مردان  کی  باتیں 

مردان  کی  باتیں 

تحریر: ڈاکٹر ہمایون ہما

ہماری ہمیشہ سے یہ کوشش ہوتی ہے کہ ٹریفک پولیس کے ساتھ تعلقات خوشگوار رہیں۔ انہیں خواہ مخواہ کے مشوروں سے بھی نوازتے رہے ہیں۔ ہماری بقراطی آراء بھی ان تک پہنچتی رہتی ہیں۔ کبھی ان پر عمل کرنا ان کے بس میں ہوتا ہے اور کبھی نہیں۔ ہم ایک عرصے سے کالموں کے ذریعے اپنی بستی شیخ ملتون کے داخلی راستے پر دیو ہیکل اور اہرام مصر سے مشابہ گول چکر سے پیدا ہونے والے مسائل سے آگاہی بخش رہے ہیں مگر لگتا ہے کوئی بڑی پس پردہ قوتیں اس مصیبت کو برقرار رکھنے پر بضد ہیں۔ بعض لوگوں کو مردم آزاری میں بھی ایک سکون ملتا ہے۔ ہمارے دوست وزیر خٹک صاحب کے بقول اگر اس گول چکر کی تعمیر میں پیشہ ورانہ مہارت شامل ہوتی تو یہ اتنا تکلیف دہ نہ ہوتا۔ روزانہ کے حادثات کے باوجود نہ تو اس کے سائز کو کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور نہ اس کو ختم کیا گیا ہے۔ ہم نے کئی دفعہ ضلعی انتظامیہ کو سمجھانے کی کوشش کی کہ جنرل ٹرنک روڈ جہاں ہر وقت ٹریفک کا سیلاب رواں دواں رہتا ہے، چترال دیر باجوڑ جیسے علاقوں سے رابطہ کا یہ روڈ واحد ذریعہ ہے چنانچہ  اتنی مصروف سڑک  پر گول چکر بنانے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ مجھے یہ بات تسلیم کرنے میں کوئی باک نہیں کہ ہمارے ضلع کے موجودہ ڈپٹی کمشنر ایک خاکسار اور بات سننے والے انسان ہیں۔ وہ اس گول چکر کے متاثرین کے مسائل سے آگاہ ہی نہیں انہیں تسلیم بھی کرتے ہیں لیکن انہیں بھی فی الوقت اس گول چکر کو ختم کرنے کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ شیخ ملتون ٹاون کے مکینوں کی  سوسائٹی بھی اس ضمن میں حکام بالا سے رابطے میں ہے، دیکھتے ہیں کب ان کے لئے اس مصیبت کا خاتمہ ممکن ہوتا ہے۔ یہ راؤنڈ اباؤٹ جو اب ایک متبرک اور مقدس مزار کا درجہ حاصل کر چکا ہے بلکہ ہرن مینار اور قطب مینار سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ آپ سوچتے ہوں گے کہ ان دو کی کیا اہمیت تو بتاتے چلیں کہ ہرن مینار تلے جہانگیر کی چہیتی ہرن خوابیدہ ہے اور قطب مینار قطب الدین ایبک کی کوئی یادگار ہو گی، ہمارے سینے پر یہ گول چکر کا مزار بنایا گیا جانے  اس کے نیچے کس کی حسرتین دفن ہیں۔ یہاں کوئی ٹریفک وارڈن بھی موجود نہیں ہوتا۔ اس راؤنڈ اباؤٹ کی تعمیر سے پہلے بھی یہ جگہ حادثات کے لیے شہرت پا چکی تھی، یہاں پر سگنل موجود تھے لیکن ہماری عوام کو بھی قانون شکنی میں لطف محسوس ہوتا ہے۔ کچھ سال پہلے کی بات ہے جب میں نے اس مصروف جگہ پر ٹریفک کا بہاؤ قدرے کم اور سگنل سبز ہونے پر سڑک پار کرتے ہوئے اپنی گاڑی شہر کی طرف موڑی تو دوسری جانب سے ایک صاحب سگنل کے سرخ ہونے کے باوجود ہم پر چڑھ دوڑے مگر وہ کوشش کے باوجود ہمیں کچلنے میں کامیاب نہ ہوئے۔ میں نے اس ہلاکو خان کی گاڑی کے قریب سے گزرتے ہوئے ان سے پوچھا آپ نے سرخ سگنل نہیں دیکھا؟ گاڑی سے ریش مبارک باہر کر کے فرمایا جی خوب دیکھا، میری مرضی نہ رکا، کر لو جو کرنا ہے۔ ہم کیا کر سکتے تھے مسکرا کر انہیں آداب عرض کیا اور عزت سادات بچانے کی خاطر گاڑی آہستہ کر کے پیچھے ہٹ گئے۔ قانون شکنی جیسے کہ پہلے عرض کر چکا ہوں ہمارا قومی شعار بن چکا ہے، ہم روزانہ دیکھتے ہیں کہ ہر دوسرے یا تیسرے رکشے میں رکشہ ڈرائیور کی سیٹ پر ان کے دائیں بائیں دو اضافی سواریاں ضرور براجمان ہوتی ہیں۔ حیرت ہوتی ہے کہ یہ ڈرائیور تقریباً اس کی جھولی میں بیٹھے ان دو افراد کے ساتھ ڈرائیونگ کیسے کر لیتا ہے، سٹیرنگ کو کیسے قابو میں رکھتا ہے اور پرہجوم چوراہوں سے رکشا کیسے گزارتا ہے۔ ہم نے چوک پر کھڑے ٹریفک وارڈن سے بے شمار دفعہ رکشا ڈرائیوروں کی اس غیرقانونی حرکت کی شکایت بھی کی مگر ان کی طرف سے ایک ہی جواب آیا ”کیا کریں جی یہ مانتے نہیں۔“ پھر وہی بات نہ ماننا اور قانون شکنی ہماری فطرت ثانیہ بن چکی ہے۔ آج بھی جب میں نے یہ بات ایک ٹریفک وارڈن سے گوش گزار کی تو انہوں نے بتایا ”زڑہ مو ستڑے شو سہ اکڑو“ انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ مردان شہر  جو کچھ عرصہ پہلے تک تانگوں کا شہر کہلاتا تھا اب اس کی پہچان رکشے بن چکے ہیں۔ کیونکہ ہر وقت یہاں مردان شہر میں 63  ہزار رکشے رواں رہتے ہیں جب کہ ان میں قانونی طور پر لائسنس یافتہ رکشوں کی تعداد چند ہزار ہی ہو گی۔ مردان شہر میں رکشوں کی بھرمار کی وجہ انھوں نے یہ بتائی کہ ان میں مضافاتی علاقوں کے رکشے بھی شامل ہیں۔ مضافاتی علاقوں سے ان کی مراد مردان سے متصل اضلاع تھے۔ ان رکشہ ڈرائیوروں میں کم عمر بچے بھی ہوتے ہیں۔ ہمیں اس بات کا احساس ہے کہ  بے روزگاری اور غربت کی وجہ سے وہ رکشہ چلانے پر مجبور ہیں۔ طبقاتی تفریق بھی ہمارے معاشرے کا بہت بڑا المیہ ہے اور آبادی میں بے تحاشا اضافہ بھی۔ رکشوں کے علاوہ موٹرسائیکل کی زیادہ تعداد نے بھی مسائل پیدا کر رکھے ہیں جن میں بغیر سائلینسر کے موٹرسائیکلوں نے بھی عوام کے لئے مصیبت پیدا کر رکھی ہے۔ بعض موٹرسائیکلوں پر صرف چلانے والا نہیں ہوتا پٹرول کی ٹنکی پر دو بچوں کے علاوہ اس کے پیچھے چادر میں لپٹی لپٹائی ایک خاتون اپنے شیر خوار بچے کو بھی گود میں پکڑے ہوتی ہے۔ اور ان موٹر سائیکلوں پر کوئی سائیڈ مرر نہیں ہوتا۔ میں یہ تمام مسائل غربت کا شاخسانہ سمجھتا ہوں، اس سے قانون شکنی کا ارتکاب بھی ہوتا ہے اور بے لگام عوام کی حرکتوں سے قانون کی بے بسی بھی ظاہر ہوتی ہے۔ اللہ ہم پر رحم فرمائے!