صوابی اور بونیر کو آفت زدہ قرار دیا جائے

صوابی اور بونیر کو آفت زدہ قرار دیا جائے

ملکِ عزیز اس وقت حالیہ سیلابوں کے اثرات سے گزر رہا ہے، بحالی کا ایک طویل اور کٹھن آزما مرحلہ سر پر ہے، سیلاب متاثرین ابھی تک محفوظ مقامات پر نہیں پہنچ پائے کہ بارشوں اور برفباری کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا، صوابی اور ضلع بونیر سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں شدید ژالہ باری نے رہی سہی کسر نکال کے رکھ دی ہے۔ بالخصوص مذکورہ بالا دونوں اضلاع میں اولے کثرت سے پڑے جو مکئی کی فصلوں کے لیے شدید خطرناک ہیں۔ جو فصلیں سیلاب سے متاثر نہیں ہوئی تھیں وہ ژالہ باری کی نذر ہو رہی ہیں خاص طور پر  تمباکو، مکئی اور سبزیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ افسوس ناک امر یہ بھی ہے کہ کچھ دنوں میں مکئی کی بوائی ہونے والی تھی لیکن مسلسل شدید بارش اور ژالہ باری نے کاشتکار کو مزید بد حال کر دیا۔ ایسے علاقے جن میں ایسی آفات درپیش ہوں انہیں آفت زدہ قرار دے کر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ وفاقی حکومت ان علاقوں کے مکینوں اور کاشتکاروں کی بھی مالی معاونت اس لئے بھی کرے کہ موجودہ وقت میں صوبائی حکومت خود مبینہ طور پر مالی بحران کا شکار ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ملک وقوم کے نقصان کا بھی ازالہ کرے۔ ان علاقوں میں طوفانی ہواؤں اور بارشوں سے درجنوں درخت اکھڑنے کے علاوہ بجلی کے کھمبے بھی اکھڑ گئے ہیں ان کو دوبارہ نصب کرنے کا کام جلد از جلد کیا جائے اور تمام مواصلاتی نظام بھی دوبارہ بحال کیا جانا چاہیے۔ بونیر میں بھی دو دن تک بارشوں کا سلسلہ جاری رہا، ژالے باری اور  بارش نے موسم انتہائی ٹھنڈا کر دیا ہے، دوردراز علاقوں میں بجلی کی سپلائی معطل ہو گئی ہے۔ بونیر کی تمام تحصیلوں میں بارش اور پہاڑی علاقوں میں برف باری کی پیشین گوئی ہو چکی تھی، محکمہ موسمیات نے بارش اور برفباری کے بارے میں ضلعی انتظامیہ کو بتا دیا تھا۔ محکمہ موسمیات نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موسلادھار بارشوں سے مقامی ندی نالوں میں فلیش فلڈ اور بالائی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ درپیش ہے۔ ضلعی انتظامیہ کو چاہیے کہ ایسے علاقوں میں چھوٹی اور بھاری مشینری کی دستیابی ہر قیمت پر یقینی بنائے۔ ڈی جی پی ایم اے نے لنک روڈ کی بحالی کے لیے بھی چھوٹی اور بھاری مشینری کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایات دی ہیں اور اب ان ہدایات پہ عملدرآمد کروانا ضلعی انتظامیہ کا کام ہے۔ سیلاب متاثرین کی بحالی اور ان کو محفوظ مقامات پر پہنچانے کا کام تیز ترین ہونا چاہیے تاکہ آئندہ کے موسمی حالات ان کی پریشانیوں میں مزید اضافہ نہ کر سکیں۔ اس کے علاوہ سیاحوں کو بھی محتاط رہنے کی ہدایت کی جائے اور انتظامیہ موسم اور علاقے کے حالات کے بارے میں سیاحوں کو مکمل معلومات فراہم کرے تاکہ کسی ناخوشگوار واقعہ سے بچا جا سکے۔ پی ڈی ایم اے نے ایمرجینسی نمبر 1700  بھی ہیلپ لائن میں ڈال دیا ہے تاکہ خدانخواستہ کسی مشکل میں مدد حاصل کی جا سکے۔ سیلاب متاثرین کی بیماریوں میں اضافہ ہو چکا ہے؛ بدلتے موسم اور اترتے سیلاب نے انہیں کھانسی، بخار، سینے میں تکلیف، بخار، گیسٹرو، ڈائیریا اور قبض جیسے امراض میں جکڑا ہوا ہے، لاکھوں خواتین پردے کی وجہ سے کھانے پینے کی شدید قلت اور رفع حاجت کی صعوبت سے بچنے کی وجہ سے مزید کم کھا رہی ہیں جس سے ان کی صحت خراب تر ہو رہی ہے، حاملہ خواتین بہت مشکل میں ہیں۔ ابھی تک حکومت سیلاب زدگان کی مصیبت اور ناگہانی آفت سے انجان بننے پر تلی ہوئی ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق سیلاب زدہ علاقوں میں جن افراد نے بینک سے قرض لے کر اپنی فصلوں کے لیے کھاد بیج خریدے تھے یا جنہوں نے اپنے مکان کی تعمیر کے لیے حکومتی بینکوں سے قرض لیا تھا سیلاب کی ناگہانی آفت میں قلاش اور مجبور ہو چکے ہیں لیکن بینک کے ریکوری افسران بے حسی دکھاتے ہوئے قرضے کی واپسی کے لیے پہنچ گئے، حکمران سیاستدان اپنی سیاسی رنگ بازیوں میں بالکل بھول چکے ہیں کہ سیلاب تو گزر گیا لیکن اپنے پیچھے کس قدر خوفناک حالات چھوڑ گیا ایسے علاقے جہاں سیلاب نے تباہی مچائی جن کے گھر مویشی اور فصلیں تباہ و برباد ہو گئیں ان کیلئے قرضے معاف کرنے کی سکیم نکالی جائے۔ جو بیرون سے مالی امداد ہوئی ہے اس کو شفاف طریقے سے سیلاب متاثرین اور سیلاب زدہ علاقوں کی تعمیر و ترقی پر خرچ کیا جائے اور آنے والے موسمی حالات کے پیش نظر جتنی فصلیں اور مویشی ہیں ان کی حفاظت کا انتظام ممکن بنایا جائے۔ تعفن زدہ علاقوں پہ جراثیم کش دوا کا سپرے کرنا لازم بنایا جائے، غذائی قلت کو پورا کرنے کے ساتھ علاج معالجے کی سہولیات کو بھی یقینی بنایا جائے کیونکہ آنے والا موسم مزید پریشانیاں بڑھانے کا سبب بن سکتا ہے۔ تمام سڑکیں اور پل جد ازجلد تعمیر کئے جائیں تاکہ برفباری میں آمد و رفت میں کم سے کم مشکل اٹھانی پڑے، سیاحوں کے لیے خاص سیل ہوں کہ کن علاقوں میں کب جانا بہتر ہو گا مکمل معلومات فراہم کی جائیں، سیلاب زدگان کو سر چھپانے کے لیے اپنے گھر بنانے کے کام میں شدید مالی تعاون کی ضرورت ہے وہ بروقت کیا جائے کیونکہ ابھی ان ساری آفتوں سے چشم پوشی کرنے سے حالات مذید خراب سے خراب تر ہوتے جائیں گے۔ بالخصوص صوابی اور بونیر کے کاشتکاروں کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے ان اضلاع کو آفت زدہ قرار دیا جائے اور متاثرہ لوگوں کے ریلیف کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کی جائے۔