ٹرانس جینڈر بل اسلامی اصولوں کے خلاف ہے 

ٹرانس جینڈر بل اسلامی اصولوں کے خلاف ہے 

ثمنیہ ناہید ایڈوکیٹ

بیرونی دباؤ پر تمام پارلیمنٹ خاموشی لیکن ایک مرد مجاہد رکن پارلیمنٹ مشتاق احمد میدان میں آگئے اور پوری پارلمنیٹ کو لکارے ہوئے کہا کہ یہ بل اسلام کے منافی ہے۔ ویسے تو اس دینا میں بہت سے مرد مجاہد ہیں۔ جو وقت کے فرعونوں سے برسرپیکار ہیں۔  رکن پارلمنیٹ نے اپنی آواز کے ذریعے بے خبر عوام کو بیدار کیا۔  کہ یہ بل جس صنف کے لئے بنایا گیا ہے  اور جنکی تعداد بہت کم ہے۔ ان کو اس سے کچھ فاہدہ نہیں مل رہا بلکہ جعلی مرد و عورت قانونی طور پر اپنے آپکوٹرانس جینڈر بنا کر اس سے فاہدہ اْٹھا رہے ہیں۔ ٹرانس جینڈر کو قانونی تحفظ فراہم کرتے کرتے ہم جنس پرستی کو فروغ دے دیا گیا۔ بلکہ خواجہ سراؤں کی تحفظ کی آڑ میں بیرون ملک انجنڈے اور این جی اوز کے تحت اپنی چالاکیوں اور مکاریوں سے ایک ایسا قانون بنا دیا جس سے ہم جنس پرستی کی قانونی راہیں ہموار ہوگئی ہیں۔ اسے میں ٹرانس جینڈر تحفظ بل کا نام نہیں دوں گی بلکہ یہ ایک بہروپیہ تحفظ بل ہے  کیونکہ یہ بل اسلامی اصولوں کے خلاف ہے بلکہ ہم جنس پرستی کے راستے قانونی طور پر مضبوط ہو گئے ہیں۔ 
ٹرانس جینڈر ایکٹ ہم جنس پرستی کے فروغ اور ایسے غیر اخلاقی فعل کے تحفظ کا دوسرا نام ہی نہیں بلکہ یہ بل ایک تہذیبی جارہیت ہے اور یہی ٹرانس جینڈر ایکٹ کی منظوری معاشرتی بگاڑ کا فروغ ہے۔ جسے مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے مختلف اوقات میں اسمبلیوں میں پیش کیا گیا۔  جسے پہلی بار 21 اگست 2017 میں پیپلز پارٹی کی سنٹیر روبینہ خالد ، روبینہ عرفان ، مسلم لیگ ، کلثوم پروین مسلم لیگ اور پی  ٹی آئی کی ثمنیہ عابد نے پیش کیا۔ عمران خان کی حکومت میں بھی وفاقی وزیر انسانی حقوق شیرین مزاری نے اسلام دشمن عناصر کے ایماء پر پیش کیا تاہم موجودہ حکومت کے لئے ایسے بل کی منظوری انتہائی تشویشناک اور افسوسناک ہے۔ 
 اْس وقت کی اپوزیشن جماعتوں میں پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی نے اسکی حمایت کی جبکہ اْس وقت ایوان میں جمعیت علماء اسلام اور جماعت اسلامی نے اسکی مخالفت کی اور اسے اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیا یہ بات کسی حد تک درست ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مذہبی جماعتوں اور بالخصوص جمعیت علماء اسلام کے ارکان کم تھے مگر بھر پور آواز نہیں اْٹھائی گئی اور نہ اْٹھانے کی کوشش کی گئی لیکن چلئے دیر آئد درست آئد محاورے کے تحت بالآخر ایک مرد مجاہد نے آواز بلند کی اور ترمیمی بل منظور کروانے کے لئے پوری طرح فعال کردار ادا کرنے میں ہمہ تن مصروف عمل ہیں۔ جماعت اسلامی کے سنیٹر مشتاق احمد نے اس غیر شرعی بل کے خلاف سب سے پہلے آواز اٹھائی۔  اپنے ترمیمی بل میں میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا مطالبہ کیا کیونکہ 2018 میں قومی اسمبلی میں ُیش کردہ بل میں خواجہ سراؤں کی تعریف کچھ یوں کی گئی کہ وہ مرد یا وہ عورتیں جنکی جنسی شناخت انکی قدرتی جنس کے مخالف ہو۔ یہ بل نہ صرف اسلامی تعلیمات کے یکسر خلاف ہے۔ بلکہ بنیادی اخلاقیات کے بھی یکسر منافی ہے۔  اس بل سے مرد اس قابل ہو گیا ہے کہ وہ اپنی صنفی شناخت تبدیل کرکے عورت بنکر عورتوں کے مخصوص مقامات یعنی واش رومز جاسکتا ہے اور چونکہ قانون کی رو سے وہ ایک عورت ہے اسلئے وہ دوسرے مرد سے شادی بھی کر سکتا ہے حتی کہ خواتین کے تعلیمی اداروں میں داخلہ بھی لے سکے گا اور عورت بن کر عورتوں کے مخصوص سیاسی کوٹہ میں بھی حقوق حاصل کرپائے گا جو کہ عورتوں کے حقوق کے ساتھ بھی زیادتی ہے جبکہ جنسی تبدیلی کے تحت تبدیلی نادرا ریکارڈ اس پر لاگو ہونگے حتی کہ خواتین کی تعلیمی درسگاوں میں داخلہ بھی لے سکے گا۔ اس کا وراثت میں وہی حق تسلیم کیا جائیگا جو قانونی طور پر کسی عورت کاہوگا۔ اسی طرح عورت  بھی اپنی جنس تبدیل کرکے مرد بن سکتی ہے اور عورت مرد بن کر وراثت میں اپنا حصہ دْگنا کروا سکتی ہے۔ اور یہ عمل اتنا آسان ہے کہ کوئی بھی شخص نادرا جاکر صرف یہ کہے کہ وہ عورت کی طرح محسوس کرتا ہے اور نادرا اس بل کی روشنی میں اسے رجسٹرڈ کرنے کا پابند ہوگا حالانکہ ایسے لوگوں کے لئے ری ہیبلٹیشن سنٹر بنائے جائیں جہاں انکا نفسیاتی علاج کیا جائے۔ ڈاکٹرز کے مطابق ایسے لوگ نفسیاتی علاج کے بعد ایک نارمل زندگی گذر سکتے ہیں۔ اس بل سے فاہدہ اْٹھاتے ہوئے پچھلے چار سال میں تیس ہزار سے زاہد لوگوں نے اپنی جنس تبدیل کی ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اس قسم کے قوانین بن رہے ہیں اور عوام کو خبر ہی نہیں۔ بد قسمتی یہ ہے کہ اکثر یورپی ممالک میں بھی یہ قانون نافذ نہیں ہوا۔ ہمارے پڑوسی ملک بھارت نے بھی جنسی شناخت کا فیصلہ میڈیکل بورڈ کریگا کہ آیا یہ شخص سچ میں خواجہ سرا ہے یا نہیں لیکن ہمارئے ملک میں یہ فیصلہ اس شخص کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے  جو اپنی جنس تبدیل کرنا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہے کہ ہر وہ شخص جسکی عمر 18 سال سے زیادہ ہے اس کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی جنس خود معین کرنا چاہے وہ مرد ہو یا عورت جبکہ ٹرانس جینڈر بل ایک انتہائی سنگین مسئلہ ہے۔ اس قانون سے ہم جنس پرستی کو جواز مل جائے گا کیا اسلامی ریاست کے لیے یہ جائز ہے؟ شرین مزاری کے بقول جینڈر شناخت ذاتی ایشو ہے پاکستان خود ارادیت دینے والا پہلا ملک ہے بلکہ اْن کے خیال میں میڈیکل ٹسٹ ٹرانس جینڈر کے لیے ایک گالی ہے۔ اْنکے بیان کے مطابق میڈیکل بورڈ میں رشوت اور سفارش چلے گی جبکہ میڈیکل بورڈ پر بھی ایک سوالیہ نشان لگا دیا ہے کہ یہاں پر رشوت اور سفارش کے ذریعے اپنی مرضی کا سرٹیفکیٹ حاصل کر لیا جاتا ہے جو کہ ڈاکٹرز کے مقدس پیشہ پر سراسر الزام ہے۔ 
یاد رکھیں اگر پارلیمانی کمیٹی نے بل کے حق میں فصلیہ دے دیا تو بحثیت پاکستانی ہماری زمہ داری یہ ہے کہ عوام الناس کو اس بل کے بارے میں آگاہ کریں۔  بڑے پیمانے پر یہ ذمہ داری علماء کرام اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کی ہے کہ قوم لوط کے اس فتنے پر بروقت قابو پایا جائے اپنے اہل وعیال اور عزیز واقارب کو اس فتنے سے آگاہ کریں کیونکہ عوام کی اکثریت اس بل سے ناواقف ہے۔ اگر اس فتنے بر وقت قابو نہ پایا گیا تو یہ اجتماعی طور پر اللہ کی نافرمانی ہو گی۔ یاد رہے ایسے حالات میں اللہ تعالی صرف اْنکو نہیں پکڑتا جو گناہ گار ہوں بلکہ عذاب اْن پر بھی آتا ہے جو گناہ ہوتا دیکھ کر اسے اپنے ہاتھ اور زبان سے نہ روکے اور آہندہ آنے والے وقت میں کوئی بھی حکمران جماعت بیرون ملک ایجنڈے پر متنازعہ اورغیر شرعی قانون سازی نہ کرسکے اور بیرونی دباؤ سے آزاد ہوکر اپنی تہذیب و تمدن اسلامی روایات، نظریہ پاکستان اور اپنے عوام کے مفادات کا تحفظ کریں اور دوسروں کے آلہ کار بنکر نہایت ادب کے ساتھ متنازعہ قانون ، غیر روایتی اور غیراسلامی قوانین کو بے خوف و خطر پاس نہ کرسکے تاہم موجودہ حکومت کے لئے ایسے بل کی منظوری تشوش ناک اور افسوسناک ہے۔ جیسے اسمبلی ممبران نے پاکستان کا نقشہ بگاڑنے میں بھر پور کردار ادا کیا ہے۔ فحاشی جنس کی تبدیلی اور ہم جنس پرستی کی حوصلہ افزائی کسی اہل ایمان اور وفادار پاکستانی کا نہیں بلکہ اسلام دشمن عناصر کا ایجنڈے ہے۔