افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی موجودگی اور پاکستان کی خدشات  

افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی موجودگی اور پاکستان کی خدشات  

 

تحریر  عبدالرزاق برق

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں  پہلی دفعہ  پاکستانی وزیراعظم کے بیان  جس میں کہاگیا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردگروپوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں وزیراعظم کے اس بیان سے دونوں ممالک پاکستان اورافغان طالبان کے درمیان ایک تازہ سفارتی تنازعہ پیدا ہوا ہے۔ وزیراعظم کے بیان کو افغان عبوری حکومت نے اچھا نہیں لیا ہے اورساتھ ہی یہ کہا ہے کہ امریکہ اورپاکستان سمت کچھ ممالک نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور77ویں اجلاس میں اس بات کا اظہارکیا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردی کا خطرہ اب بھی موجودہیے اورغیرمصدقہ خدشات اورالزامات لگانے کے بجائے دنیا کو امارت اسلامی کے ساتھ مثبت اندازمیں اپنا نقطہ نظراورتحفظات کو شئرکرنا چاہیے نہ کہ میڈیا کے زریعے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی افغان سرزمین پر دہشت گردگروہوں کی پناگاہ ہیں موجودہیں؟ اور وزیراعظم کے حالیہ بیان سامنے آنے کا مقصد کیا ہو سکتا ہے؟ اس سوال کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ القاعدہ کے سربراہ ایمن الاظواہری کو کابل کے مشہور علاقے میں امریکن ڈرون کے زریعے نہیں ماراگیا؟ یہ الگ بات ہے کہ طالبان ایمن الاظواہری کے مارنے  اورکابل میں اسکی موجودگی کی  بات نہیں مانتے۔ اس کے علاوہ وزیراعظم پاکستان کے بیان کہ افغانستان میں دہشت گردگروپوں کے موجودگی کا کیا مقصد ہوسکتا ہے ؟ میرے خیال میں طالبان حکومت آنے سے قبل اشرف غنی کی حکومت کے وقت  یہ بات کہی جارہی تھی کہ اس وقت افغانستان میں 20  دہشت گردگروپ موجودہیں جبکہ  یہ بات لوگوں کے اندر عام تھی کہ افغانستان میں دہشت گرد گروپ موجودہیں تویہ گروپ طالبان حکومت آنے کے بعد اب کہاں گئے ہیں ؟ یہ جو روزانہ سرعام کابل اوردیگر شہروں میں دھماکے ہوتے ہیں یہ کون کرتے ہیں؟ اس کے ساتھ ہی  افغانستان کی سرزمین سے افغانستان کے ہمسایہ ممالک پر راکٹ پھینکے جاتے ہیں یا مارے جاتے ہیں یہ کون کررہے ہیں؟ کیا افغانستان میں  داعش کی موجودگی سے روس کو سخت تشویش لاحق نہیں ہیے؟ روس کا افغان طالبان سے کیا رشتہ ہیے؟ روس کو داعش سے سخت ڈرلگا ھوا ہے اور وہ افغان طالبان کے ساتھ تعلقات اچھے بنا رہے ہیں کہ وہ داعش کو روکے کہ روس اورسنٹرل ایشیائی ممالک پر حملے نہ کریں   تمام دنیا کو معلوم ہے کہ افغانستان کے اندرموجود دہشت گردگروہوں کی کون پشت پناہی کر رہے ہیں دور جانے کی ضرورت نہیں حالیہ دنوں میں ایک دہشت گردتنظیم ٹی ٹی پی اورحکومت پاکستان کے درمیان جنگ بندی افغان طالبان کے زریعے کرائی گئی۔ 
