سیلاب متاثرین کی بحالی تاحال نہ ہو سکی 

سیلاب متاثرین کی بحالی تاحال نہ ہو سکی 

شمیم شاہد 

خیبرپختونخوا کے انتہائی دور افتادہ پہاڑی مگر خوبصورت سیاحتی علاقہ کالام اور اس سے ملحقہ وادی بحرین اور مدین جو اگست ستمبر کے خوفناک سیلاب سے زیادہ متاثر ہوئے تھے میں ابھی تک بحالی اور تعمیر نو کا کام شروع نہیں ہوا ہے جس سے متاثرین نہ صرف شدید مشکلات کا شکار ہیں بلکہ یہ لوگ حکومت اور حکومتی اداروں سے بھی بہت زیادہ مایوس دکھائی دیتے ہیں۔ 


بحرین سے کالام تک زمینی راستہ عارضی طور پر بحال ہوا ہے مگر کالام میں ہوٹل مالکان کی تنظیم کے عہدے دار رحمت دین صدیقی کے بقول کالام سے آگے اتروڑ، مانکیال اور مہوڈنڈ تک دریا برد ہونے والی سڑک ابھی تک  آمد و رفت کے قابل نہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو کافی مشکلت درپیش ہیں۔ کالام ہی کے ایک زمیندار ملک فاروق کا کہنا ہے کہ شدید سیلاب سڑکوں کے دریا برد ہونے اور مواصلاتی نظام کے تباہ ہونے سے مقامی زمینداروں کو کروڑوں نہیں بلکہ اربوں کا نقصان ہوا ہے۔ متاثرہ لوگوں کا موقف ہے کہ وفاقی حکومت اور وفاقی ریاستی اداروں نے امدادی سرگرمیوں میں کردار ادا کیا ہے انہوں نے صوبائی حکومت کی کارکردگی اور رویے کو بہت زیادہ افسوسناک قرار دیا ہے۔ 

 

صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں  متاثرین کے ساتھ مالی امداد کے سلسلے میں  پندرہ ستمبر سے سروے جاری ہیں۔ یہ سروے مختلف محکموں سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں اور انجینئرز پر مشتمل ٹیموں کے ذریعے کئے جا رہے ہیں اور اس کی تکمیل پر متاثرین کو امدادی رقوم کی ادائیگی شروع ہو جائیگی۔ وزیر اعلی محمود خان نے مکمل طور پر تباہ ہونے والے گھر کے مالک کو چار لاکھ روپے جبکہ جزوی طور پر متاثرہ گھر کے مالک کو ایک لاکھ ساٹھ ہزار روپے دینے کا اعلان کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہوٹل، دکان اور دیگر املاک کے بارے میں معاوضوں کی ادائیگی شرح اور طریقہ کار سروے کے مکمل ہونے کے بعد کیا جائیگا۔ 

۔ 


خیبر پختونخوا کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پراونشل ڈیزازسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق رواں سال مون سون بارشوں اور سیلابوں کے نتیجے میں  مجموعی طور پر 306 افراد ہلاک اور 369 زخمی ہوئے ہیں۔ اس دوران صوبے میں سیلابوں اور بارشوں کے نتیجے میں 674318 افراد بے گھر ہوئے ہیں جبکہ 91463 مکانات میں سے 37525 مکانات مکمل طور پر تباہ اور 53938 جزوی طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ اسی طرح 29 سکول مکمل طور پر تباہ اور 531 جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 621 دیگر املاک میں سے 116 مکمل طور پر تباہ اور 505 جزوی نقصان پہنچا ہے۔  


