صوبہ مالی بحران کی زد میں، تو سیاسی محاذ آرائی کیوں؟

صوبہ مالی بحران کی زد میں، تو سیاسی محاذ آرائی کیوں؟

اس وقت خیبر پختونخوا حکومت شدید مالی بحران کا شکار ہے۔ حال ہی میں فنانس ڈپارٹمنٹ نے حکومتی امور چلانے کے لئے جی پی آئی فنڈ سے 10 ارب روپے صوبائی حکومت کے اکاؤنٹ ون میں منتقل کئے ہیں، ذرائع کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ رواں مالی سال کی ابتدا ہی سے صوبائی حکومت کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ صوبائی حکومت نے رواں مالی سال میں جولائی اور اگست میں مالی مشکلات کی وجہ سے وفاقی حکومت سے 55 ارب روپے کا اوور ڈرافٹ لیا تھا جبکہ حکومت ستمبر میں بھی اوور ڈرافٹ پر چل رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران بھی صوبائی حکومت مالی مشکلات سے دوچارتھی جس کی وجہ سے گزشتہ مالی سال کے دوران صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت سے 172 ارب روپے کا اوور ڈرافٹ لیا تھا جب کہ سرکاری ملازمین کے پنشن فنڈ سے 16 ارب روپے صوبائی حکومت کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کئے گئے تھے۔ رواں مالی سال کے دوران صوبائی حکومت کے مالی بحران کی سب سے بڑی وجہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لئے مکمل فنڈز مالی سال کی ابتدا ہی میں جاری کرنا بتائی جا رہی ہے۔ لیکن اس وقت جبکہ پاکستان تاریخ کے بدترین سیلاب کی وجہ سے انتہائی مالی مشکلات کا شکار ہے تو حالات وہ نہیں رہے، دوسرے خود صوبے کی حکمران جماعت خود بھی ان مشکلات کی برابر ذمہ دار ہے جو وفاق کے ساتھ اک لایعنی اور خود صوبے کیلئے نقصان دہ سیاسی جنگ میں برسرپیکار ہے۔ رہی سہی کسر عسکریت پسندی کی ابھرتی ہوئی لہر نے پوری کر دی، اب بیرون تو درکنار خود صوبے کے رہے سہے سرمایہ دار اور سرمایہ کار بھی سرمایے سمیت اس صوبہ سے نکل چکے یا نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سیلاب کی وجہ سے بھی خیبر پختونخوا سب سے زیادہ تباہ ہوا؛ مکانات، دکانیں، مساجد، سکول، ہوٹل اور تمام انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔ اموات کی تعداد ہزاروں میں ہوئی بے شمار جانور بھی بہہ گئے سر چھپانے کے لیے جگہ نہیں مل رہی اور افسوس کی بات کہ مرنے والوں کی تدفین کے لیے خشک جگہ ہی نہیں۔ یہ وہ حالات ہیں جب خیبر پختونخوا حکومت نے اقتدار اور اختیارات کے لالچ میں صوبہ اور صوبے کی عوام کو ہی نہیں ملکی بقا اور سلامتی کو بھی بہت دور پیچھے چھوڑ دیا۔ آج شدید بدترین سیلاب میں ڈوبے پاکستانی کس سے فریاد کریں، پیناڈول کی دوا تک تو مریضوں کو مل نہیں رہی، اور اگر کہیں مل بھی رہی ہے تو دگنی تگنی قیمت پر! ایک ایسے وقت میں جبکہ صوبے کے سیلاب متاثرین کو مالی امداد کی شدید ضرورت ہے حکومت خود مالی بحران کا شکار ہے۔ حیرت مگر صوبائی حکمرانوں کے طرزعمل کو دیکھتے ہوئے ہوتی ہے، مالی بحران اور طرح طرح کے مسائل سے دوچار صوبہکے حکمران کو ایک فرد واحد کی خوشنودی کی بجائے اپی ذمہ داریوں کا احساس کر لینا چاہئے اور وفاق کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ میں بہتری لائی جائے تاکہ صوبہ خوشحالی کی طرف گامزن اور لوگ اپنے گھر بنا کر خود کو محفوظ کرنے کے قابل ہو سکیں۔ اس وقت بہت زیادہ مالی اور طبی امداد کی ضرورت ہ،ے غذائی قلت اور پینے کا پانی مہیا نہیں اور اس وقت بجلی اور پیٹرولیم کی اشیا اس قدر مہنگی ہوگئی ہیں کہ اس کی وجہ سے اشیائے خوردونوش کی قیمتیں عروج پر ہیں۔ صوبائی وزیر تیمور سلیم جھگڑا نے کہا ہے کہ ایف بی آر کی ٹیکس کولیکشن خیبر پختونخوا کو دی جائے، وفاق نے صرف8  فیصد اکٹھا کرنا ہوتا ہے، پچھلے سال30  فصد اکٹھا کیا گیا تھا جبکہ خیبر پختونخوا کی ٹیکس کولیکشن 42  فیصد ہے۔ انہوں ے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ وفاق  خیبر پختونخوا کی60  ارب کی سبسڈی کھا گیا ہے، تنخواہوں کا بل6  ارب روپے ہے جبکہ وفاق نے صرف ساڑھے چار ارب صوبے کو دیئے، وفاق نے دو سال میں صوبے کو صرف68  ارب روپے دیئے، اب جب  بدترین حالات ہیں تو صوبے کو بحال کرنے کے لئے زیادہ رقم درکار ہے۔ اس ضمن میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اگر وزیر خزانہ سمیت ان کی صوبائی حکومت دو سال قبل بھی اسی طرح اس صوبے کے حقوق کیلئے آواز اٹھاتی تو آج صوبہ شاید مالی طور پر اتنے سنگین بحران کی زد میں نہ ہوتا۔ بہرکیف وفاق سے یہ استدعا ہیکی جا سکتی ہے کہ موقع کی مناسبت سے باہمی اتفاق سے خیبر پختوخوا کی مالی امداد کی جائے کیونکہ جو تباہی مچی ہے وہ ناقابل تلافی ہے اور یہ وقتی مسئلہ نہیں بلکہ اب پاکستان کے تمام سیلاب زدہ علاقوں کو بحال و آباد کرنے کی ضرورت ہے؛ عوام کو معاشی مسائل سے نکالنے کی کوشش کی جائے۔ حکمران  اپنے پروٹوکول اور اپنے سیلاب زدگان عوام کی بحالی کی کوشش کی اشتہار بازی پہ رقم  خرچ کرنے کی بجائے مریضوں کے لیے دواؤں کا بندوبست کر کے کریں کیونکہ پیناڈول جیسی دوا بھی اگر دستیاب نہیں تو حکمران سوچیں وہ اپنی سیلاب زدہ عوام کے ساتھ کتنے مخلص ہیں۔