نئی جنگ کا سب سے زیادہ نقصان پختونوں کو ہوگا، پختون مزید خونریزی برداشت نہیں کرسکتے۔اسفندیار ولی خان

نئی جنگ کا سب سے زیادہ نقصان پختونوں کو ہوگا، پختون مزید خونریزی برداشت نہیں کرسکتے۔اسفندیار ولی خان

 

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان نے کہا ہے کہ کابل میں معصوم طلبا وطالبات کو تعلیمی ادارے کے اندر نشانہ بنانا افسوسناک ہے،حملے میں 20 سے زائد طلبا و طالبات شہید جبکہ درجنوں زخمی ہوچکے ہیں، دھماکہ اتنا شدید تھا کہ تاحال شہدا کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔ 

 

کابل میں تعلیمی ادارے کے اندر دوران امتحان طلبا و طالبات پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اے این پی سربراہ کا کہنا تھا کہ معصوم بچوں اور بچیوں کو نشانہ بنانا انسانیت کے خلاف ہے۔ واقعے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، ملوث لوگ انسان کہلانے کے مستحق نہیں۔

 

 امریکہ کے جانے کے بعد پرتشدد کارروائیاں ختم ہو جانی چاہئیں تھیں۔ شرپسند عناصر اپنے مذموم مقاصد کے لئے آج بھی بے قصور عوام کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ کشیدہ حالات کی قیمت معصوم افغان عوام کو ادا کرنی پڑ رہی ہے۔

 

 ان کا مزید کہنا تھا کہ تواتر کے ساتھ نہتے اورمعصوم افغان عوام پر حملے تشویشناک ہیں۔ معصوم لوگوں کا قتل عام کہاں کا اسلام اور انسانیت ہے؟ اس قسم کے حملے کون کروارہا ہے؟ کیا افغان عوام کو امن میں جینے کا کوئی حق نہیں۔ ہم آج بھی کہتے ہیں کہ افغانستان میں امن نہیں ہوگا تو پورا خطہ بدامنی کی آگ میں جلے گا۔

 

 افغانستان میں جاری کشیدگی بارے اسفندیار ولی خان کا کہنا تھا کہ خطے میں جاری اس آگ کا خاتمہ پاکستان اور افغانستان دونوں کیلئے ضروری ہوچکا ہے۔ سوات سے لیکر باجوڑ اور وزیرستان تک دوسری لہر کے نتائج سامنے آرہے ہیں۔ 

 

معصوم افغانوں کا خون بہہ رہا ہے لیکن جنگ کی شروعات کرنے والے خاموش ہیں۔ پاکستان سمیت بین الاقوامی قوتوں کوافغانستان میں امن کیلئے کردار ادا کرنا ہوگا۔ مل بیٹھ کر یہ خونریزی نہیں روکی گئی تو عوام کا خون اسی طرح بہتا رہے گا۔

 

 خطے پر ایک نئی جنگ منڈلا رہی ہے، اس بار آگ لگ گئی تو کوئی بھی بچ نہیں پائے گا۔ نئی جنگ کا سب سے زیادہ نقصان پختونوں کو ہوگا، پختون مزید خونریزی برداشت نہیں کرسکتے۔