مواصلاتی نظام کو نقصان 
سرکاری معلومات کے مطابق خیبر پختونخوا میں شدید بارشوں اور سیلابوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 1575 کلومیٹر پر محیط 964 سڑکوں کو نقصان پہنچا ہے جن میں 3675 ملین روپے کے خرچ سے 1300 کلومیٹر پر محیط 811 سڑکوں کو محکمہ مواصلات کے ذریعے بحال کر دیا گیا ہے۔ تمام متاثرہ سڑکوں کی بحالی یا تعمیر نو کے لئے  مجموعی طور ساڑھے تیرہ ارب روپے سے زیادہ تخمینہ لگایا گیا ہے۔  خیبر پختونخوا ہائی وے اتھارٹی کے زیر تعمیر 75 کلومیٹر پر محیط 23 سڑکوں کو نقصان پہنچا ہے جن میں سے 38 کلومیٹر سڑکوں کی بحالی کا دعوٰی کیا گیا ہے۔ تین پل مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں جس کی تعمیر پر 1716 ملین روپے کی لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔  

 

حالیہ سیلاب سے 29 سکول مکمل طور پر تباہ اور 531 کو جزوی طور پر نقصان پہنچا، خیبر پختونخوا میں شدید بارشوں اور سیلابوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 1575 کلومیٹر پر محیط 964 سڑکیں بھی متاثر ہوئیں، ایسے میں کاروبار زندگی اور دیگر امور ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں۔ کالام، بحرین اور مدین میں دو سو ہوٹلوں کے علاوہ 1384 گھر، چار سو دکانیں اسی کے قریب چھوٹے بڑے رابطہ پلِ دس گورنمنٹ پرائمری سکولِ 145 بجلی کے ٹربائن اور دیگر املاک بھی تباہ یا جزوی طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لگ بھگ 56 گھروں پر مشتمل گاوں آشیانہ جس میں تین مساجد بھی تھیں مکمل طور پر دریا برد ہوئے ہیں اور اب اس گاوں سمیت دیگر بے گھر ہونے والے خاندان ان خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ 

 

کالام میں ہوٹل مالکان کی تنظیم کے عہدے دار رحمت دین صدیقی نے کہا ہے کہ اس بار 2010 کی نسبت سیلابوں سے بہت زیادہ تباہی ہوئی ہے۔ مجموعی طور پر کالام، بحرین اور مدین میں سات سو پچاس سے زیادہ ہوٹلوں اور ڈھائی ہزار سے زائد دکانوں اور کیبینوں کو نقصان پہنچا جس کے نتیجے میں ہزاروں خاندانوں کو نہ صرف اربوں مالی نقصان ہوا ہے بلکہ اب یہ لوگ بے روزگار بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر مکمل تباہ ہونے والے ہوٹلوں اور دکانوں میں لاکھوں مالیت کے تجارتی اشیاء اور دیگر سامان بھی دریا برد ہوا ہے۔ رحمت دین صدیقی کے مطابق کالام، بحرین اور مدین میں دو سو ہوٹلوں کے علاوہ 1384 گھر، چار سو دکانیںِ اسی کے قریب چھوٹے بڑے رابطہ پلِ دس گورنمنٹ پرائمری سکولِ 145 بجلی کے ٹربائن اور دیگر املاک بھی تباہ یا جزوی طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لگ بھگ 56 گھروں پر مشتمل گاوں آشیانہ جس میں تین مساجد بھی تھیں مکمل طور پر دریا برد ہوئے ہیں اور اب اس گاوں سمیت دیگر بے گھر ہونے والے خاندان ان خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ 


رحمت دین صدیقی نے بتایا کہ کالام سے اوپر کے گاوں بازار، اتروڑ، پشمال، پلوگا، شاھو، مانکیال، چم گھڑی، رائیگاں برونئی اور بحرین کے مین بازار سے درال تک تمام رابطہ سڑکیں اور پل دریا برد ہوچکے ہیں۔ اسی طرح مہو ڈنڈ تک کچہ سڑک کا تو نام و نشان تک مٹ چکا ہے۔ کالام سے آگے مٹلتان اور پورا تک صرف جیپ کے ذریعے سفر کیا جاسکتا ہے جبکہ اتروڑ سے مہو ڈنڈ اور گبرال تک آمد و رفت کا سلسلہ مکمل طور پر معطل ہے۔ ان کے بقول قدرتی حسن اور نظاروں کے لئے دنیا بھر میں مشہور ترین وادیاں اب کھنڈرات کا نظارہ پیش کر رہی ہیں ۔ 


