ففتھ کالم 

ففتھ کالم 

Let,s play with it

محمد سہیل مونس

عمران خان کی لیک شدہ آڈیو کے درجہ بالا الفاظ ویسے تو سب نے سنے ہونگے لیکن اس انگریزی کے چھوٹے سے جملے میں یہ ۔۔اٹ۔۔ جو ہے یہ وہ مراسلہ نہیں جس کو بنیاد بنا کر عمران خان نے ملک کواس نہج پر پہنچا دیا ، فوج کو برا بھلا کہا سیاسی مخالفین کی پگھڑیاں اچھالیں اور تو اور معصوم عوام کو گمراہ کیا۔ہم آتے ہیں ۔۔اٹ۔۔ کی جانب تو قارئین اصل میں اس ۔۔اٹ۔۔کا مطلب پاکستان ہے جس سے عمران خان کھیلنے کی بات کررہے ہیں۔ ہم عمران خان کو پاکستان کی بقاء اور سالمیت سے کھیلنے والا واحدکھلاڑی نہیں سمجھتے بلکہ اس ملک سے کھیلنے والے کئی ایک ہیں ہم کس کس کھلاڑی کا نام لیں۔ ہم اسکندر مرزا کا نام لیں، ایوب خان کا نام لیں، شیخ مجیب کا نام لیں، بھٹو اور یحیٰ خان کا نام لیں، ضیاء الحق کا نام لیںیا پھر انہی لوگوں کے پروردہ بینظیر یا نواز کانام لیں یا پھر کمانڈو مشرف کا نام لیں۔ یہ بھی ذیادتی ہوگی کہ ہم صرف ان دوقوتوں کو مورد الزام ٹھہرائیں ان کے ساتھ سنگت میں ہمارے ہاں کا مذہبی ٹولہ بھی پیش پیش رہا ہے جنھوں نے آذادی کے دن سے لے کر ہر موڑ پر ان دو قوتوں کا ساتھ دیا ہے چاہے وہ مجلس قانون ساز کی بنت ہو یا پھر ایوب دور کے انتخابات، بھٹو حکومت کے خلاف سازشوں میں حصہ ڈالنا ہو یا پھر ضیاء آمریت میں اسلامی قانون کے نفاذ کی بھول بھلیوں میں ایک آمر کا آلہ کار بن کر جمہوریت پہ شب خون مارنا ہو۔ان لوگوں کا استعمال 80 کی دہائی کے اواخر میں فوج کی ہی سرکردگی میں ہوا جن کی ایماء پر پے در پے جمہوری حکومتیں گرائی گئیں۔ انہی لوگوں نے پاکستان کے معصوم ذہنوں کو فساد کی جانب راغب کیا جس کا خمیازہ ہم آج بھی بھگت رہے ہیں جبکہ ان میں سے آج بھی یہی لوگ سینٹ، قومی اسمبلی اور دیگر ایوانوں میں براجمان ہیں۔ ہم پاکستان سے کھیلنے والوں کی فہرست سے افسرشاہی کو کیسے نکال سکتے ہیں جو انگریز باقیات میں سب سے بڑا ناسور ہے، اصل میں یہ لوگ ملک کی جڑوں میں ایک طفیلئے کی مانند بیٹھ گئے ہیں۔ یہ لوگ فوج کو بھی اپنے غلط اعداد و شمار سے گمراہ کرتے ہیں جبکہ سیاسی لوگوں کو تو ملک کی تباہی کے سارے گر ہی یہی لوگ سکھاتے آرہے ہیں، ملک کا اگر سارا انصرام اس مشینری کے ہاتھ میں ہو تو پیچھے پھر باقی رہ کیا جاتا ہے۔ یہ چند لاکھ لوگ ملک کا ستیاناس کرنے میں 75 برس سے ذیادہ کا تجربہ رکھتے ہیں ان لوگوں کا لائف سٹائل اور جائیدادوں کے علاوہ دیگر کروفر دیکھ لیں تو انسان انگشت بدندان رہ جاتا ہے۔ ان کو پڑھایا اور سمجھایا یہ جاتا ہے کہ پاکستان کو ترقی کیسے نہیں کرنی دینی اور انہی خطوط پے ملک کو لے کر چلنے میں یہ اپنی مثال آپ ہیں۔ ان کے بعد ملک سے کھلواڑ کرنے والوں میں ہمارے منصف آتے ہیں جنھوں نے قسم کھائی ہے کہ ملکی عدالتوں سے انصاف لے کر دکھائیں، اس وقت لاکھوں مقدمات زیر التواء پڑے ہیں جبکہ ان سے پوچھنے والا کوئی نہیں۔ ہمارے ہاں کی عدالتیں بھی درجہ بالا چند قوتوں کی غلام ہیں ، کسی کا حق پر مبنی فیصلہ ہوتے ہوتے کئی سال لگ جاتے ہیں  اور کسی کے لئے آدھی رات کو عدالتیں کھول دی جاتی ہیں۔ ان کی کارکردگی پر نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ دنیا بھر میں ناقص ترین عدالتی نظاموں میں ہمارا نظام ١٢٨ ویں نمبر پر ہے، اب جس ملک میں انصاف کا معیار اس حد تک گر گیا ہو وہاں پر لاقانونیت کس نہج پر ہوگی اور کس سوچ والے لوگ راج کر رہے ہونگے یہ عیاں ہے ۔ ان ہی بدعنوان منصفوں کی وجہ سے ملک جرائم اور دیگر گناہوں کی آماجگاہ بن گیا ہے لیکن یہ تمام گنے چنے لوگ خوش اور مزے میں ہیں تو انھیں کیا ضرورت ہے کہ انصاف کرے پھریں۔ ان کے بعد باری آتی ہے عوام کی جو عقل اور احساس نامی چیز سے اتنی پیدل ہے جس کی کوئی مثال نہیں ملتی ، ان کا یہ برا حال انہی کے کرموں کا نتیجہ ہے، یہ بلاء کے جھوٹے ہیں، دھوکے باز اور ظالم ہیں۔ ان کی جاہیلیت ان کی سب سے بڑی کمزوری ہے، یہ لوگ اپنے برے بھلے سے اس قدر نابلد ہیں کہ یہ آج بھی پاکستانی سیاست اور سیاستدانوں پر بھروسہ کرتے ہیں، آج بھی مقتدر قوتوں کے کسی نئے ملی نغمے پر جھومنے لگتے ہیں۔ یہ لوگ آج بھی پاکستانی اداروں میں کام کرنے والے بیوروکریٹس کی اس بات کا یقین کرلیتے ہیں کہ انشاء اللہ بجلی کا مسئلہ آنے والے چند دنوں میں حل ہوجائے گا وغیرہ وغیرہ۔ ایک زمانے سے ملا ان کو یہ پٹی پڑھاتا آرہا ہے کہ غریب کم حساب کتاب کی وجہ سے جلد فارغ ہوکر جنت جائے گا لہٰذہ دنیا سے لو مت لگاو اور یہ پاگل بھی یقین کر لیتے ہیں جبکہ چند ہی ماہ کے اندر اسی ملا کو لوگ ایک بڑی گاڑی اور محافظوں کے ساتھ دیکھتے ہیں لیکن ان سے پھر سوال کرنے کی سکت نہیں ہوتی کہ پوچھے بھائی صاحب یہ سب کچھ کہاں سے آپ نے تو اپنا حساب بڑھا دیا ہے۔ ہم بحیثیت عوام پاکستان کے اتنے ہی بڑے دشمن ہیں جتنا کوئی اور مجھے تو کبھی کبھی لگتا ہے کہ اس قوم کو آذادی کی ضرورت ہی کیا تھی اگر اسی طرح جانوروں کی طرح رہنا تھا۔ ہم جب تک درجہ بالا لوگوں سے باز پرس نہیں کریں گے اور خود اپنا قبلہ درست کرنے کی کوشش نہیں کریں گے تو عمران خان جیسے لاابالی اور سٹھیائے ہوئے لوگ ملک کا دھڑن تختہ کرتے رہیں گے۔