یوم شہدائے ٹکر  تاریخ  کے اوراق میں

یوم شہدائے ٹکر  تاریخ  کے اوراق میں

تحریر: مسلم صابر

پختون قوم کی اس سے زیادہ بدقسمتی اور کیا ہو سکتی ہے کہ یہ لوگ اپنی تاریخ، تمدن، ثقافت اور زبان کے بارے میں نہ کبھی سنجیدہ رہے ہیں اور نہ آئندہ نسلوں کی رہنمائی کے لیے اپنے مشاہیر اور اسلاف کے کارناموں کو کاغذ کے اوراق میں محفوظ کر گئے ہیں بلکہ وہ کارنامے اور قر بانیاں جو اگر کسی دوسری قوم کی میراث میں ہوتیں تو ان سے آج تاریخ کی کتابیں بھری ہوتیں لیکن صرف یہی پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ ہم نے کارناموں اور قربانیوں کو افسانے اور کہانیاں بنا دیا ہے۔

 

28 مئی 1930 کے دن فجر کی آذان سے پہلے انگریز فوج نے تاریخی گاؤں ٹکر کا محاصرہ کر لیا اور دنیا نے انگریز کی وہ بربریت بھی دیکھ لی جس کو تاریخ میں ٹکر کی جنگ سے یاد کیا جاتا ہے۔ آج سے 92 سال قبل 1930 کا زمانہ تھا اور پختون قوم نے پاکستان کی آزادی کے لیے کمر کس لی تھی اور ہر میدان پر انگریزوں کے خلاف لڑ  رہے تھے۔ پشاور شہر میں قصہ خوانی کا خونی واقعہ 23 اپریل کو رونما ہو چکا تھا۔ فضا بوجھل اور افسردہ تھی۔ انگریزوں کے خلاف غم و غصہ زوروں پر تھا۔ خدائی خدمتگار تحریک بھی اس زمانے میں زوروں پر تھی۔ پشاور اور اتمانزئی کے بعد تخت بھائی کے مشہور گاؤں ٹکر اور نواحی علاقوں کو خدائی خدمتگاروں کا گڑھ سمجھا جاتا تھا اور خدائی خدمتگار تحریک کے تمام برے بڑے رہنماوں کا ہیڈ کوارٹر تھا۔

 

اس تحریک کو ختم کرنے کے لیے انگریز یہاں کے سرکردہ لیڈروں کو گرفتار کر رہے تھے لہذا 26 مئی 1930 کو انگریز پولیس کپتان (مرفی) پولیس دستے کے ساتھ تاریخی گاؤں ٹکر آیا، اس وقت ملک ماصم خان کے حجرے میں بہت سے لوگ اور خدائی خدمتگار جمع تھے۔ پولیس کپتان مرفی نے کہا کہ میں ٹکر کے ملک ماصم خان، سالار شمروز خان اور خان بادشاہ، موضع پاتئی کے پیر شہزادہ اور فضل آباد کے ملک عبد الحمید کو گرفتار کرنے آیا ہوں بہتر ہو گا کہ آپ لوگ بہ رضا و رغبت ان لوگوں کو ہمارے حوالے کریں۔ اس بات پر سید رحیم شاہ باچا عرف بگل باچا اور پولیس کپتان مرفی کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور پولیس نے ملک ماصم کے حجرے میں بگل باچا کو بہت زیادہ زدوکوب کیا۔ آخرکار فیصلہ ہوا کہ کل مورخہ 27 مئی 1930 کو ہم ان پانچوں خدائی خدمتگاروں کو ایک جلوس کی شکل میں مردان لے جائیں گے اور یہ لوگ خود گرفتاری دے دیں گے۔ 

 