زراعت کا شعبہ بھی شدید متاثر 
وادی سوات کے پرفضا علاقے کالام، مدین، بحرین اور ان سے ملحقہ علاقے مختلف قسم کے زرعی اجناس، پھل اور سبزیاں اگانے کے لئے کافی زرخیز اور مشہور ہیں کالام ہی سے تعلق رکھنے والے زمیندار ملک فاروق کریمی نے کہا کہ شدید بارشوں، سیلابوں اور ندی نالیوں میں طغیانی کے باعث سینکڑوں اراضی دریا برد ہوئی ہے جبکہ بقیہ پر اگنے والی سبزیاں اور پھل جس میں آلو، شلغم، ٹینڈے، کھیرے، مولی، ٹماٹر، گھوبی، سلاد، چیری، ناشپاتی، سیب اور اخروٹ شامل ہیں کو اب منڈی یا بازار تک پہنچانا مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرک اور دیگر مال بردار گاڑیوں کے نہ آنے سے اب زیادہ تر زرعی اجناس، سبزیاں اور پھل خراب ہوگئے ہیں۔ رحمت دین صدیقی نے یاد دلایا کہ 2010 کے سیلاب کے موقع پر امریکی حکومت نے چینوک ھیلی کاپٹر فراہم کئے تھے جس کے ذریعے زمینداروں کو زرعی پیداوار کو کالام سے بحرین اور مدین تک منتقل کرنے کی سہولیات فراہم کر دی گئی تھی مگر اب کی بار ایسا نہیں ہو سکا جس کے وجہ سے ان زمینداروں کو بہت زیادہ مالی نقصان ہوا ہے۔ 


ملک فاروق کریمی نے بتایا کہ زیادہ تر زمیندار تاجروں اور اڑتھیوں سے پیشگی رقم لیتے ہیں اور اب یہ لوگ ان پیشگی رقوم کی ادائیگی کے لئے پریشان ہیں۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ ان زمینداروں کو درپیش مالی مشکلات کے حل کے لئے مالی امداد یا آسان اقساط پر ادائیگی کے لئے قرضے دے۔ 


معاشی، زرعی اور دیگر کاروبار بحالی ایک چیلنج 
خیبر پختونخوا حکومت نے سیلابوں اور بارشوں سے مرنے والوں کے لواحقین کے علاوہ متاثرہ مکانات کے لئے بھی معاوضے کا اعلان کر رکھا ہے۔ سرکاری اعلان کے مطابق تباہ شدہ مکان کے لیے چار لاکھ جبکہ جزوی طور پر متاثرہ گھر کے لئے ایک لاکھ چالیس ہزار روپے معاوضہ ادا کیا جائیگا۔ قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے ترجمان کے مطابق اس سلسلے میں پندرہ ستمبر سے باقاعدہ سروے شروع کیا گیا ہے۔ رحمت دین صدیقی نے اس حکومتی فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معمولی اضافے سے کس طرح متاثرہ لوگوں یا خاندانوں کی بحالی ممکن ہو سکے گی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2010 کے سیلاب کے بعد امریکہ کے ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی نے تباہ شدہ ہوٹل مالکان کو لگ بھگ چالیس لاکھ روپے ادا کئے تھے جس سے متاثرین کی بحالی ممکن ہوئی تھی۔ اسی طرح  سمیڈا نے بھی متاثرہ ہوٹل مالکان، دکانداروں اور دیگر کاروباری افراد کی بحالی کے لئے ایک منصوبہ شروع کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب حکومت کو چاہیے کہ وہ تجارتی اور سرکاری بنکوں سے رابطہ کرکے انہیں متاثرین کو آسان اقساط پر قرضوں کی فراہمی پر قائل کرے۔ انکے بقول آسان اقساط پر قرضوں کی فراہمی سے متاثرہ لوگوں کی بحالی ممکن ہو جائیگی۔ 


