داتا علی ہجویری رحمة اللہ علیہ  کی تعلیمات

داتا علی ہجویری رحمة اللہ علیہ  کی تعلیمات


محمد برہان الحق
اولیائے کرام کا پیغام دینی تعلیمات کی تبلیغ کے ساتھ ساتھ انسانیت کے احترام کی تلقین کرتا ہے۔ انسانیت کی خدمت اور ایثار و قربانی کا یہی پیغام حضرت داتا گنج بخش کی تعلیمات کا بنیادی جزو ہے۔ نہ صرف برصغیر بلکہ دنیا بھر کے انسان حضرت داتا گنج بخش کے علوم و فیوض اور تعلیمات سے مستفید ہو رہے ہیں۔
حضرت سَیِّدنا داتا علی ہجویری رحمة اللہ علیہ چونکہ تصوُّف کے اعلیٰ ترین مرتبے پر فائز عشقِ حقیقی سے سرشار فنا فی اللہ بُزرگ تھے لہٰذا آپ کی گفتگو کے ہر پہلو میں رضائے الٰہی، مسلمانوں کی خیرخواہی اور عقائد و اعمال کی اصلاح سے متعلق مہکتے پھول نظر آتے ہیں۔ ان میں سے چند اقوال درج ذیل ہیں:


1۔ کرامت ولی کی صداقت کی علامت ہوتی ہے اور اس کا ظہور جھوٹے انسان (کاذب) سے نہیں ہو سکتا۔


2۔ ایمان و معرفت  الہی کی انتہا عشق و محبت ہے اور محبت کی علامت بندگی (عبادت) ہے۔


3۔ حضرت داتا گنج بخش نے فرمایا  کلام دو قسم کا ہے اور خاموشی کی بھی دو قسمیں ہیں۔ ایک کلام کی بنیاد حق پر ہوتی ہے اور دوسرے کی باطل پر۔ اسی طرح ایک خاموشی تو مقصود حاصل ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے اور دوسری غفلت پر مبنی ہوتی ہے۔ کلام یا خاموشی کے وقت ہر شخص کو اپنا جائزہ لینا چاہیے۔ اگر کلام کی بنیاد حق پر ہے تو کلام بہتر ہے ورنہ خاموشی کلام سے بہتر ہے۔


4۔ کھانے کے آداب میں سے ہے کہ تنہا نہ کھائے اور جو لوگ مل کر کھائیں وہ ایک دوسرے پر ایثار کریں۔


5۔ مسلسل عبادت و ریاضت سے مقامِ کشف و مشاہدہ ملتا ہے۔


6۔ ایک صوفی اور مولوی کے درمیان یہی بنیادی فرق ہے کہ مولوی لوگوں کو ان کے عقائد و نظریات اور مذہب و مسلک دیکھ کر پرکھتے جبکہ صوفی بارش کے اس قطرے کی مانند ہے جو ہر جگہ برستا ہے، اگر وہ زرخیز مٹی پر برسے تو اس کو مزید زرخیز بنا دیتا ہے اور بنجر زمین پر برستا ہے تو وہاں بھی سبزہ اگا دیتا ہے۔


7۔ غافل امرائ، کاہل (سُست) فقیر اور جاہل درویشوں کی صحبت سے پرہیز کرنا عبادت ہے۔
8۔ سارے ملک کا بگاڑ ان تین گروہوں کے بگڑنے پر ہے۔ حکمران جب بے علم ہوں، علماء جب بے عمل ہوں اور فقیر جب بے توکل ہوں۔


9۔ رضاکی دو قسمیں ہیں: (1) خدا کا بندے سے راضی ہونا۔ (2) بندے کا خدا سے راضی ہونا۔ (اقوال زرین کا

انسائیکلوپیڈیا ص ٦٧) 
10۔ حضرت داتا صاحب فرماتے ہیں، جب تک بندہ اس دنیا میں نفس اور خواہشاتِ نفس کے چنگل سے نہیں نکلتا معرفت سے سر فراز نہیں ہو سکتا۔ فرماتے ہیں کہ نفس کی مخالفت تمام عبادتوں کا سرچشمہ ہے۔ نفس کو نہ پہچاننا اپنے کو نہ پہچاننا ہے، جو شخص اپنے کو نہیں پہچانتا، وہ خدا کو نہیں پہچان سکتا۔ نفس کا فنا ہو جانا حق کی بقا کی علامت اور نفس کی پیروی حق عزوجل کی مخالفت ہے۔ نفس پر جبر کرنا یعنی نفسانی خواہشوں کو روکنا جہادِ اکبر ہے۔


حضرت داتا گنج بخش نے تین قسم کے لوگوں سے دور رہنے کی ہدایت فرمائی ہے۔ غافل علما سے، جنہوں نے دنیا کو اپنے دل کا قبلہ بنا لیا ہو۔ ریاکار فقرا سے، جو فقط اغراضِ نفسانی کے لیے لوگوں سے جاہ وعزت کی تمنا رکھتے ہوں اور جاہل صوفی سے، جس نے نہ تو کسی مرشد کی صحبت میں رہ کر تربیت پائی ہو نہ کسی استاد سے ادب سیکھا ہو۔


11۔ دنیا سرائے فساق و فجار (گنہگاروں کا مقام) ہے اور صوفی کا سرمایہ زندگی محبتِ الٰہی ہے۔ (کشف

المحجوب مترجم،ص٤٠١)
12۔ بھوک کو بڑا شرف حاصل ہے اور تمام امتوں اور مذہبوں میں پسندیدہ ہے اس لیے کہ بھوکے کا دل ذکی (ذہین) ہوتا ہے، طبیعت مہذب ہوتی ہے اور تندرستی میں اضافہ ہوتا ہے اور اگر کوئی شخص کھانے کے ساتھ ساتھ پانی پینے میں بھی کمی کر دے تو وہ ریاضت میں اپنے آپ کو بہت زیادہ آراستہ کر لیتا ہے۔ (کشف

المحجوب مترجم،ص٩١٥)
13۔ جو علم کو دنیاوی عزت و وجاہت کے لیے حاصل کرتا ہے، درحقیقت وہ عالم کہلانے کا ہی مستحق نہیں، کیوںکہ دنیاوی عزت و جاہ کی خواہش کرنا بجائے خود از قبیلِ جہالت ہے۔ طالبِ حق کو چاہیے کہ اللہ کے مشاہدے میں عمل کرے، مطلب یہ کہ بندہ (یہ) اعتقاد رکھے کہ اس کا ہر عمل اللہ کے علم میں ہے اور وہ اس کے افعال کو ملاحظہ فرما رہا ہے۔


خداوند عالم کی کتاب لا ریب بندگان خدا کو اسلوب زندگی کا راستہ دکھاتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے آج کی نسل نو حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری کی تعلیمات سے رہنمائی لے کہ کس طرح اللہ والوں نے ہر لمحہ یاد الہی سے روشن کیا۔ بارگاہ لم یزل سے آج انعام و اکرام کے مستحق ٹھہرے ہیں۔


حضور داتا علی ہجویری رحمہ اللہ کی تعلیمات پر عمل کر کے ہم اوج ثریا کی بلندیوں کو حاصل کر سکتے ہیں۔ اللہ ملک پاکستان کی خیر فرمائے اورملک پاکستان کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت فرمائے اور مشکلات میں مبتلا لوگوں کی مدد فرمائے۔ آمین!