بھی بند ہونگے،ان علاقوں میں پٹرول پمپس،ہوٹلز،ٹرانسپورٹ،سپیئر پارٹس کے دوکانیں بھی بند ہوگی۔