گاؤں کے اکثر مرد یا تو گرفتار تھے یا روپوش تھے اور جو موجود تھے وہ گھروں میں محبوس کر دیئے گئے تھے، عورتوں بچوں کو مارا پیٹا جا رہا تھا، ان کی بے حرمتی کی جا رہی تھی، گھروں سے آٹا، گندم اور دوسرا سامان نہر کے پانی میں پھینکا جا رہا تھا، مردوں کی پکڑ دھکڑ مارکٹائی کی جا رہی تھی۔ 
اگلے روز ایک بہت بڑا جلوس ان پانچوں افراد کو لے کر پیدل ٹکر سے مردان کے لیے روانہ ہوا، جلوس کے ساتھ ساتھ ڈھول بج رہا تھا۔ جلوس میں شریک پرجوش لوگ نعرہ تکبیر (اللہ اکبر) کے نعرہ لگا رہے تھے جس کو دیکھ کر لوگ جوق درجوق جلوس میں شامل ہو تے رہے۔ مردان پہنچنے سے پہلے یہ جلوس ایک ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمند ر میں تبدیل ہو گیا جس کو دیکھ کر انگریز فوج اور پولیس نے علاقہ گوجر گڑھی کے مقام پر جلوس کو روکا اور مردان جانے کی اجازت نہ دی اور اصرار کرتے رہے کہ ان پانچوں افراد کو یہاں ہمارے حوالے کرو۔ بس اسی بات پر فوج خدائی خدمتگار اور پولیس آپس میں گتھم گتھا ہو گئے اور مار کٹائی شروع ہو گئی۔ پولیس کپتان مرفی بڑے تکبر کے ساتھ اپنے گھوڑے پر سوار جلوس کے اندر گھس گیا اور بذات خود لوگوں کو مارنا شروع کر دیا۔ گولی چلنے کی آواز آئی اور چشم زدن میں انگریز پولیس کپتان مرفی کو کسی نے گھوڑے سے نیچے زمین پر پٹخ دیا۔ اس زمانے میں عورتیں جلسے اور جلوس میں مٹکے بھر بھر کر لوگوں کے لیے پانی لاتی تھیں۔ مرفی کے زمین پر گرتے ہی عورتوں نے پانی سے بھرے مٹکے اس پر پھینکنا شروع کر دیئے جس سے مرفی موقع پر ڈھیر ہو گیا۔ 

 

اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مرفی کو کس نے مارا؟ یہاں اس بارے میں دو آراء  ہیں۔ علاقہ ڈنڈاو کے سلطان پہلوان کا دعویٰ تھا کہ گھوڑے پر سوار مرفی پر پستول سے فائر میں نے کیا تھا، گولی لگتے ہی نیچے زمین پر گرا اور جلوس میں شامل عورتوں کے مٹکے پھینکنے سے مر گیا۔ سلطان پہلوان کے دعوے کی تائید پاتئی کلی کے جرنیل گل شرف، موضع ٹکر کے ملک ماصم خان، سالار شمروز خان، کالو شاہ کے حاجی مغل خان کر رہے تھے جبکہ کئی سرکردہ خدائی خدمتگار وں کا اصرار تھا کہ پولیس کپتان مرفی کو تخت بھائی کے علاقہ کوٹ روڈ امین کلی کے امین اور سید امین خان نامی دو بھائیوں نے مارا ہے، ایک نے گولی ماری اور دوسرے نے زمین پر پٹخ دیا لیکن اس بات پر اکثر خدائی خدمتگار متفق تھے کہ مٹکا علاقہ گوجر گڑھی کی ایک بہادر اور عمررسیدہ عورت (سواتئی آبئی) نے مارا تھا۔ بہرحال کرشمہ قدرت دیکھیے کہ مرفی کے مرتے ہی زبردست آندھی اور طوفان آیا، کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا، لوگ افراتفری میں ادھر ادھر بھاگنے لگے، اگر اندھی نہ آتی تو پتہ نہیں اس وقت جدید اسلحہ سے لیس انگریز فوج کتنا اور کیسا قتل عام کرتی کیونکہ 1930 میں انگریز حکومت میں ایک انگریز کپتان کو قتل کرنا کوئی معمولی واقعہ ہرگز نہیں تھا۔  

 

بہرحال یہی بیان کردہ عوامل تھے جو واقعہ یوم ٹکر کا سبب بنے۔ اگلی صبح 28 مئی آذان سے پہلے انگریز فوج نے تاریخی گاؤں ٹکر کا محاصرہ کر لیا اور دنیا نے انگریز کی وہ بربریت بھی دیکھ لی جس کو تاریخ میں ٹکر کی جنگ سے یاد کیا جاتا ہے۔ گاؤں کے اکثر مرد یا تو گرفتار تھے یا روپوش تھے اور جو موجود تھے وہ گھروں میں مقید کر دیئے گئے تھے، عورتوں بچوں کو مارا پیٹا جا رہا تھا بے حرمتی کی جا رہی تھی گھروں سے اٹا،گندم،اور دوسرا سامان نہر کے پانی میں پھینکا جا رہا تھا مردوں کی پکڑ دھکڑ مارکٹائی کی جا رہی تھی۔ کہتے ہیں کہ ایک گھڑ سوار کسی طرح سے محاصرے سے نکلنے میں کامیاب ہو گیا جس نے اناً فاناً علاقے کے لوگوں میں منا دی کرا دی کہ ٹکر گاؤں پر انگریزوں نے حملہ کیا ہے۔ اس بزرگ کا نام امین گل بابا بتایا جاتا ہے۔ خبر کے سنتے ہی لوگ کام کاج چھوڑ کر جوق درجوق ٹکر کی طرف دوڑنے لگے۔ میلوں دور دیہاتوں کے لوگ بڑی بڑی ٹولیوں میں ٹکر کی طرف روانہ ہوئے۔ انگریز فوج نے جب دیکھا کہ پوری قوم مقابلے پر اتر آئی ہے تو لوگوں کو ڈرانے کے لیے مشین گنوں سے زبردست فائرنگ کا سلسلہ شروع کیا، فائرنگ سے شیشم کے درختوں کے پتے زمین پر جھڑنے لگے اور یہیں پر یہ تاریخی اور لا زوال گیت یا ترانہ معرض وجود میں آیا،

