آئین کی بالادستی کے سواء کوئی چارہ نہیں، سردار حسین بابک

آئین کی بالادستی کے سواء کوئی چارہ نہیں، سردار حسین بابک

پشاور۔۔۔ اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے پی ٹی آئی کے جلسوں میں آئین پر عملدرآمد کا ذکر تک نہیں ہورہا۔ ملک اور عوام کی مضبوطی آئین اور قانون کی بالادستی میں مضمر ہے۔ عوام کو حق حکمرانی کا حق واپس لوٹانے کا وقت آگیا ہے۔ عوامی حکمرانی کے بغیر اور آئین کی بالادستی کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ پڑوس میں حالات کنٹرول سے باہر ہوگئے ہیں۔ پاکستان کا پختون علاقہ ایک زمانے سے متاثرہ ہے۔

 

باچا خان مرکز پشاور سے جاری بیان میں صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ جلسوں جلوسوں میں پختونوں کے شہداکا ذکر سننے کو نہیں ملتا۔ آئین پر عملدرآمد اور اٹھارہویں ترمیم کے نفاذ کے بغیر پاکستان کے عوام سکون کی زندگی نہیں بسر کر سکتے ہیں۔ انتخابات جیتنے کیلئے مذہب کارڈ کا استعمال عام ہو گیا ہے۔ انتخابات جیتنے کیلئے کارڈز کا استعمال اور عوام کے سامنے منشور  نہ رکھنا مسائل میں مزید اضافے کا سبب بنے گی۔ عوام جذبانی نعروں کے بجائے اپنے بنیادی مسائل کے وکیل بنیں۔ سیاسی نو سرباز اقتدار میں آنے کیلئے اشتعال انگیزی اور انتہاپسندی کا سہارا لے رہے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ 45 سال سے پختون علاقے آگ اور خون کی جنگ میں دھکیل دیئے گئے ہیں۔ بڑے جلسوں میں پختون علاقوں کیلئے ہمدری کے دو الفاظ تک نہیں ہیں؟ دہشت گردی کی بدولت ہمارے لاکھوں نوجوان باہر ممالک میں دردر کی ٹھوکریں کھا نے پر مجبور ہیں۔ پختون نوجوان جلسوں کے مقابلے کا حصہ بننے کی بجائے اپنے مظلوم اور زخمی عوام کی وکالت کیلئے کمربستہ ہوں۔

 

انہوں نے کہا کہ ہمارے صوبے کو آئین حقوق سے ہر دور میں محروم رکھا جا رہا ہے۔ بتایا جائے کہ  پختونخوا کو گزشتہ حکومت نے کونسے آئینی حقوق دیئےہیں؟ کیا موجودہ حکومت پختونخوا کو آئینی حقوق دینے کا ارادہ رکھتی ہے؟ مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کا جینا حرام کر دیا ہے۔نئی حکومت کومسائل کے حل کیلئے سنجیدہ اور نظر آنے والی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔

 

انہوں نے مزيد کہا کہ دہشتگردی کی نئی لہر نے پختون علاقوں کو دوبارہ اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ حکومت پاک افغان تجارت کھولنے کیلئے اقدامات اٹھائے۔ پاک افغان تجارت کھولنے سے لاکھوں نوجوان بیرون ممالک سے واپس اپنے گھر بار میں محنت مزدوری اور کاروبار کرنے کے اہل ہو جائیں گے۔