خطے میں منظم طریقے سے بد امنی لائی جارہی ہے، حیدر ہوتی

 خطے میں منظم طریقے سے بد امنی لائی جارہی ہے، حیدر ہوتی

صوابی(محمد شعیب؍نمائندہ شہباز)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدرو سابق وزیر اعلی خیبر پختونخوا امیر حیدر خان ہو تی نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ افغانستان اور پاکستان میں موجودہ حالات کے تناظرمیں ایک منظم طریقے سے ایک بار پھر بد امنی اور جنگ کاماحول پیدا کیا جارہا ہے اس لئے ہم سب کو اپنے بچوں کے روشن مستقبل کی خاطر اس کو بے نقاب کرنے کے لئے اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔

 

انہوں نے کہا کہ اس ظلم کے خلاف ثابت قدم رہیں گے اور یہ عہد اور وعدہ کر تے ہیں کہ پختونوں کی بقاء اور سالمیت کے لئے موجودہ حالات کے تناظر میں اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر چل کر ان کے اس سفر کو جاری رکھیں گے۔

 

ان خیالات کااظہار انہوں نے موضع یار حسین میں ورکرز کنونشن اور بعد ازاں یونین کونسل یعقوبی ، سوڈھیر اور اسماعیلہ میں الگ الگ شمولیتی اجتماعات سے خطا ب کر تے ہوئے کیا جس میں سابق کونسلر و پی ٹی آئی کے رہنما شہباز خان، سر زمین خان ، حیات سید باچا ، سکندر حیات ، سیف الوہاب ، سردار حسین ، فیض محمد خان ، سیار خان ،ملوک تاج ، ناظم خان اور دیگر نے اپنے خاندان اور تین سو ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا۔

 

حیدر ہوتی نے کہا کہ اس خطے میں ایک منظم طریقے سے بد امنی آرہی ہے اور ایک دوسری جنگ مسلط کی جارہی ہے جس میں بے گناہ پختونوں کا خون بہایا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کی جنگ کے حوالے سے ہم 40 سالہ آزمائش سے گزر چکے ہیں جب افغانستان میں حالات کشیدہ ہو ںتو ضرور پاکستان اورخطے میں حالات خراب ہوںگے جب وہاں امن و امان ہو تو پورے خطے میں امن ہو گا۔

 

انہوں نے کہا کہ ضلع سے لے کر یو سی اور ویلج کونسل تک تنظیموں پر بھاری ذمہ داری عائد ہو تی ہیں جہاں تنظیم نہ ہو وہاں تنظیمیں بنائی جائے اور جہاں نا مکمل ہو وہاں مکمل کئے جائیں اسی طرح غیر فعال تنظیموں کو فعال کیا جائے اور صلاح و مشورے سے تنظیموں کو ترجیح دی جائے۔

 

انہوں نے واضح کیا کہ جہاں تنظیم ہو اور پارٹی کاز کے لئے فعال کردار ادا نہیں کر رہی ہے تو اس کی جگہ دوسری تنظیمیں قائم کی جائیں انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات چونکہ غیر سیاسی بنیادوں پر ہوںگے اس لئے ہر نشست پر پارٹی کے ایک امیدوار سے زیادہ امیدوار کھڑے نہ کئے جائیں تاکہ پارٹی اس عمل سے تقسیم نہ ہو سکے بلکہ متفقہ امیدوار کی نامزدگی سے وہ کامیابی سے ہمکنار ہو سکے اسی طرح مقامی سطح پر حالات کے تناظر میں دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کیا جاسکتا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ الیکشن کرانا اور جیتنا ایک مشکل کام ہے اس لئے تنظیموں کو اس میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔

 

انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر میں اے این پی کی تشکیل شدہ کمیٹیوں کے دوروں کا مقصد تنظیموں اور کارکنوں کو فعال کرنا ہے۔ ہر کونسل ، ضلع ، تحصیل اور ویلج کونسل تنظیموں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں باچا خان بابا اور ولی خان بابا کا سوچ و فکر پارٹی کا نظریہ ،منشور اور سیاست کی پرچار کریں اور عوام کو اس بات پر سمجھائیں کہ اے این پی کا منشور اور نظریہ کیا ہے اور کیا چاہتی ہے اور اے این پی کیا کہہ رہی ہے۔