افغانستان میں دہشت گردی کا سلسلہ جاری 

افغانستان میں دہشت گردی کا سلسلہ جاری 

افغانستان بالخصوص دارالحکومت کابل میں دہشت گردی اور تشدد کا سلسلہ جاری ہے ۔ جمعے کے روز شہر کے وسطی علاقے دشت برچی کے تعلیمی ادارے میں ایک خود کش بمبار نے اس وقت خود کو دھماکہ سے آرا دیا جب طلبا اور طالبات امتحانی پرچہ دے رہے تھے ۔ ویسے جب سے طالبان امریکہ کی مدد سے برسر اقتدار آئے ہیں تو افغانستان میں کوئی ایسا جمعہ نہیں گزرا جس دوران دہشت گردی کا واقع نہیں ہوا ہو۔ جمعے کے دن ہونے والے دہشت گردی کے زیادہ تر واقعات مساجد اور امام بارگاہوں پر مرکوز ہوتے ہیں اور ان واقعات میں سے بعض کی ذمہ داریاں داعش نامی بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم ہی قبول کرتی رہتی ہے تاہم زیادہ تر واقعات کی ذمہ داریاں کسی بھی فرد یا گروہ نے قبول نہیں کی ہیں۔ اگر پچھلے اگست کے وسط سے جب سے افغانستان میں طالبان بر سر اقتدار آئے ہیں تب سے دہشت گردی کے زیادہ تر واقعات میں اہل تشیع، ہندو اور سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے لوگ نشانہ بنائے گئے ہیں۔ چند روز قبل سکھ برادری کے لگ بھگ پچپن افراد نے ایک خصوصی طیارے میں سوار ہوکر اپنے آباو اجداد کے وطن کو خیر باد کہہ کر نئی دہلی پہنچ کر ہندوستان یا کسی اور مغربی ملک میں زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ زیادہ تر ہندو برادری کے لوگ پہلے ہی سے افغانستان چھوڑ چکے ہیں۔ کسی وقت میں افغانستان میں یہودی برادری کے لوگ بھی رہائش پذیر تھے اور ان میں سے زیادہ تر لوگ تو 1979 میں جہاد کے نام پر سوویت یونین کی افواج کے خلاف امریکی اتحادیوں کے خنگ کے دوران بیرونی ممالک چلے بھی گئے تھے مگر آخری یہودی 1997 میں طالبان حکومت کی پہلی حکومت کے دوران برطانیہ ہجرت کر کے گئے تھے۔ کوئی بھی اس حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتا کہ افغانستان تاریخی طور پر مذہبی ہم آہنگی کا گہوارہ تھا۔ ماضی بعید بہت سے اسلام سمیت کئی ایک مذاہب کے سرکردہ افراد اسی ملک میں رہائش پذیر رہ چکے ہیں۔ افغانستان کے مذہبی ہم آہنگی کی تاریخ حضرت نوح علیہ السلام سے قبل تاریخ کے اوراق میں موجود ہے۔ پشاور سے لگ بھگ ایک سو بیس کلومیٹر اور جلال آباد سے تقریبا 50، 60 کلومیٹر کے فاصلے پر لغمان صوبے کا ہیڈکوراٹر مہتر لام نامی قصبہ ہے۔ اس قصبے کے نواح میں ریت کا ایک ٹیلا ہے اور اسی ٹیلے کے تاریخی قبرستان میں حضرت نوح علیہ السلام کے والد محترم لمک بابا اپنے قریبی رفقا اور رشتہ داروں سمیت مدفون ہیں۔ اسی طرح مزار شریف کے وسط میں سخی صاحب کے مسجد کے احاطے میں قبر کے بارے میں یہ روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ یہاں پر مدفن ہیں۔ مزار شریف کے نواح میں ایک معجزہ ہے کہ وہاں زمین پر کچھ نہیں مگر ہیراتان کی جانب کچھ فاصلے پر 8 خیمے نظر آتے ہیں جس کے بارے میں روایت ہے کہ واقع کربلا کے بعد اہل بیت کی خواتین اور بچوں نے یہاں رات گزاری تھی۔ دور اسلام کے بہت سے صحابیوں، علمائے کرام، صوفیان اور بزرگان کا کسی نہ کسی طرح افغانستان ہی سے تعلق رہا ہے ۔ اسلامی دور سے قبل بدھ مت، گندھارا، کنشکا اور دیگر زیادہ تر مذاہب کے مراکز اور درسگاہیں افغانستان ہی میں قائم تھیں اور اسی بنیاد پر اس ملک میں مذہبی ہم آہنگی مثالی تھی۔ حتیٰ کہ نام نہاد جہاد جس سے درحقیقت نہ ختم ہونے والے فساد نے جنم لیا تھا تک کبھی بھی کسی بھی شخص یا فرد کو مذہبی منافرت کی بنیاد پر قتل یا ان کے خلاف تشدد کرکے قتل نہیں کیا گیا تھا مگر جہاد کے نام پر عالمی جاسوسی اداروں کے شروع کردہ فساد کے بعد اب مختلف مذہبی عقائد کی بنیاد پر لوگ ایک دوسرے کو قتل کردیتے ہیں۔ بد قسمتی یہ ہے کہ اگست 2021 کے وسط سے طالبان حکمران مذہبی منافرت کے نام پر تشدد کے واقعات پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ دہشت گردی اور تشدد کے ان واقعات پر طالبان حکام کی مزید خاموشی اب افغانستان کے عوام کے لئے بھی قابل قبول نہیں ہے۔ اسی طرح ان واقعات پر اقوام متحدہ اور  اسلامی کانفرنس جیسے بین الاقوامی تنظیموں اور امریکہ کے اتحادیوں سمیت خاموش رہنا کوئی صحیح فعل نہیں۔ اس وقت طالبان کے نام پر افغانستان میں قتل وغارت کا جو نیا کھیل شروع ہوا ہے اسے کسی نہ کسی طریقے سے بند کرنا بہت ضروری ہے بصورت دیگر خون ریزی کا یہ دھواں پوری عالمی برادری کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