صوبائی حکومت سے مایوسی 
رحمت دین صدیقی اور ملک فاروق دونوں نے خیبرپختونخوا کی سیلاب سے پیدا شدہ صورتحال پر صوبائی حکومت کی سردمہر ی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نہ وزیر اعلی اور نہ کسی صوبائی وزیر نے کالام اور بحرین کا دورہ کرکے متاثرہ لوگوں کے ساتھ ہمدردی کے لئے دو لفظ ادا کئے جبکہ علاقے سے ممبر قومی اسمبلی اس دوران لندن میں رہائش پذیر تھے اور ممبر صوبائی اسمبلی سرکاری دورے پر جرمنی گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اب ممبر صوبائی اسمبلی تو واپس آئے ہیں مگر انہوں نے تمام تر سرگرمیاں آبائی قصبے مدین تک محدود کر رکھی ہیں تاہم کالام سے تعلق رکھنے والے دونوں افراد نے وفاقی حکومت کے انکے ساتھ رابطوں اور اظہار ہمدردی پر اطمینان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف از خود کالام آئے تھے اور انکے بعد فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی نہ صرف متاثرین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا تھا بلکہ فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے چار ہزار سے زائد سیاحوں کو کالام سے نکالنے کا فریضہ بھی سر انجام دیا تھا۔ 


خیبرپختونخوا حکومت کا موقف 
خیبرپختونخوا کابینہ میں شامل وزیر شوکت علی یوسفزئی نے اس بارے بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں  متاثرین کے ساتھ مالی امداد کے سلسلے میں  پندرہ ستمبر سے سروے جاری ہیں۔ یہ سروے مختلف محکموں سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں اور انجینئرز پر مشتمل ٹیموں کے ذریعے کئے جا رہے ہیں اور اس کی تکمیل پر متاثرین کو امدادی رقوم کی ادائیگی شروع ہو جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی محمود خان نے مکمل طور پر تباہ ہونے والے گھر کے مالک کو چار لاکھ روپے جبکہ جزوی طور پر متاثرہ گھر کے مالک کو ایک لاکھ ساٹھ ہزار روپے دینے کا اعلان کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہوٹل، دکان اور دیگر املاک کے بارے میں معاوضوں کی ادائیگی شرح اور طریقہ کار سروے کے مکمل ہونے کے بعد کیا جائیگا۔ 
مواصلاتی رابطوں کے بارے میں شوکت یوسفزئی نے سارا ملبہ وفاقی حکومت پر ڈالتے ہوئے کہا کہ بحرین سے کالام تک سڑک نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے زیر انتظام ہھے مگر وفاقی حکومت نے اس بارے میں کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے سیلابوں سے متاثرہ علاقوں میں سڑکوں کے بحالی اور تعمیر نو کے لئے دس ارب فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا مگر ابھی تک یہ رقم فراہم نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کو قومی مالیاتی کمیشن کے پینسٹھ ارب روپے دینے سے انکاری ہے جس کی وجہ سے صوبے کو بہت زیادہ مالی مشکلات درپیش ہیں۔ 

 

وزیر اعلی  خیبرپختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے روزنامہ شہباز کے ساتھ گفتگو میں بتایا کہ وادی سوات کے کالام بحرین اور مدین سمیت صوبے کے سیلابوں سے متاثرہ علاقوں میں تباہ ہونے والے نجی ، سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کی املاک کے بارے میں سروے دس اکتوبر تک مکمل ہو جائیگا جس کے بعد حکومت اس سروے کے مطابق بحالی اور تعمیر نو کے بارے میں منصوبہ بندی پر کام شروع کریگی۔

 

انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر جمع کئے جانے والے اعداد وشمار پر متاثرہ لوگوں کے تحفظات کے بعد وزیر اعلی محمود خان نے از سر نو سروے کرنے کا کام دیا ہے جس کے لئے مختلف سرکاری اداروں کے نمائندوں پر مشتمل ٹیمیں تشکیل دیدی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے دس ارب روپے دینے کا اعلان تو کر رکھا ہے مگر ابھی تک کسی قسم کی ادائیگی نہیں کی گئی جبکہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی اپیل پر سیلاب زدگان کے امداد کیلئے جمع کی گئی رقوم میں سے بھی خیبر پختونخوا کو بہت اچھی ادائیگی کی توقع ہے جس سے متاثرہ علاقوں میں تباہ ہونے والی املاک کی از سر نو تعمیر کا بیشتر حصہ اس سال مکمل ہو جائیگا۔

