سچ تو یہ ہے

سچ تو یہ ہے

تحریر: کڈوال ناصر

یہ تو سورج سے روشن اور پانی جیسی شفاف حقیقت ہے، مذہب ہی ہے جس نے انسان کی بے راہ روہی کو باقی تمام راستوں سے بہتر نکیل ڈالا ہے، اخلاقیات کی ایسی حدود میں وحشت کو قید کیا ہے مذہب نے جہاں ہر انسان دوسرے انسان کو جنگلی درندوں کی طرح نوچ کر فخر محسوس کرتا، جیسا کہ آج کل بھی کچھ انسان نما بھیڑیے کہیں کہیں نظر آتے ہیں جو وحشت کر کے سکون محسوس کرتے ہیں۔ مگر یہاں بدقسمتی سے جب سے مذہب کا خیال یا فکر انسان کے دماغ میں سما گیا تب سے تاریخ کے اوراق سے دیکھنے کو ملتا ہے ایک گروہ اس راستے کو، جسے مذہب کا نام دیا جاتا ہے، جس کو انسان کے وجود کو باقی مخلوقات سے بہتر دکھانے کا راستہ یا طریقہ کہا جاتا ہے، اپنے مذموم اور غلط خواہشات کو حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہوئے دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو دوغلے اگر کہا جائے تو بھی غلط نہ ہو گا کیونکہ یہ لوگ مذہب سے عقیدت اور محبت رکھنے والے معصوم لوگوں کے جذبات سے کھیلتے ہیں۔ یہی لوگ مذہب کو باقی لوگوں کی سوچ و فکر میں غلط متعارف کروا دیتے ہیں، مذاہب کو نقصان سب سے زیادہ بھی یہی لوگ پہنچا چکے ہیں حالانکہ دنیا کے کسی مذہب میں چاہے وہ آسمانی مذہب ہو یا انسانی کہیں پر انسان کو مجرم نہیں بنایا جاتا اور نہ انسان کے اعمال کو غلط راستوں پر ڈالنے کی تلقین کی جاتی ہے۔ کچھ لوگ جو کہیں پر مذہب کو کمائی کے لیے تو کہیں پر اپنا قبضہ جمانے کے لیے مذہب کا غلط استعمال کرتے ہیں، ہر مذہب میں تقریباً یہی حالات ہیں۔ مسلمانوں میں باقی مذاہب سے کچھ زیادہ روشن تاریخ دوغلے پن کی موجود ہے۔ اگر ہم صرف خلافت عثمانیہ کے دور کا مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کس طرح مسلمان مذہبی پیشواؤں نے کرنل تھامس ایڈورڈ کے ساتھ، جو کہ ''لارنس آف عربیہ'' کے نام سے مشہور ہے، مل کر اپنی ہی خلافت کو نیست و نابود کیا حالانکہ برطانیہ بہت سی کوششوں کے باوجود جنگی محاذ پر خلافت عثمانیہ کو شکست نہیں دے سکا تھا۔ مسلمانوں کے اسی کردار کے ساتھ اگر کبھی تاتاریوں کے ہاتھوں بغداد میں آپس میں لڑنے والے شیعہ اور سنیوں کی داستان پڑھو گے تو کانوں کو ہاتھ لگائے زبان پر توبہ توبہ کیے بغیر کوئی عقلمند انسان نہیں رہ سکتا، جن کی آپسی چپقلش کے سبب ان کے بادشاہ کارپٹ میں لپیٹ دیے گئے تھے، لاتوں سے مار مار کر اسے مار دیا گیا، مسلمانوں کی کھوپڑیوں کے مینار بنائے گئے۔ انہی داستانوں کے اثرات چلتے چلتے آج تک دنیا بھر میں دکھائی دے رہے ہیں، اور خاص کر یہ منافع بخش مذہبی کاروبار ہم پشتونوں کے یہاں کوئی اور رنگ رکھتا ہے۔ دنیا کے باقی خطوں میں جب وقت گزرنے کے بعد اصل سازش کا پتہ چلتا ہے تو اس پر لعن طعن اور قوموں کے یہاں ندامت ہوتی ہے مگر ہم پشتونوں کے یہاں آپ لاکھ تاریخی حقائق ہمارے ان پیارے کاروباری حضرات کے پیروکاروں کے سامنے رکھو، وہ کبھی بھی یہ حقائق تسلیم نہیں کریں گے بلکہ اس کے برعکس ان مذہبی پیشواؤں کو اپنا نجات دہندہ اور جنت میں پہنچانے کا واحد واسطہ آج بھی سمجھتے ہیں۔ پشتون کی تاریخ میں پیر روشان  پانے والے لقب کے بالکل عین مطابق روشن انسان تھے، جن کے علمی مکاتب کو اگر آج بھی دیکھا جائے تو اسلام کی اصل مذہبی روایات اور حقائق کے عین مطابق تھے، جن سے پشتون معاشرہ بہرہ مند ہو سکتا  تھا مگر بدقسمتی دیکھئے آج بھی مذہبی دوغلوں کے یہاں آخوند دوریزہ پیرروشان سے معتبر گردانے جاتے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی مذہبی نام کو استعمال کرنے والے کہ آخوند دوریزہ مغل بادشاہ جلال الدین محمد اکبر کا ایک جاسوس تھا جس نے جاسوسی اپنے پیر، پیر سید علی المعروف پیر بابا کے کہنے پر شروع کی تھی۔ آج بھی لاکھوں لوگ دین الہی ایجاد کرنے والے مغل اکبر بادشاہ کے جاسوسوں کو اپنے بے لوث خدمتگار، شاعر، ادیب اور جنگجو سالار بازید روشان ''پیرروشان'' سے اچھا اور معتبر سمجھتے ہیں۔ آج بھی پشتون کے مولوی صاحبان نے اپنے ہی معاشرے کے ایک بزرگ پیر روشان کی کتاب ''خیرالبیان'' کے مقابلے میں مغلوں کے جاسوس آخوند درویزہ کی کتاب ''مخزن الاسلام'' کو اچھا سمجھ کر مذہبی تعلیم کے نصاب میں شامل کیے رکھا ہے۔ اس کے علاوہ پہلی افغان اینگلو جنگ سے لے انگریزوں نے پشتون وطن پر ایک عرصہ تک پہ درپے حملے کیے،1919  تک کا عرصہ انگریزوں کے ساتھ جنگ میں کئی سال گزارنے والے پشتونوں کو جب غازی امان اللہ نے آزاد کروایا، فتح دلوائی تو اسی کے خلاف انگریزوں نے خلافت عثمانیہ کے خلاف استعمال ہونے والے جاسوس لارنس آف عربیہ کو بڑی چالاکی اور مکاری سے استعمال کیا۔ لارنس آف عربیہ یہاں پیرکرم شاہ کے نام سے پہاڑوں میں سادہ لوح پشتونوں کو ورغلاتا رہا اور پشتون اس کے دھوکے میں آتے گئے۔ مشرق میں اس کا اثر کافی حد تک ہوا۔ گوڈ ملا جو کہ شینواری ملا کے نام سے بھی مشہور تھا، شپون ملا اور بڑے پارسا اور پہنچے جانے والے اس وقت کے چکنور ملا صاحب اور اسی طرح تقریباً اکثریت مذہبی پیشواؤں کی اس وقت امیرامان اللہ خان کے خلاف ایک محاذ پر تھی، سب ایک انگریز کے ہمنوا تھے، جن میں اکثریت پیسہ کے لیے اپنے شاہ کے خلاف مختلف حربوں اور طریقوں سے برسر پیکار تھے۔ کرنل تھامس المعروف لارنس آف عربیہ اور اب پشتونوں میں پیرکرم شاہ نے ٹیکنالوجی کا استعمال ایسا کیا جس کے واقعات کبھی کہیں پر جب پڑھنے کو ملتے ہیں تو ہنسی نکل جاتی ہے۔ لاؤڈ سپیکر پہاڑوں اور درختوں میں لگائے جاتے تھے اور کسی پتھر کے پیچھے چھپ کر اس میں پیر کرم شاہ کے پیروکار اور چہیتے نعرہ لگاتے تھے ''امیر امان اللہ کافر'' تو اسی وقت سننے والے سارے سادہ اور جاہل پشتون سجدہ ریز ہو جاتے تھے، وہ یہ نعرے خدا اور فرشتوں کے نعرے سمجھتے تھے۔ پیر کرم شاہ نے اپنی ان شاطرانہ چالوں کے کامیاب وار دیکھ کر کئی کتابیں اس وقت کے ہندوستانی ملاؤں سے لکھوا لیے تھے اور ساتھ میں ملکہ ثریا کی قابل اعتراض تصاویر بنا کر ان ملاؤں میں بانٹ دیں جنھوں نے امان اللہ خان کے خلاف نہ صرف کفر کے فتوے صادر کیے بلکہ امان اللہ خان کے خلاف عوام کے جذبات کو بھی ابھارا۔ آخر حالات کے خراب ہونے کے سبب غازی امان اللہ خان کو اپنے وطن سے جلاوطن کر دیا گیا۔ آج بھی پشتونوں میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو امیر امان اللہ کو نہ صرف غلط سمجھتے ہیں بلکہ اس پر بے وزن دلائل اور غلط تصورات جو ماضی میں بنائے گئے کو سچ مان کر پیش کرتے ہیں۔ روس امریکہ لڑائی کو بھی مذہب کے نام پر پشتون سب حقائق جانتے ہوئے بھی آج تک جہاد کے نام سے نہ صرف تشبیہ دے رہے ہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کے مرنے کے باوجود وہ اپنے آپ کو فاتح سمجھتے ہیں۔ افغانستان میں حکومتی چپقلش کو مذہب کے نام پر سب سے زیادہ کیش کیا جاتا رہا اور افغان صدر ڈاکٹر نجیب کو پہلے مذہب کو استعمال کرتے ہوئے حکومت سے علیحدہ کیا گیا پھر مذہب کے نام پر اپنے بھائی سمیت مار دیا گیا۔ مذہبی کاروباری حضرات کے پیروکار تمام سیاسی حالات کو جانتے ہوئے بھی آج تک ڈاکٹر نجیب شہید کی شہادت کو مختلف جواز دے کر درست ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں حالانکہ ان کے خود کچھ مذہبی پیشواوں نے اس عمل کو غلط قرار دیا ہے۔ پاکستان کے پشتون علاقوں میں بھی حالات جوں کے توں ہیں، مذہبی کارڈ استعمال کرنے والے سیاستدانوں نے پاکستان کی اسمبلیوں میں جگہ بھی پشتون ووٹ بنک سے بنائی، بہت کچھ پایا مگر بدقسمتی سے اسی مذہب کے نام پر کمائی کرنے والوں نے پرائی جنگوں میں جہاد کے نام پر مروائے بھی پشتونوں کے بچے، خود کے بچوں کو دنیا کے مختلف ممالک سے اور پاکستان کے بڑے بڑے تعلیمی اداروں سے تعلیم دلوائی جبکہ غریب پیروکاروں کے بچوں کو ایسے تہہ تیغ کیا جس کی مثال دنیا کی تاریخ میں بہت کم ملتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل انہی مذہبی کاروباری سیاسی و غیر سیاسی رہنماوں نے افغان جنگ کو اپنی غلطی ماننے کے بجائے پاکستان کے مقتدر حلقوں کے گلے میں ڈالنے کی کوشش کی، پھر کیا جب امریکہ افغانستان سے نکلنے لگا تو ادھر ان مذہب فروش برائے نام مذہبی رہنماوں نے ایک بار پھر اسی پرانے ناچ کو اپنے لیے منتخب کیا، سرعام جلسوں میں افغانستان میں برپا شدہ فساد کو جہاد کہنے لگے، اب اس کو بدقسمتی سمجھیں یا پشتونوں کی جہالت، جو کچھ عرصہ قبل ریکارڈ پر موجود ان مفت خوروں کے دوغلے پن کو نہیں دیکھ رہے اور نہ سمجھ رہے ہیں۔ آج ایک مرتبہ پھر ان دو زبانیں رکھنے والوں کے کہنے پر دوسروں کے چھوٹے چھوٹے بچوں کو یتیم کرنے اور کروانے کے لیے جا رہے ہیں، مذہب کے اس بیوپار میں پشتونوں کا معاشرہ خاص پاکستان بننے کے بعد سرفہرست ہے جس میں کچھ قابل ذکر مذہبی کاروباری حضرات بہت مشہور ہوئے جن کو نسلوں تک نہ صرف منافع مل رہا ہے بلکہ منصب بھی ملے ہیں۔ اب بھی یہ اپنے کاروبار کو دین اسلام کے نام پر جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ کاروبار تو ان کے پیٹ کا مسئلہ ہے، عقل سے خالی ان کے پیروکاروں کو کیوں یہ عقل نہیں آ رہی، قاضی حسین پشتون بچوں کو ساری زندگی جہاد پر بھیجتا رہا اور اپنے بیٹے لقمان آصف قاضی اور اپنی بیٹی کو دنیاوی اعلی تعلیم دلوایئی، سراج الحق صاحب آج بھی اپنے بیٹے کو پشاور کے ایک پرائیویٹ میڈیکل کالج میں لاکھوں روپے فیس دے کر پڑھوا رہے ہیں، مولانا سمیع الحق خود کو روس کے دور میں مجاہدین اور پھر بعد کے طالبان کا روحانی والد سمجھتے رہے مگر بیٹے کو دنیاوی جانشین رہنے دیا ان کو جہاد اور جنت کے راستے پر کبھی نہیں ڈالا۔ مفتی محمود نے افغان جہاد کا فتوی تو دیا مگر اپنے بیٹوں کو جنت کا حقدار کبھی نہیں سمجھا بلکہ اپنے بیٹوں کو سیاست اور دنیاوی تعلیم سے مالا مال کیا۔ خود موجودہ دور کے مجاہدین کے اعلی حضرت جی مولانا فضل الرحمن صاحب، جنہوں نے کچھ عرصہ قبل اپنے مدارس کے طلبا کے ہاتھوں میں بندوق تھمانے کا الزام پاکستان کے عسکری اسٹبلشمنٹ کے سر تھوپا مگر آج پھر ایک بار وہی پرانی روش اور لب و لہجے پر اتر آئے ہیں، طالبان کو نہ صرف اپنا فخر سمجھ رہے ہیں بلکہ پاکستانی اسٹبلمشنٹ طالبان کے حق میں پالیسی بنانے کی درخواستیں بھی کر رہے ہیں، ان کے اپنے بچے بڑی بڑی گاڑیوں میں بیٹھ کر زندگی کے مزے لے رہے ہیں، ایک بیٹا قومی اسمبلی کا ممبر بن کر ان کے مذہبی کاروبار کا مستقبل بننے کے نشان کے طور پر سامنے آ چکا ہے۔ مولانا نے بھی کبھی اس جہاد عظیم کے ثوابوں کے لیے اپنے بیٹے تیار نہیں کیے اور نہ کبھی اپنے پیارے بچوں کو اس آگ کی نذر کرنے پر تیار ہوں گے کیونکہ ان صاحبان کو معلوم ہے اس جہاد کی حقیقت جو دنیائی کمائی تو دے سکتا ہے مگر آخری کمائی جنت کا ذریعہ کبھی نہیں بن سکتی۔ یہی سچ ہے جس کو ہم پشتونوں کی اکثریت آج بھی نہیں مانتی۔