کیا یہ ایک دہشت گرد تنظیم نہیں اس تنظیم نے  پیشاورمیں آرمی پبلک سکول میں 150 بے گناہ بچوں اورسینکڑوں لوگوں کو نہیں مارا تھا؟ اور طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے اس بے گناہ لوگوں کی مارنے کی زمہ داری بھی قبول کی تھی اور ہمارے سیکورٹی فورسزز نے گرفتارکرکے اسے واپس چھوڑا تھا جو اب ترکی میں ہیں، کوئی ہے کہ اس کو مارے اور ان سے پوچھے کہ بے شمار اور بے گناہ پشتونوں کو کیوں اورکس مقصدکے لئے قتل کیا گیا۔ ان بے چارے لوگوں کا کیا قصور تھا ؟  اسی دہشت گرد تنظیم کو کابل سے پاکستان لانے کے لیے خیبرپختون خواکے کورکمانڈرچھ دفعہ کابل نہیں گئے ؟ میرے خیال میں ہم سب کو یہ بات ماننی چاہیے کہ افغانستان کے اندردہشت گردگروپ موجود ہیں یہ الگ بات ہے کہ ان دہشت گردگروپوں کی پشت پناہی کرنے والوں کو کوئی نہیں جانتا، یا انکے بارے میں کوئی کچھ نہیں کہتا، ایک طرف ٹی ٹی پی کے ساتھ حکومت نے جنگ بندی کی ہے اور ٹی ٹی پی افغانستان سے سرحد عبور کر کے سوات اور پیشاور میں حکومتی اہلکاروں پر بھی حملے کرتی ہے، حکومت پر عوام کی جانب سے دباؤ ہے کہ حکومت صاحب یہ عوام کے ساتھ ٹی ٹی پی کی طرف سے کیا ہو رہا ہے؟ 
حکومت ایک جانب پشتونوں کے قاتلوں کے ساتھ عوام کو اعتمادمیں لیے بغیر جنگ بندی کررہی ہے تو دوسری طرف ٹی ٹی پی سوات اورخیبرپختون خوا کے عوام پر حملے کر رہی ہے۔ ٹی ٹی پی کے خیبرپختون خوا میں آنے کے بارے میں حکومت کی جانب سے تاحال کوئی تحقیقات نہیں کی گئی ہیں جب افغان طالبان ٹی ٹی پی کو جنگ بندی کرنے پر آمادہ کرسکتے ہیں توافغان طالبان ٹی ٹی پی کو اس بات پر بھی آمادہ  کرسکتے ہیں کہ وہ خیبرپختون خواکے بے گناہ لوگوں اورمسلمانوں پر حملے نہ کریں اوروہ مزید حملے کرنے سے انہیں روکیں۔ 
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ٹی ٹی پی کیسے افغانستان سے بارڈر کراس کر کے آئی؟ کیونکہ حکومت پاکستان نے افغانستان کے ساتھ لاکھوں روپے کی باڑھ لگائی تھی اورسرحد پر پاکستان کی فوج بھی موجود ہے۔ یہ ٹی ٹی پی کیسے سوات اورپیشاور آئی؟  افغانستان میں حکومت پاکستان اورٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے توافغان طالبان ٹی ٹی پی کے خلاف افغانستان کے اندرآپریشن شروع کریں گے یہ اس لئے کہ دوحہ معاہدے میں یہ بات موجود ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی مگر حکومت پاکستان کالعدم ٹی ٹی پی کے خلاف افغان طالبان کی حکومت کی کاروائی سے خوش نہیں ہے، میرے خیال میں حکومت پاکستان کی یہ ایک قسم کی غلط فہمی تھی اور  اس آسرے میں تھی کہ افغان طالبان ٹی ٹی پی کے خلاف کچھ کریں گے لیکن ٹی ٹی پی کے خلاف کچھ کرنا ناممکن تھا کیونکہ افغان طالبان وہ کام کرتے ہیں جس میں ان کامفاد ہو، سب سے پہلے حکومت پاکستان کو یہ امیدتھی کہ افغان طالبان ٹی ٹی پی کو اپنی سرزمین سے نکالیں گے مگر یہ کام افغان طالبان کی جانب سے نہیں کیا گیا، پاکستانی وزیراعظم کی طرف سے افغانستان کے اندردہشت گردگروہوں کی موجودگی کے بارے میں حالیہ بیان کا مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے  کہ پاکستان عالمی دنیاکو ان دہشت گردوں کے خلاف اپنے ساتھ لے جانا چاہتا ہے اس کے علاوہ چند ہفتے قبل امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان کودہشت گردگروپوں کی روک تھام اورخاتمے کے لیے خبردارکیا تھا۔ پاکستانی وزیراعظم اس حالیہ بیان کے زریعے امریکی محکمہ خارجہ کو یہ جواب دنیا چاہتے ہیں کہ دہشت گردگروپ پاکستان میں نہیں بلکہ وہ افغانستان کے اندرموجود ہیں۔ حکومت پاکستان افغانستان پرافغان طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان کے ڈیفیکٹو حکمرانوں کا حامی رہا ہے۔ اسلام آباد مسلسل عالمی برادری باالخصوص مغربی دنیا پر زوردیتارہاہے کہ وہ جنگ زدہ ملک کوترک نہ کریں ویسے بین الاقوامی اجلاسوں میں افغان طالبان کی کوئی نمائندگی نہیں اس لئے جو بھی طالبان کے خلاف بات کرنا چاہیں گے کرسکتے ہیں کیونکہ افغان طالبان کی حکومت کو آج تک کسی نے بھی تسلیم نہیں کیا ہے۔ حکومت پاکستان کی جانب افغانستان میں دہشت گردگروہوں کی موجودگی کے بارے میں افغان طالبان کے وزیرخارجہ امیرخان متقی کے بیان میں پاکستان کانام نہ لینے پر افغانستان کے اندراعتدال پسندطالبان نے اپنے وزیرخارجہ سے خاصی ناراضگی کا اظہار کیا ہے افغانستان کے اندر لوگ یہ سوال کررہے ہیں کہ افغان وزیرخارجہ کا اپنے بیان میں پاکستان کانام نہ لینا چہ معنی دارد؟ اس بارے میں تجزیہ نگاروں کا کہنا کہ افغان وزیرخارجہ نے اپنے بیان میں اس لیے پاکستان کانام نہیں لیا کہ بقول ان کے اس ملک کے ساتھ افغان وزیرخارجہ کے قریبی کاروبار اور تعلقات ہیں اور یہ تعلقات وہ پاکستان کے ساتھ خراب نہیں کرنا چاہتے، ویسے افغانستان کے اندر یہ سوال بھی لوگ کرتے ہیں کہ کئی افغان طالبان کے گھر کہاں ہیں؟ اس کے بچے کس یونورسٹی اورکالج میں پڑھ رہے ہیں؟ ویسے افغانستان میں دہشت گردگروپوں کی موجودگی کے بارے میں  افغانستان کے سابق صدرحامدکرزئی نے سب سے اچھا بیان  دیا، انہوں نے کہا کہ افغانستان دہشت گردی کا شکارہے اوردہشت گردی کے مراکز کہاں ہیں ؟ یہ سب کو معلوم ہے میرے خیال میں پاکستان اورافغانستان کئی سالوں سے دونوں مسلم اورہمسایئہ ممالک ہیں دونوں کو چاہیئے کہ آپس میں دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر دونوںکو جنگ لڑنا چاہئے اورایک دوسرے پر الزامات لگانے سے کسی کو بھی کچھ نہیں ملتا کیونکہ چالیس سے سال اس خطے میں جنگ جاری ہے اوراس جنگ میں ھزاروں افغان اورمسلمان مرے ہیں اور تاحال مر رہے ہیں اوراب یہ جنگ داعش کی شکل میں بڑھ رہی ہے اور یہ جنگ روس ایران اور سنٹرل ایشیائی ممالک تک بڑھائی جا رہی ہے، افغان طالبان اورخطے کے تمام حکومتوں انٹرنشنل حکومتوں کو چاہیے کہ افغانستان کے اندرجنگ ختم کرنے کے لیے انسانیت کی خاطر آگے آئیں اوراس جنگ کے زریعے اپنے مفادات حاصل کرنے سے دریغ کرنا چاہئیے اورایک بارپھر افغانوں کو جنگ کے بغیرسکھ کا سانس لینے دیا جائے اورجنگ روکنے کا یہ کام نہ صرف افغانستان کی مفاد میں ہے بلکہ خود افغانستان کے ہمسایہ ممالک کی مفاد میں بھی ہے۔