باادب بانصیب، بے ادب بے نصیب

باادب بانصیب، بے ادب بے نصیب

تحریر: عیشا صائمہ

 

اللہ نے انسان کو دنیا میں اشرف المخلوقات بنا کر بھیجا ہے، اس کی یہ برتری علم کی وجہ سے اسے دی گئی اور اسے دنیا میں اپنا نائب بنا کر بھیجا۔ انسان کو سب سے زیادہ اہم مقام جو دیا گیا وہ معلم کا ہے اس لئے ہر وہ انسان محترم ہے جو کسی کو کچھ سکھاتا ہے یا علم کی روشنی سے بہرہ ور کرتا ہے۔ اگر کوئی سیکھنے والا، سکھانے والے کا احترام نہیں کرے گا تو وہ علم محض رٹا ہے اس لئے جو شخص ہمیں جہالت کے اندھیروں سے نکالتا ہے اس کا احترام ہم پر فرض ہے۔ علم کسی بھی نوعیت کا ہو سکھانے یا عطا کرنے والا بہرحال احترام کے قابل ہے کیونکہ جب تک علم سکھانے والے کی دل سے عزت نہیں کی جائے گی کامیابی آپ کا مقدر نہیں بنے گی اور نہ ہی سیکھنے والا بہترطور پر سیکھ سکے گا اسی لئے کہا جاتا ہے باادب بانصیب بے ادب بے نصیب! 

 

انسان دنیا کی ہر چیز اللہ کی مدد سے خود بناتا ہے لیکن ایک استاد ایک بچے کو انسان بناتا ہے بلکہ یہ کہنا بجا ہو گا کہ استاد انسان کو بادشاہ بناتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو دنیا کے تمام کاموں سے مشکل کام استاد کا ہے۔ ایک بچہ جو ماں کی پہلی درسگاہ سے نکل کر سکول جیسے ادارے میں آتا ہے تو استاد اسے نہ صرف علم کی روشنی سے منور  کرتا ہے بلکہ اسے معاشرے میں جینا سکھاتا ہے۔ آقائے دوجہاں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم بھی معلم تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے بارے میں فرمایا: ''انما بعثت معلما'' (مفہوم) مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا۔ اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ استاد کا رتبہ کیا ہے اور اس کا احترام کتنا ضروری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا اس قدر احترام کرتے تھے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم بات کر رہے ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ایسے بیٹھتے تھے جیسے ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں۔ یہی نہیں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وضو سے گرنے والے پانی کو زمین پر گرنے نہیں دیتے تھے، اپنے چہروں پر مل لیتے تھے۔

 

استاد کے احترام کے حوالے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے: ''جس شخص سے میں نے ایک لفظ بھی پڑھا میں اس کا غلام ہوں چاہے وہ مجھے بیچ دے یا آزاد کر دے۔'' استاد کی حیثیت چونکہ روحانی باپ کی سی ہے، وہ ایک بچے کی روحانی تربیت کر کے اسے اس قابل بناتا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے لئے بلکہ معاشرے کے لئے بھی مفید ثابت ہو سکے۔ کتابیں صرف معلومات کا ذریعہ ہیں لیکن استاد وہ ہستی ہے جو نہ صرف تعلیم دیتی ہے بلکہ تعلیم کے ساتھ تربیت اور تزکیہ نفس بھی کرتی ہے اور اپنے اعلی اخلاق وکردار کو طلبا کے سامنے پیش کر کے انہیں اچھے عمل کی طرف راغب کرتی ہے تاکہ ان کے طالب علم ان کی اچھی بات اور عمل کی تقلید کریں۔

 

جو طالب علم اپنے استاد کا احترام کرتے ہیں، وہ  دنیا و آخرت کی کامیابیوں سے ہمکنار ہوتے ہیں۔ استاد کا احترام کرنا اس لئے ضروری ہے کہ اسے اللہ نے عزت و مرتبہ دیا۔ اگر شاگرد اساتذہ کی عزت کرتے ہیں تو یہ عمل اس کے اچھے حسب ونسب کا بتاتا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا، قول ہے جس کا مفہوم کچھ یوں ہے: علم معزز لوگوں میں وجہ عزت ہوتا ہے اور جاہلوں میں وہی علم توہین کا باعث بن جاتا ہے جس طرح پانی کا قطرہ سانپ کے منہ میں چلا جائے تو زہر بن جاتا ہے اور صدف میں داخل ہو جائے تو موتی بن جاتا ہے۔ یہ انسان کا اپنا رویہ، اپنا کردار ہے چاہے تو علم کو اپنے لئے نور کا سمندر بنا لے اور چاہے تو علم کو غرور تکبر بنا کر ابوجہل بن جائے۔ کیونکہ تعظیم میں عظمت ہے، جو شاخ جھک جاتی ہے وہی پھل دار ہوتی ہے۔ یعنی جو شاگرد استاد کے سامنے  عاجزی دکھاتا ہے، اپنے استاد کی عزت کرتا ہے وہی علم کے نور سے صحیح طور پر مستفید ہوتا ہے، جو شاگرد اپنے استاد کا دب کرتے ہیں، وہ علم کی روشنی سے بہرہ مند ہو کر چمکتا ستارہ بن جاتے ہیں۔ اور جو شاگرد استاد کی نافرمانی کرتے ہیں، ان کے مرتبے کا خیال نہیں کرتے وہ ہمیشہ اندھیروں میں بھٹکتے رہتے ہیں اس لئے استاد کا احترام ازحد ضروری ہے کیونکہ  وہ ان کی روحانی تربیت کر کے اسے  انسانیت کے اعلی درجے پر فائز کرتا ہے۔ حدیث میں بھی استاد کے احترام پر زور دیا گیا ہے۔

 

آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان ہے: استاد کی حیثیت روحانی باپ کی سی ہے۔ اس کا اپنے شاگردوں پر اتنا ہی حق ہے جتنا باپ کا اپنی اولاد پر۔ جس کے دل میں اپنے اساتذہ کے لئے عزت و احترام کا جذبہ موجزن ہے یہ اس کی عظمت کی دلیل ہے۔ سکندر اعظم جو اپنے استاد کا بہت احترام کرتا تھا، کسی نے اس سے وجہ پوچھی تو سکندر نے جواب دیا: میرا باپ مجھے آسمان سے زمین پر لایا جب کہ میرا استاد مجھے زمین سے پھر آسمان پر لے گیا۔ میرا باپ میرے جسم کی پرورش کرتا تھا اور میرا استاد میری روح کی۔ یہیں سے استاد کی عظمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ استاد خود بادشاہ نہیں ہوتا لیکن بادشاہ بنا دیتا ہے کیونکہ وہ زندگی کو بہتر انداز میں جینے کے گر سکھاتا ہے، اپنی اور اپنے رب کی پہچان کراتا ہے تاکہ اس کے شاگرد بہترین انسان بن کر دنیا و آخرت میں کامیابی کی منزل تک پہنچ سکیں۔