نمود ونمائش کا سیاسی کلچر

نمود ونمائش کا سیاسی کلچر

روخان یوسف زئی
ملک خداداد میں سیاسی کلچر نے اب ایک ایسا روپ دھارا ہے کہ بیشتر سیاسی جماعتوں کے جلسوں میں بڑے بڑے خوشنما اسٹیج،بینرز،پوسٹر،تصاویر قائدین کی تعریف پر مبنی نغموں،نظموں اور ترانوں کے لیے جدید ساونڈ سسٹم کے علاوہ دیگوں اور لانج بکسوں میں کھانا جس پر عوام کا ایک جم غفیر ٹوٹ پڑتا ہے.اس حوالے سے پی ٹی آئی کی تو بات ہی کچھ اور ہے کہ اس کے جلسوں میں لڑکوں اور خواتین کا رقص لازم وملزوم سمجھا جاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جب سے ملک کی سیاست میں عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی در آئی ہے ہماری سیاسی روایات اور کلچر کو یکسر بدل دیا گیا۔مخالفین کے بارے میں نازیبا الفاظ،ان پر طرح طرح کے الزامات،انہیں طرح طرح کے ناموں سے مخاطب کرنا عمران خان کے جلسوں اور جلوسوں کی پہچان بن چکی ہے۔ ایک طرف تو سبھی یہ کہتے نہیں تھکتے کہ ملک میں معاشی بحران ہے مگر دوسری جانب ہم دیکھتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں کے ان جلسوں اور جلسوسوں پر ہزاروں لاکھوں روپے پانی کی طرح بہایا جاتا ہے اور انہی جلسوں اور جلوسوں میں اکثریت ان لوگوں کی ہوتی ہے جو دو وقت کی روٹی کے لیے بھی محتاج رہتے ہیں۔ان میں بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو دوسروں سے کرایے کے پیسے بھی ادھار لیکر جلسوں جلوسوں میں حصہ لیتے ہیں، زندہ باد اور مردہ باد کے زوردار نعرے لگاتے ہیں۔اور اس طبقے کے حق میں نعرے لگاتے ہیں جو طبقہ ملک کے پسے ہوئے طبقات کا استحصال کرتا ہے اور ان کے حقوق پر قابض ہے۔اور یہ سب کچھ ہمارے ملک کے عوام میں سیاسی شعور کے فقدان کا نتیجہ ہے۔یہاں کی بیشتر سیاسی جماعتوں میں اپنے کارکنوں کو سیاسی علم اور تربیت دینے کا بھی کوئی بندوبست نہیں کیا جاتا کیونکہ اگر عوام میں سیاسی شعور آگیا اور وہ یہ حقیقت جان چکے کہ جس طبقے کے ہم ووٹ دیتے ہیں اور جس کے لیے ہم آپس میں لڑتے جھگڑتے ہیں یہی طبقہ اصل میں ہمارا دشمن ہے۔ہمارے ہاں ایک ایک جلسئہ اور جلوس پر کتنا خرچ کیا جاتا ہے اس حوالے سے ہم صرف اندازے لگاسکتے ہیں مگر درست تخمینہ لگانا اس قدر آسان نہیں.اس بات کو بھی دل و دماغ قبول نہیں کرتا  کہ یہ تمام اخراجات سیاسی جماعتیں محض اپنے ووٹرز ،ممبران اسمبلی،ٹکٹ ہولڈرز،صاحب ثروت افراد، سیاسی بھائی بندوں اور پارٹی قائدین کی جانب سے دے گئے چندوں سے پورے کر رہے ہیں.ہمارے ہاں اکثر سیاسی جماعتوں نے اپنے معاشی وسائل کے معاملے میں کبھی بھی شفافیت کا مظاہرہ نہیں کیا.بدعنوانی تو ہمیشہ سے ہماری سیاست کا ایک جز رہی ہے ، مگر منتخب وزیر اعظم کی عدالت سے غلط بیانی پر نا اہلی کے بعد معاملات اور بھی سنجیدہ ہو گئے ہیں . مگر زیادہ تر توجہ سیاسی جماعتوں اور نظام کے بجاو شخصیات پر مرکوز ہے۔ جاننے والوں کا کہنا ہے کہ  سیاسی جماعتوں کے اخراجات ان کے جمع کے گئے گوشواروں میں لکھے ہوئے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہیں . مگر کس حد تک ؟ اسکا اندازہ  لگانا بھی مشکل ہے .اگرچہ سیاسی اقتصادیات اور سیاسی جماعتوں کے اخراجات پر باقاعدہ ایک سیل موجود ہے مگر فی الوقت وہ کوئی کام نہیں کر رہا.الیکشن کمیشن کے قانونی محکمہ کے ایک ڈائریکٹر جنرل جناب محمّد ارشاد کے مطابق سیاسی اخراجات پر ان کی نوکری کے عرصے اور دائر کار میں کبھی ان سے ان اخراجات کے متعلق بنے قوانین پر کسی نے کبھی کوئی رائے طلب نہیں کی.ا یف بی آر ، جس کا کام ہی افراد اور گروہوں کی آمدن اور اخراجات پر نظر رکھنا ہے ، اس کے عہد یداران بھی اس مد میں بے بس نظر آرہے ہیں ، ان کے مطابق ان کے محکمے کا کام ٹیکس جمع کروانا اور گوشوارے اکٹھے کرنا ضرور ہے مگر سیاسی اخراجات کے بارے میں فیڈرل بورڈ آف ریوینو کے پاس کوئی قوانین موجود نہیں.ایف بی آر اس بات کی وضاحت میں بھی ناکام رہا کہ آخر سیاسی جماعتوں کو گوشوارے جمع کروانے کے نوٹس کیوں نہیں بھیجے جاتے ، جبکہ یہی محکمہ این جی اوز اور عوامی اداروں کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑا رہتا ہے۔اخراجات کا تخمینہ لگانا پھر بھی آسان  ہے ، اصل مشکل تب پیش آتی ہے جب آپ آمدن اور آمدن کے ذرائع ڈھونڈنے نکلتے ہیں . یہ لین دین بینک یا کسی دوسرے معاشی ذریعہ سے نہیں ہوتا، بلکہ ایک ہاتھ دے اور دوسرے ہاتھ لے والا معاملہ ہے. کون ، کس کو ، کب ، کتنا پیسہ ہاتھوں ہاتھ دے رہا ہے اس کا شمار تقریباً ناممکن ہے. ذرائع ڈھونڈنا ، یہ وسائل حاصل کس مد میں حاصل کے گئے ، اس سب کا سراغ بہت مشکل ہے . ان معاملات میں بڑی کاروباری شخصیات اور انکے مفادات شامل ہیں اور اپنے معاشی معملات کو چھپانا ان کے لئے روز مرہ کا معمولی سا کام ہے۔ایک قانونی ماہر کے مطابق  موثر سیاست کسی بھی ملک میں پیسے کی ریل پیل کے بغیر ممکن نہیں ، مگر اس ملک کو ایسے قانون اور لا ئحے عمل کی ضرورت ہیں جہاں گوشوارے جمع کروانے اور معاشی شفافیت کو ترجیح دی جائے، چونکہ موجودہ سسٹم میں غیر قانونی ذرائع کو سیاسی اخراجات کے لئے استمعال کرنا بہت آسان ہے.ایک تجزیہ کار کے مطابق . اگر تمام سیاسی جماعتوں کے صرف جلسے جلوسوں کی مد میں سالانہ اخراجات کا تخمینہ لگایا جائے تو یہ رقم اربوں میں شمار ہو ، مگر ان کی جانچ پڑتال کرنے اور ان پر ٹیکس لاگو کرنے کا کوئی طریقہ کار واضح ہے ہی نہیں ، ایسی صورتحال میں کیا کیا جا سکتا ہے.بہرحال کہنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ ہمارے سیاسی کلچر کا ناک نقشہ ہی ایسا بدل دیا گیا ہے کہ ہر سیاسی جماعت دوسری جماعت پر سبقت لینے اور نمود ونمائش کا مظاہرہ کرنے کے لیے جلسوں جلوسوں پر لاکھوں کروڑوں روپے پانی کی طرح بہاتا ہے مگر کوئی عوامی فلاح و بہبود کے لیے کوئی،سکول،کالجز،یونیورسٹی،  ہسپتال،کارخانہ یا فیکڑی وغیرہ نہیں بناتا کیونکہ اس سے پھر عوام میں کو فائدہ پہنچے گا ان میں سیاسی شعور آئے گا۔لہذا بقول لیوٹا لسٹائی کہ''حاکموں کی حاکمیت کا دار ومدار رعایا کی جہالت پر ہے رعایا جتنی جاہل ہوگی حاکموں کی حاکمیت اتنی ہی مضبوط ہوگی۔اب بھی اگر کوئی نہیں سمجھے تو اپنی سمجھدانی کا علاج کریں۔