پہ ٹکر جنگ دے گولئی  وریگی
او ونے پانڑے رجوینا، پہ ٹکر جنگ دے 

(ٹکر میں جنگ جاری ہے، گولیاں برس رہی ہیں اور درخت پتے جھڑ رہے ہیں)۔ گل جان ماما کے بیان کے مطابق جب ہم ٹکر کے قریب پہنچے تو ہم سے پہلے علاقہ ایتکئی، ساڑوشاہ اور تمبولکوں کا ایک چھوٹا جلوس انگریز فوج کے ساتھ گتھم گتھا تھا اور ٹکر پل پر لگی مشین گنوں پر قبضہ کرنے کی کوششوں میں تھے جس سے کافی تعداد میں لوگ شہید اور زخمی ہو گئے۔ جب علاقہ جلالہ، تخت بھائی، بہلولہ، پیر سدئی، تورڈھیر اور ملحقہ تمام دیہاتوں کے لوگ پہنچ گئے اور انگریزوں نے دیکھا کہ اب یہ لوگ مرنے پر تلے ہوئے ہیں اور مقابلہ آسان نہیں تو آہستہ آہستہ پسپا ہونا شروع ہو گئے۔ کہتے ہیں کہ انگریز فوج اپنی کئی لاشوں کو اپنے ساتھ لے گئی۔ 

 

افغانستان سے شائع ہونے والے ایک کتاب (د خپلواکئی تڑون) کے مطابق 70 افراد شہید اور 150 زخمی ہوئے تھے۔ خدائی خدمتگار مرحوم حاجی مغل خان کی وساطت سے جن شہدائے ٹکر کی قبریں معلوم ہیں ان کے نام درج ذیل ہیں: 

شہید جمعہ سید ملیانو کلے کالو شاہ کے مقبرے میں مدفون ہیں۔ 

شہید صنو بر کاکا برہ تمبولکو کے محمد دین کے والد بہلولہ کے مقبرے میں دفن ہیں۔ 
علاقہ ایتکئی کا سربلند کاکا جو کہ حاجی فیض گل کا بھائی تھا ٹکر کی جنگ میں زخمی ہوئے تھے، ایک سال بعد فوت ہوئے۔ 

شہید زڑور خان جو تپہ کے صدر حاجی محمد روز کے بھائی تھے محمد روز کلے کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔ 

باغی شاہ کورونہ ویتکئی کے گل زمان شہید کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ٹکر میں سب سے پہلے گولی ان کو لگی اور یہ سب سے پہلے شہید ہیں۔ ڈاکٹر ظاہر شاہ نے ساڑوشاہ کے مقبرے میں تین مزید شہداء کی قبروں بارے معلومات حاصل کی ہیں۔ 

یاد رہے کہ ہر سال 28 مئی کو تاریخی گاوں ٹکر میں شہدائے ٹکر  کی یادگار  پر عوامی نیشنل پارٹی یوم شہداء ٹکر مناتی ہے۔ یوم شہدائے ٹکر کے جلسوں میں باچا خان، خان عبدالولی خان، اجمل خٹک، افضل خان لالہ، عبد الخالق خان، شہزاد گل باچا، بیگم نسیم ولی خان، اعظم خان ہوتی، اسفندیار ولی خان، فرید طوفان اور موجودہ مرکزی سینئر نائب صدر حیدر خان ہوتی جیسے بڑے لیڈر  باقاعدگی کے ساتھ منعقدہ تقریبات میں شرکت کرتے اور یوم شہدائے ٹکر کو بہت عقیدت اور احترام کے ساتھ مناتے تھے لیکن اب یوم شہدائے ٹکر کی تقریبات کارنر میٹنگز تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ اب دیکھنا ہے کہ اس سال کسی شایان شان طریقے سے یوم ٹکر منایا جائے گا یا پھر وہی کارنر میٹنگز ہوں گی، یہ آج معلوم ہو چکا ہو گا۔