افغان خواتین کی آواز پر توجہ دینا پڑے گی

افغان خواتین کی آواز پر توجہ دینا پڑے گی

افغان خواتین کی آواز پر توجہ دینا پڑے گی
اس وقت اگر ایک طرف جمعہ کو افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک تعلیمی مرکز پر ہونے والے خودکش حملے میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے تو دوسری جانب افغانستان کی باشعور اور تعلیم یافتہ خواتین بھی اپنے حق کے لئے مسلسل احتجاج کر رہی ہیں اور نئے حکمرانوں سے امن و امان کے قیام کے ساتھ ساتھ خواتین کے بنیادی حقوق یقینی بنانے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔  جمعہ کو تعلیمی مرکز پر ہونے والے بم دھماکے کے خلاف کابل میں خواتین نے احتجاجی مظاہرہ کیا، مظاہرین نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر خاموشی اختیار نہ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم امارت اسلامیہ سے خواتین خصوصاً لڑکیوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں، لڑکیوں کے تعلیمی مراکز پر حملے ہو رہے ہیں، امارت اسلامیہ کو اس بات کا جواب دینا چاہیے کہ سیکیورٹی کو یقینی کیوں نہیں بنایا گیا؟ اگرچہ ہفتے کے روز کابل میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم ملا عبدالسلام حنفی نے حملے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے عزم کا اظہار کیا ہے تاہم افغانستان میں اب تک پیش آنے والے اس طرح کے بیشتر واقعات میں کبھی ملزموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکا نہ ہی اس طرح کے واقعات کے متاثرین کی خاطرخواہ دلجوئی کی گئی، جانوں کا ضیاع تو ویسے بھی ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ ماضی کے ریکارڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ اس افسوس ناک اور قابل مذمت واقعہ کے اصل کردار بھی گمنامی کے پردے میں ہی رہیں گے اور جاں بحق ہونے والے بے گناہ طلباء کا خون انصاف کی دہائیاں دیتا رہے گا۔ لیکن ایک امر طے ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ نئے حکمران عوام کی حمایت سے محروم ہوتے جائیں گے اور نا صرف اندرون ملک بلکہ عالمی سطح پر بھی تنہائی کا شکار ہوتے جائیں گے جس کی وجہ سے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جس قوم کی خواتین بیدار اور متحرک ہوتی ہیں اس قوم کو تادیر ظلم اور جبر سے مطیع اور اطاعت گزار نہیں بنایا جا سکتا نہ ہی اس قسم کی تحاریک یا آواز کو دبایا جا سکتا ہے۔ لہٰذا کابل کے نئے حکمران دور جدید کے تقاضوں کا جتنی جلدی ادراک کر سکیں اور ان کے مطابق خود کو اور اپنے طرز حکومت کو ڈھال سکیں اتنا ہی ان کے حق میں بہتر رہے گا۔
 
کپتان کی گرفتاری: قانون سے بالاتر کوئی نہیں
وفاقی کابینہ نے سائفر آڈیو لیکس کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے جبکہ دوسری جانب تھانہ مارگلہ کی جانب سے خاتون جج کو دھمکی دینے کے کیس میں ان کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کئے گئے ہیں۔ ہفتہ کو مریم نواز، وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سائفر کا معاملہ پارلیمنٹ میں جائے گا اور پارلیمنٹ ہی عمران خان کے خلاف آرٹیکل چھ کا ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کرے گی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر سائفر کے معاملے کو منطقی انجام تک نہیں لے کر گئے تو اپنے آئین کے ساتھ غداری کریں گے۔ سائفر کا معاملہ منطقی انجام تک پہنچے گا یا نہیں، اور اسے منطقی انجام تک نہ پہنچانا آیا آئین سے غداری کے مترادف ہے یا نہیں اس بحث سے قطع نظر اس ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ہو گا بصورت دیگر ملک مسائل کے جس گرداب میں پھنسا ہے ان کی شدت اور نوعیت میں اضافہ ہی ہوتا رہے گا۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کو بھی  اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہئے کہ ''حقیقی آزادی'' کی کوئی بھی تحریک قید و بند کی صعوبتوں، جائیداد و اثاثوں سے محرومی اور طرح طرح کی مشکلات سے عبارت ہوتی ہے، یہاں تک کہ آزادی کی راہ میں جانوں کی قربانی بھی دینا پڑتی ہے لہٰذا اگر وہ واقعی میں اس ملک میں قانون کی حکمرانی کے لئے جدوجہدکر رہے ہیں تو انہیں اپنے آپ کو قانون کے سامنے پیش کرنا ہو گا۔