اسحاق ڈار کی آمد، اور موجودہ معاشی چیلنجز

اسحاق ڈار کی آمد، اور موجودہ معاشی چیلنجز

ملک میں اک عرصہ سے جاری چہ مگوئیو کا بالآخر خاتمہ وہ گیا ہے اور سابق وزیر خزانہ اور ن لیگ کے رہنماء اسحاق ڈار ملک مایک ایسے وقت میں تشریف لا چکے ہیں جب ملک کو اندرون و بیرون دونوں سطح پر انگنت مالی و اقتصادی چیلنجز درپیش ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف اور اس کے زیراثر پاکستانیوں کی ایک معقول تعداد سے قطع نظر عام پاکستانیوں میں اس امر پر تقریباً  مکمل اتفاق رائے پایا جاتا ہے پاکستان کی شدید مشکل معیشیت کو اگر کوئی سنبھال سکتا ہے تو وہ اسحاق ڈار ہی ہیں۔ دوسری جانب اگر دیکھا جائے تو ملک میں تین کروڑ سے زائد لوگ اس وقت سیلاب سے متاثرہ اور فوری ریلیف کے منتظر ہی نہیں حقدار بھی ہیں۔ مہنگائی اور بے روزگاری کے بحرانوں نے الگ سے ملک کے عوام کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے۔ یہ اور اس طرح کے دیگر چیلنجز کا اب نئے وزیز خزانہ کو سامنا ہو گا۔ تاہم حوصلہ افزا امر یہ بھی ہے کہ ڈار کی واپسی کے ساتھ ہی ان دو دنوں میں اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت یکایک دس روپے چالیس پیسے کم ہو گئی ہے، سٹاک ایکسچینج میں گہماگہمی نظر آنے لگی اور روپے کی قدر میں اچانک اضافہ ہو گیا۔ اپریل2022  میں سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں قائم ہونے والی حکومت میں وزیر خزانہ کا قلمدان مفتاح اسمعیل کے ذمے آیا، پانچ ماہ تک جنہوں نے پوری جانفشانی کے ساتھ ذمہ داریاں نبھائیں اور بلاشبہ وہ مشکل فیصلے کئے جس کے لئے شاید ان کے علاوہ کوئی اور تیار ہوتا، اس کا کریڈٹ انہیں ضرور ملنا چاہیے۔ موجودہ وزیراعظم شہباز شریف نے سابق وزیراعظم نواز شریف سے صلاح مشورے کے بعد اسحاق ڈار کو پھر سے وزیر خزانہ بنانے کا فیصلہ کیا کیونکہ نواز شریف کے زمانہ اقتدار میں وہ ہی وزیر خزانہ کے عہدے پر فائز رہے۔ علاوہ ازیں جب2013  میں پاکستان کی معیشت مشکلات کا شکار تھی تب بھی اسحاق ڈار نے اچھی کارکردگی دکھائی تھی۔ نواز  لیگ کے سینئر رہنما محمد زبیر کے مطابق اسحاق ڈار میں ملکی معیشت کو سنبھالنے کی صلاحیت ہے کیونکہ ماضی میں اچھی کارکردگی دکھا چکے ہیں، اسحاق ڈار کی نظر عوام کی اور معیشت کی مشکلات دونوں پر ہوتی ہے اور ان کے اس عہدے کو سنبھالنے سے سب سے زیادہ پولیٹیکل اکانومی کا فائدہ ہو گا، اس کے ساتھ سیاسی لحاظ سے نواز لیگ فائدہ اٹھائے گی۔ اسحاق ڈار اس وقت وزیر خزانہ کا عہدہ سنبھال رہے ہیں جب پاکستان شدید معاشی مشکلات کا شکار ہے، مہنگائی کی سطح27  فیصد ہو چکی ہے؛ ملک میں پیٹرولیم، بجلی، گیس اور خوردو نوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور شدید مالی بحران کی وجہ سے موجودہ حکومت شدید تنقید کی زد میں ہے۔ دوسری طرف آئی ایم ایف کا حصہ ہونے کی وجہ سے اس پروگرام کے تحت معاشی فیصلے کرنے پڑیں گے، امریکی ڈالر بلند ترین سطح پر ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی واقع ہوئی ہے۔ سیلاب کی وجہ سے نقصان کا ابتدائی تخمینہ لگ بھگ30  ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔۔ اگرچہ مفتاح اسمعیل نے اپنا ایجنڈا مکمل کیا مگر پھر بھی عوام کو پانچ ماہ میں کوئی ریلیف نہیں مل سکا اب اسحاق ڈار کے پاسOut of the box  جا کر کوئی حل ہے تو ان کی موجودگی پاکستان کی معیشت کے لیے بہتر ثابت ہو سکے گی ورنہ اس وقت پاکستان کی صورتحال میں  کوئی بھی وزیر خزانہ بنے، کوئی حل نہیں نکال سکتا۔ ماہرین معاشیات کے مطابق اس وقت آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت ہی چلنا پڑے گا کیونکہ اس کا حصہ بننے کے بعد پاکستان کا وزیر خزانہ صوابدیدی اختیارات نہیں رکھتا، نواز لیگ کو اسحاق ڈار سے کچھ زیادہ ہی توقعات وابستہ ہیں جبکہ25  ارب ڈالر کی پٹرولیم مصنوعات،3  ارب ڈالر کا خوردنی تیل،2  ارب ڈالر کا کوئلہ برآمد کرنا ہے۔ علاوہ ازیں این ایف سی کے تحت56  فی صد وسائل کا حصہ تمام صوبوں کو ملتاہے، موجودہ صورتحال میں وہ بھی ممکن نہیں، اب پرانے معاشی ماڈل پہ چلنے سے ملکی معیشت نہیں چل سکے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اسحاق ڈار ایسا کیا جادو کریں گے کہ ملکی معیشت کا پہیہ چل پڑے اور ان کے پاس ایسی کیا صلاحیت ہے کہ پاکستان کو معاشی بحران سے نکال کر معیشت کا دھارا درست سمت میں موڑ دیں گے اور پاکستانی کرنسی کی قدرو قیمت میں اضافہ کر کے ڈالر کو اسی پرانی سطح پہ لے آئیں گے جہاں وہ چھوڑ گئے تھے۔ یہ صورتحال واضح ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ اس ضمن میں اپوزیشن خصوصاً پی ٹی آئی سے یہ توقع ہی رکھی جا سکتی ہے کہ وہ ملک کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر نئے وزیر خزانہ کے ساتھ تعاون اگر نہیں بھی کرتی تو کم از کم ان کی راہ میں روڑے اٹکا کر ان کا کام مشکل بھی نہیں بنائے گی۔