رہا طالبان قیدیوں کی خواتین ججز کو قتل کی دھمکیاں

رہا طالبان قیدیوں کی خواتین ججز کو قتل کی دھمکیاں

کابل(این این آئی)افغانستان میں طالبان قیدیوں کی عام رہائی کے بعد سزائیں سنانے والی خواتین ججز کو قتل کی دھمکیاں ملنے لگیں۔

 

چھ سابق خواتین ججز نے افغانستان میں خفیہ مقامات سے برطانوی ٹی وی سے بات کی ۔طالبان کی جانب سے ان کے شہر پر قبضے کے چند دن بعد ہی ہزاروں مجرموں کو جیلوں سے آزاد کر دیا گیا اور انھیں قتل کی دھمکیاں ملنی شروع ہو گئیں۔ٹیکسٹ پیغامات، وائس نوٹس اور نامعلوم نمبرز سے فون کالز کا تانتا بندھ گیا۔

 

ایک خاتون جج معصومہ نے کہاکہ یہ آدھی رات کا وقت تھا جب ہم نے سنا کہ طالبان نے جیل سے تمام قیدیوں کو رہا کر دیا ہے۔ہم فورا بھاگ کھڑے ہوئے۔ ہم نے اپنا گھر بار اور سب کچھ پیچھے چھوڑ دیا۔ان کے فرار کے کچھ ہی دیر بعد ان کے پڑوسیوں نے انھیں ٹیکسٹ پیغام بھیجا کہ ان کے پرانے گھر پر کئی طالبان آئے ہیں۔ معصومہ کہتی ہیں کہ جیسے ہی انھوں نے ان لوگوں کا حلیہ بیان کیا، وہ سمجھ گئیں کہ انھیں کون اور کیوں تلاش کر رہا تھا۔

 

ان الزامات کے جواب میں طالبان ترجمان بلال کریمی نے کہا کہ خواتین ججز کو کسی بھی دوسرے خاندان کی طرح بے خوف ہو کر رہنا چاہیے۔ کسی کو انھیں نہیں دھمکانا چاہیے۔ ہمارے خصوصی فوجی یونٹس ایسی شکایتوں کی تفتیش اور خلاف ورزی کی صورت میں عمل کرنے کے پابند ہیں۔اس کے علاوہ انھوں نے افغانستان بھر میں سابقہ حکومت کے اہلکاروں کے لیے عام معافی کا وعدہ دہرایا۔
 

ٹیگس