خطے میں مستحکم امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے، شہباز شریف

خطے میں مستحکم امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے، شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت بدترین سیلاب سے متاثر ہے، ہمیں جن مسائل کا سامنا ہے، اس کا سبب ہم نہیں ہیں، خطے میں مستحکم امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے، جنگ کسی مسئلے کا حل نہيں، پاکستان بھارت سميت تمام ممالک سے دوستانہ تعلقات چاہتا ہے۔

 

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان کو جس سیلابی صورتحال کا سامنا ہے لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا، پاکستان اس وقت بدترین سیلاب سے متاثر ہے، سیلاب کے باعث ملک میں 1500 سے زائد اموات ہوچکی ہیں، 40 دن اور 40 راتیں بارشیں اور سیلاب متواتر آتے رہے، آج بھی ملک کا بڑا حصہ سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے، خواتین اور بچوں سمیت 3 کروڑ 30 لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ ملک کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں خود گیا ہوں، ہمارے گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جنگلات جل رہے ہیں، موسمیاتی تبدیلی نے پاکستان کو 10 انتہائی غیر محفوظ ممالک میں لاکھڑا کیا ہے، پاکستان کا دورہ کرنے پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا شکر گزار ہوں، انتونیو گوتریس نے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، انہوں نے متاثرین کیساتھ وقت بھی گزارا۔

 

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اس طرح کی قدرتی آفت کو پہلے کبھی نہیں دیکھا، ماحولیاتی مسائل کی وجہ سے پاکستان شدید متاثر ہو رہا ہے، ہمیں جن مسائل کا سامنا ہے اس کا سبب ہم نہیں ہیں۔

 

شہباز شریف نے کہا کہ جس حد تک ممکن ہے اپنے اخراجات سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے وقف کئے، ہمارے پاس فنڈز اور ضروریات کے درمیان فرق بڑھتا جا رہا ہے، سیلاب کی وجہ سے ایک کروڑ 10 لاکھ لوگ سطح غربت سے نیچے چلے جائیں گے، پاکستان کو اس وقت معاشی استحکام کی ضرورت ہے۔

 

وزیراعظم کا جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب میں کہنا ہے کہ بھارت نے 5 اگست 2019ء کو مقبوضہ کشمیر میں غیرقانونی اقدام کیا، بھارت نے یکطرفہ اقدام کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت کو بدلا، بھارت کشمیریوں کے ماورائےعدالت قتل، ظلم اور بربریت میں ملوث ہے، بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت بدلنے کی کوشش کی، بھارتی مظالم کیخلاف کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، ہمیشہ کشمیریوں کے حقوق کیلئے ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

 

انہوں نے دنیا کے سامنے واضح کیا کہ بھارت سمیت تمام ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں، بھارت نے یکطرفہ اقدامات سے خطے کے امن کو داؤ پر لگادیا، امن سے رہنے کا یا لڑنے کا فیصلہ ہم نے خود کرنا ہے، جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، پُرامن مذاکرات ہی مسائل کا حل ہے، بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں 9 لاکھ فوج تعینات کر رکھی ہیں۔

 

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طویل عرصے کے بعد حالات بہتر ہورہے ہیں، ان حالات میں افغان حکومت کو اکیلے چھوڑنا مسائل کو جنم دے سکتا ہے، افغانستان کے مالی اثاثوں کو جاری کرنا افغان معیشت کی بحالی کیلئے انتہائی اہم ہے۔

 

شہباز شریف نے کہا کہ میں بھارت کے ساتھ بیٹھ کر مسئلہ کشمیر پر بات چیت کیلئے تیار ہوں، تاکہ مشترکہ وسائل عوام کی بہتری اور ماحولیاتی مسائل کے حل کیلئے استعمال کرسکیں، ہم بھارت کے ساتھ طویل مدت کا امن چاہتے ہیں، بھارت سے طویل امن صرف مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل سے ہی ممکن ہے۔

 

ان کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل میں مزید 11 غیر مستقل ارکان شامل کرکے اس کے اختیارات بڑھانے کی ضرورت ہے، سلامتی کونسل میں مزید مستقل ارکان شامل کرنے سے توازن خراب ہوگا، بہتر نہیں۔

 

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ہر شکل اور صورت میں دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے، دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، ہم سرحد پار دہشت گردی کو شکست دینے میں ڈٹے ہوئے ہیں، ہم اسرائیل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فلسطینیوں کے خلاف مظالم بند کئے جائیں۔

 

شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اسلاموفوبیا ایک عالمی رجحان ہے، نائن الیون کے بعد سے مسلمانوں کے خلاف رویوں میں شدت آئی ہے، اقوام متحدہ اسلاموفوبیا سے متعلق اپنائی گئی قرارداد پر عمل درآمد یقینی بنائے۔