طالبان کی واپسی اور پاکستان کے مفادات

طالبان کی واپسی اور پاکستان کے مفادات

تحریر: شمیم شاہد

کابل پر دوبارہ قبضہ کرنے میں تحریک طالبان افغانستان کی ''پوشیدہ'' حمایت کے حوالے سے پاکستانی حکام کی جانب سے جو بھی دعوے، جواز اور وضاحتیں ہو سکتی ہیں لیکن اب طالبان پاکستانی عسکریت پسندوں کی حوصلہ افزائی بھی کر رہے ہیں۔ شدت پسندی کے رجحانات کی حوصلہ افزائی اب پاکستانی حکام کیلئے ملک کے اندر اور باہر مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔ اگر ایک طرف نیوزی لینڈ  کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان کا اختتام پاکستانی حکام کی بین الاقوامی برادری سے طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کی کوششوں کیلئے تازہ ترین دھچکا ہے تو دوسری طرف وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں لال مسجد پر طالبان کے جھنڈے لہرانے اور مولانا عبدالعزیز کی مسلح  تصویر باقی دنیا کے لیے ایک اور دھمکی آمیز پیغام ہے۔ طالبان کے کابل میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں پرتشدد کارروائیاں بڑھ رہی ہیں۔ صرف وزیرستان میں رواں ستمبرکے پہلے دو ہفتوں کے دوران16  سے زائد پرتشدد واقعات رونما ہوئے ہیں جن میں سیکورٹی فورسز کے ایک درجن اہلکاروں سمیت تیس سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ اسی طرح خضدار میں چینی شہریوں کے خلاف عسکریت پسندوں کے حملوں نے چینی حکام کی مشکلات  کو بھی بڑھاوا دیا ہے جو اب بھی14  جولائی کو اپرکوہستان میں ان کے انجینئروں پر ایک گروپ کے مہلک حملوں کی وجوہات تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ ایک مہینے سے حکومت کی زیر ملکیت لال مسجد کے طلبا کی جانب سے افغان طالبان کا سفید رنگ کا جھنڈا لہرانے سے کئی سوالات نے جنم لیا ہے۔ یہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ پاکستان میں طالبانائزیشن کو ان لوگوں کی طرف سے ''سرپرستی'' دی جا رہی ہے جو سخت گیر لوگوں کے ساتھ قریبی روابط اور حمایت میں ہیں۔ لال مسجد کا معاملہ2007  میں عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں رہا جب سابق فوجی آمر پرویز مشرف نے اس کے سربراہ مولانا عبدالرشید غازی کے خلاف فوجی کارروائی کا حکم دیا۔ اگرچہ غازی اس کارروائی میں مارا گیا تھا اور عبدالعزیز اس وقت پکڑا گیا جب اس نے فرار ہونے کی کوشش کی جس کی وجہ سے کئی سال تک صورتحال کشیدہ رہی۔ تاہم بعد میں پوشیدہ ہاتھوں نے دونوں فریقوں کے درمیان ایک خفیہ معاہدہ کیا۔ کابل میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد سے سخت گیر مذہبی گروہ مختلف  طریقوں سے اپنی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ دیگر کے علاوہ جمعیت علما اسلام کے دونوں دھڑے جن میں ایک  کی سربراہی مولانا فضل الرحمان اور دوسرے کے مولانا حامد الحق (مولانا سمیع الحق کے بیٹے) کر رہے ہیں، اپنے آپ کو افغان طالبان کے ''حقیقی سرپرست یا دوست'' ثابت کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں۔ جے یو آئی (ف) اکتوبر  کے وسط میں پشاور میں قومی سطح کا اجتماع منعقد کرنے جا رہی ہے۔ اسی طرح کالعدم سپاہ صحابہ سے وابستہ کارکنوں اور رہنماؤں کی بھی یہی پوزیشن  ہے جو جماعت اہل سنت، پاکستان راہ حق پارٹی اور دیگر کے نام استعمال کرتے ہیں۔ حافظ محمد سعید کی کالعدم جماعت الدعوة اتوار کو (آج) پشاور میں افغان طالبان کو مبارکباد دینے اور بھارت کو ''دھمکیوں'' کا عزم کو دہرانے کیلئے ''پیامِ پاکستان'' کانفرنس منعقد کر رہی ہے۔ مذہبی سیاسی گروہوں اور دھڑوں کے علاوہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے، جس  نے سرحد پار افغانستان میں پناہ لی ہوئی ہے، خیبر پختونخوا کے کچھ حصوں اور علاقوں میں دہشت گردی پر مبنی سرگرمیوں کو بھی تیز کر دیا ہے۔ کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ مفتی نور ولی مبینہ طور پر افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں چھپے ہوئے ہیں لیکن ان کے قریبی ساتھی اور وفادار جنگجو خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع خیبر، مہمند اور باجوڑ سے ملحقہ کنڑ اور ننگرہار صوبوں میں مقیم ہیں۔ حال ہی میں کابل میں جیلوں  سے قیدیوں کو رہا کرنے کے بعد کالعدم ٹی ٹی پی کے اعلی کمانڈر مولوی فقیر محمد کا ہیرو کی طرح استقبال کیا گیا اور موٹر کار کے جلوس میں کابل سے کنڑ لایا گیا۔ تقریباً تین ہزار پاکستانی یا کالعدم ٹی ٹی پی جنگجوؤں کو کابل اور دیگر جیلوں سے رہا کیا گیا ہے۔ ابھی تک دیگر چھوٹے گروہ جیسے ٹی ٹی پی جمعیت الاحرار، منگل باغ کا لشکر اسلام خاموش ہیں لیکن ان کے جنگجو افغان طالبان کو کابل، طورخم، جلال آباد اور باقی افغانستان میں سیکورٹی گارڈ کے طور پر مدد فراہم کر رہے ہیں۔ دولت اسلامیہ سے وابستہ عسکریت پسندوں کے مسئلے کو، جسے داعش بھی کہا جاتا ہے، امریکی قیادت میں اتحادی فوجوں کے انخلا اور طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد مزید پراسرار اور پیچیدہ بنا دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تین ہزار سے زائد عسکریت پسندوں کے ساتھ ساتھ، جو پہلے اورکزئی، شمالی اور جنوبی وزیرستان، باجوڑ اور مہمند سے کالعدم ٹی ٹی پی سے وابستہ ہیں، آئی ایس ایس سینکڑوں ازبک اور دیگر وسطی ایشیائی عسکریت پسندوں کی میزبانی بی کر رہی ہے جو مشرقی ترکستان اسلامی تحریک، اسلامی تحریک ازبکستان، اتحاد اسلامی سے وابستہ ہیں۔ افغانستان میں طالبان کے برسراقتدار آنے سے پہلے یہ تمام عسکریت پسند جو آئی ایس سے وابستہ یا اس سے منسلک ہیں، ایک منصوبہ بندی کے تحت مشرقی افغانستان سے شمالی افغانستان منتقل ہوئے۔ خطے میں شدت پسندی اور سخت گیروں کی حوصلہ افزائی کی روشنی میں، افغانستان کے ساتھ پاکستان  بھی نشانے پر  نظر آ رہا ہے۔ کوئی بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ11/9  کے بعد دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کے دوران امریکی اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے ''پراسرار'' طرز عمل کی وجہ سے دہشت گردوں کی طاقت کم ہونے کے بجائے بڑھ گئی۔ اور دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی طاقت اور سخت گیر مذہبی سیاسی حلقوں کی جانب سے سرگرمیوں کی وجہ سے خطے خاص طور پر دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان سرحدی علاقوں میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے رجحانات کے جاری رہنے کا خدشہ ہے۔ اور اس ''مصنوعی دہشت گردی'' کے رجحانات پاکستان کے مفادات کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں خاص طور پر خیبر پختونخوا کیلئے جو  اسلام آباد اور کابل کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