ٹارگٹ کلنگ کے تمام واقعات کی ذمہ دار ریاست ہے۔پختون قومی جرگہ

 ٹارگٹ کلنگ کے تمام واقعات کی ذمہ دار ریاست ہے۔پختون قومی جرگہ


عوامی نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام باچا خان مرکز پشاور میں پختون قامی امن جرگے کا انعقاد کیا گیا۔ جرگے کی صدارت عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کی۔جرگہ میں سیاسی جماعتوں کے قائدین اور رہنماں سمیت وکلا، تاجر،اساتذہ سمیت اے پی ایس شہدا فورم کے نمائندوں نے بھی جرگے میں شرکت کی۔

 

جرگے کے اختتام پرتمام شرکا کی تجاویز کی روشنی میںگیارہ نکاتی مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ،اس موقع پر پختونخوا میں امن وامان کی صورتحال بہتر بنانے اور انتہاپسندی کا راستہ روکنے کیلئے پختون قومی اتحاد بنانے کا بھی اعلان کیا گیا۔

 

 جرگہ کے اختتام پر اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے دیگر سیاسی قائدین اور اور رہنماں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پشتون قومی امن  جرگہ واضح کرتا ہے کہ ریاست کی پالیسی میں بنیادی تبدیلیاں لانے کی بجائے دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں آسکتا۔ اگر کوئی مذاکراتی عمل ہوتا بھی ہے  تو صرف اور صرف پارلیمان کی سربراہی اور آئین کے فریم ورک میں قابل قبول ہوگا۔  

 

دہشت گردی میں بنیادی طور پر پشتون قوم بہت بڑے پیمانے پر متاثر ہو چکی ہے ، پشتونوں کی سیاسی قیادت اور دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کی رائے کے بغیر ہمیں کوئی مذاکرات قابل قبول نہیں ہوں گے۔

 

انہوں نے کہا کہ جرگے نے فیصلہ کیا ہے کہ مزید پشتون سرزمین پر نہ تزویراتی گہرائی کی پالیسی کو برداشت کیا جائے گا اور نہ ہی کسی بھی قسم کی جنگی اقتصاد کو۔ ریاست کے ساتھ آئین کی صورت میں ہمارا جو عمرانی معاہدہ ہے اس میں طالبان کو ریاست کے دفاعی اثاثوں کے طور پر رکھنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ ریاست کے جو ادارے طالبان کیلئے گنجائش ڈھونڈتے ہیں وہی عمرانی معاہدے کے توڑنے کے ذمہ دار ہوں گے۔

 

پشتون قوم ریاست کو مزید یہ اجازت ایک دن کیلئے بھی نہیں دے سکتی کہ وہ پختون سرزمین پر ماضی کی طرح ایک بار پھر اپنی رٹ طالبان کے حوالے کر دے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پشتون قومی امن جرگہ بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں پرامن مظاہرین پر فائرنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔

 

 پختون قومی امن جرگے مذکورہ واقعے کے خلاف ہرنائی میں احتجاجی دھرنیکے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور دھرنے کے مطالبات کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ پختون قومی امن جرگہ وزیرستان، دیر، سوات، مہمند اور پختونخوا کے دیگر علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف احتجاجوں کے باشعورشرکا باالخصوص نوجوانوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہے اور توقع رکھتا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی اپنی سرزمین کی ملکیت کا دعوی اس سے بھی  مثر انداز میں کریں گے ۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ پختونخوا کے مختلف علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات نے ایک معمول کی شکل اختیار کرلی ہے،جرگہ اس عمل کو تشویشناک سمجھتا ہے۔  باشعور اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور قاتلوں کو ہمیشہ "نامعلوم" کے پردے میں چھپایا جارہا ہے۔

 

 پشتون قومی جرگہ واضح کرتا ہے کہ ہمارے لئے "نامعلوم" کا جواز کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ ہم ٹارگٹ کلنگ کے ہر واقعے کی زمہ دار ریاست کو ٹھہراتے ہیں۔ 

 

اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان کا مزید کہنا تھا کہ ایک  منتخب پشتون ایم این اے علی وزیر ڈیڑھ سال سے سلاخوں کے پیچھے پڑے ہیں۔ ریاست کا رویہ ان کے ساتھ انتہائی انتقامی ہے جس میں پشتون دشمنی کا عنصر بڑا واضح ہے۔

 

 علی وزیر ریاستی دہشت گردی کے خلاف ایک توانا آواز ہیں، ان کا خاندان دہشت گردوں کے ہاتھوں اجڑ گیا ہے۔ انصاف فراہم کرنے کی بجائے ان کو احتجاج کرنے پر انتقام کا نشانہ بنانا ناقابل برداشت ہے۔ پشتون قومی جرگہ علی وزیر کی فوری  رہائی کا پرزور مطالبہ کرتا ہے۔

 

ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ یہ جرگہ مطالبہ کرتا ہے کہ پختونخوا کے نئے اضلاع میں تمام اختیارات کو فوری طور پر سویلین اداروں کے سپرد کیا جائے اور قانون نافذ کرنا کا سارا انتظام پولیس کے حوالے کیا جائے۔

 

انہوں نے کہا کہ ہم استعماری آرڈینینس ایکشن ان ایڈ آف سول پاور کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہے گزشتہ تین سالوں سے پختونخوا میں آرڈینینس ایکشن ان ایڈ آف سول پاور نافذ ہے جس سے صوبے میں عملا آئین کو معطل کیا گیا ہے۔  

 

انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں خطرناک اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ عقوبت خانے قائم کئے گئے ہیں جن میں سالوں سے پشتونوں کو بدترین ٹارچر کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

 

 پختونخوا میں جاری بھتہ خوری کی مذمت کرتے ہوئے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا کہ پختونخوا کی سرزمین پر جنگی اقتصاد کو فعال رکھنے کیلئے بھتہ خوری کا عمل جاری ہے۔ پختونخوا کے موجودہ وزیراعلی، کئی وزرا، سابق گورنر اور سابق سپیکر طالبان کو بھتے دے رہے ہیں۔ صوبائی حکومت اور تحریک انصاف آج تک اس انکشاف کی تردید نہیں کرچکی ہے۔ پشتون قوم کے قاتلوں کو حکومتی سطح پر بھتہ دینا ایک قومی جرم اور ریاستی دہشت گردی ہے۔ یہ جرگہ مطالبہ کرتا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کرنے کیلئے پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے۔

 

صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا کہ  جبری گمشدگیوں کو قانونا جرم قرار دیا جائیاور یہ جرگہ مطالبہ کرتا ہے کہ پشتون لاپتہ افراد کو عدالتوں میں پیش کیا جائے۔ 

 

انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف احتجاج کرنیوالوں پر مقدمات کرنا انتہائی قابل مذمت عمل ہے۔مقدمات درج کرنے سے ثابت ہوتا ہے کہ عوام کے خلاف ریاست اور طالبان ایک پیج پر ہیں۔ ان مقدمات کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