مالی بحران شدید، صحت کے بعد بلدیات سے بھی تین ارب کی کٹوتی

مالی بحران شدید، صحت کے بعد بلدیات سے بھی تین ارب کی کٹوتی

 

 خیبر پختونخوا حکومت کے مالی بحران بڑھنے کے باعث محکمہ صحت کے بعد محکمہ بلدیات سے بھی تین ارب روپے کی کٹوتی کردی گئی جاری ترقیاتی منصوبوں کیلئے فراہم کی جانیوالی تین ارب روپے کی رقم محکمہ ترقی و منصوبہ بندی نے واپس اٹھا لی ہے 

 

محکمہ ترقی و منصوبہ بندی ذرائع کے مطابق اس وقت صوبائی حکومت کیلئے سب سے بڑا چیلنج ملازمین کی تنخواہوں کا اجراء تھا جو پورا کرلیا گیا ہے اور ملازمین کو ماہ ستمبر کی تنخواہیں جاری کردی گئی ہیں 

 

تاہم صوبائی حکومت کو جاری اخراجات بشمول یوٹیلیٹی بلز، کرایوں کی ادائیگی، ایندھن اور سٹیشنری سمیت دیگر اخراجات پورے کرنے کیلئے رقم درکار ہے جبکہ سیلاب متاثرہ اضلاع میں بھی بحالی کیلئے فنڈز درکار ہے 

 

صوبائی حکومت نے محکمہ صحت کو ترقیاتی منصوبوں کیلئے جاری رقم سے تین ارب روپے کی کٹوتی کی گئی تھی اور گزشتہ روز محکمہ بلدیات سے بھی تین ارب روپے کی کٹوتی کردی گئی ہے 

 

محکمہ بلدیات کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ باقی رقم استعمال کرتے ہوئے ترجیحی منصوبوں پر توجہ مرکوز رکھیں مالی حالات کی بہتری کے ساتھ ہی رقم جاری کردی جائیگی۔