 

بیرسٹر محمد علی سیف نے اس سلسلے میں وفاقی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے دیگر رہنما بشمول مولانا فضل الرحمان سیلاب پر سیاست کر رہے ہیں ۔ انہوں نے اس دوران کسی بھی آفت زدہ یا متاثرہ علاقے کے دورے یا سیلاب سے نمٹنے کیلئے کسی بھی اجلاس میں خیبر پختونخوا حکومت کو اطلاع تک نہیں دی۔ اسی طرح بیرونی ممالک سے سیلاب زدگان کے لئے آنے والی امداد کو متاثرین تک پہنچانے میں بھی خیبر پختونخوا کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔

 

ایک سوال کے جواب میں بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ سیلاب سے پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے وزیر اعلی محمود خان شروع دن سے کافی سرگرم ہیں انہوں نے نہ صرف سیلابوں اور شدید بارشوں سے متاثرہ تمام اضلاع اور علاقوں کے دورے کئے ہیں بلکہ انہوں نے آبادکاری بحالی اور تعمیر نو کے سلسلے میں منصوبہ بندی یا حکمت عملی وضع کرنے کے لئے کئی ایک اعلی سطحی اجلاسوں کی صدارت بھی کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی برتنے کی کوئی گنجائش نہیں بس صرف سروے کے آخری رپورٹ کا انتظار ہے اس کے آنے کے بعد ترجیحی بنیادوں پر تمام متاثرہ علاقوں میں کام شروع کیا جا رھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی نے دو روز قبل ایک اعلی سطحی اجلاس میں سیاحت کی بحالی اور ترقی کے لئے ایک منصوبے پر کام شروع کرنے کی منظوری دی ہے۔ 

 


 مطالبات 
حاجی رحمت دین صدیقی چیئرمین امن جرگہ ملاکنڈ ڈویژن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے مطالبات پیش کئے۔
سیلاب کے باعث سوات کی سیاحت ، زراعت کی تباہی اور دوبارہ بحالی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں۔ 
مدین تا کالام متبادل روڑ یعنی ایکسپریس وے تعمیر کیاجائے۔
 اتروڑ گجر گبرال اور اوشو مٹلتان کی رابطہ سڑکوں کی جلد ازجلد تعمیر کے ساتھ این ایچ اے کو حوالہ کیا جائے۔ 
بالائی علاقوں کے سیلاب سے تباہ شدہ رہائشی مکانات کو برفباری سیزن سے پہلے تعمیراتی کام مکمل کیا جائے۔ 
سیلاب سے متاثرہ بحرین کالام روڑ کو ونٹر سیزن سے پہلے تیار کیاجائے ۔ 
متاثرین کے نام آنے والی اشیاء فوڈز پیکجزز کی تقسیم کے طریقہ کار کو شفاف بنایا جائے۔ 
سیلاب سے متاثرہ تحصیل بحرین کو آفت زدہ قرار دیکر مراعاتی پیکج دیاجائے۔ 
سیلاب سے تباہ ہونے والے رہائشی مکانات کی تعمیر کیلئے ہنگامی بنیادوں پرمتاثرہ مالک مکان کو تیس لاکھ گرانٹ دی جائے۔ 
سیلاب سے متاثرہ ہوٹل انڈسٹری اور متاثرہ دکانداروں کو گرانٹ دی جائے۔ 
سیلاب سے متاثرہ زرعی زمینداروں کیلئے مالی امداد کیساتھ بحالی کیلئے سٹیٹ بنک سے بلاسود قرضے دیے جائیں۔ 
سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے طلبا و طالبات کی تعلیمی فیسیں معاف کی جائیں