افغان تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں، وزیر اعظم

افغان تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں، وزیر اعظم

 اسلام آباد (آن لائن) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ طالبان کو افغان جنگ میں مکمل فتح ہوئی تو بڑے پیمانے پر خون ریزی ہوگی،امریکہ کو افغانستان چھوڑنے سے قبل سیاسی حل نکالنا ہوگا،طالبان اور دوسرے فریق پر مشتمل اتحادی حکومت تشکیل دینا ہوگی۔

 

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ امریکہ اور سی آئی اے کو افغانستان میں کارروائی کیلئے اپنی سرزمین اور فوجی اڈے فراہم کریں گے نہ ہی فضائی حدود استعمال کی اجازت دی جائے گی ،افغان تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں،  ہم امن کے شراکت دار ہیں تنازع کے نہیں،پاکستان کا جوہری پروگرام دفاع کے لیے ہے، کسی ملک کے خلاف جارحیت کے لیے نہیں ہے، جوہری ہتھیاروں کے خلاف ہوں، کشمیر کا مسئلہ حل ہوگیا تو ان ہتھیاروں کی ضرورت نہیں رہے گی،چین نے ہمیشہ مشکل وقت میں  ہمارا ساتھ دیا،میں نے کبھی نہیں کہا عورتیں برقعہ پہنیں، ہمارے ہاں ڈسکوز اور نائٹ کلب نہیں ہیں،  اگر عورت مختصر کپڑے پہنے گی تو اس کا مردوں پر اثر پڑے گا۔

 

ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم نے امریکی ٹی وی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کیا ۔ وزیراعظم نے کہا کہ افغان تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں، سیاسی حل کے بغیر افغانستان میں خانہ جنگی کا خطرہ ہے، سیاسی حل یہ ہوسکتا ہے کہ ایک اتحادی حکومت تشکیل دی جائے جس میں طالبان اور دوسرے فریق شامل ہوں۔ جو بھی افغان عوام کی نمائندگی کرتا ہے ہم اس سے رابطہ رکھیں گے،وزیر اعظم نے خدشہ ظاہر کیا کہ  اگر طالبان کو افغان جنگ میں مکمل فتح حاصل ہوگئی تو بڑے پیمانے پر خون ریزی ہوگی جس کے نتیجے میں پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہوگا، لہذا امریکا کو انخلا سے قبل لازما سیاسی حل نکالنا ہوگا۔

 

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان امریکا اور سی آئی اے کو افغانستان میں فوجی کارروائیوں کے لیے اپنی سرزمین اور فوجی اڈے فراہم نہیں کرے گا، کیونکہ امریکا کی جنگ میں سب سے زیادہ پاکستان کا نقصان ہوا ہے اور ہمارے 70 ہزار افراد کی جانیں گئی ہیں، ہم اس جنگ کے مزید متحمل نہیں ہوسکتے، ہم امن میں شراکت دار ہوں گے لیکن تنازع میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم افغاانستان میں کارروائیوں کے لیے امریکی ایئر فورس کو اپنی فضائی حدود بھی استعمال نہیں کرنے دیں گے ، آخر جب 20 سال تک کوئی فائدہ نہ ہوا تو اب امریکا کیوں افغانستان پر بمباری کرے گا، اس کا اب کیا فائدہ ہوگا۔

 

انہوں نے کہا کہ برصغیر میں 1.4 ارب کی ا?بادی ہے جو کشمیر کے تنازع کی وجہ سے یرغمال بنی ہوئی ہے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق وہاں استصواب رائے ہونا چاہیے، اگر امریکا چاہے تو یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان کا جوہری پروگرام صرف ملک کے دفاع کے لیے ہے، یہ کسی ملک کے خلاف جارحیت کے لیے نہیں ہے، میں جوہری ہتھیاروں کے خلاف ہوں، مجھے پاکستان اور بھارت کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک ہونے پر خوشی ہوگی، کشمیر کا مسئلہ حل ہوگیا تو ان ہتھیاروں کی ضرورت نہیں رہے گی۔چین میں ایغور مسلمانوں پر مظالم سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ چینی حکومت کے مطابق ایسا نہیں ہے، چین نے ہر مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا ہے، مغربی دنیا میں کشمیر کو کیوں نظرانداز کیا جاتا ہے۔

 

ملک میں فحاشی اور جنسی زیادتیوں کے واقعات پر بات کرتے ہوئے عمران خان بولے کہ میں نے کبھی نہیں کہا عورتیں برقعہ پہنیں، عورت کے پردے کا تصور یہ ہے کہ معاشرے میں بے راہ روی سے بچا جائے، ہمارے ہاں ڈسکوز اور نائٹ کلب نہیں ہیں، لہذا اگر معاشرے میں بے راہ روی بہت بڑھ جائے گی اور نوجوانوں کے پاس اپنے جذبات کے اظہار کی کوئی جگہ نہ ہو، تو اس کے معاشرے کے لیے مضمرات ہوں گے، اگر عورت مختصر کپڑے پہنے گی تو لامحالہ اس سے مرد پر اثر پڑے گا الا یہ کہ وہ روبوٹ ہو، جہاں تک جنسی تشدد ہے اس کا تعلق معاشرے سے ہے، جس معاشرے میں لوگ ایسی چیزیں نہیں دیکھتے وہاں اس سے اثر پڑے گا لیکن امریکا جیسے معاشرے میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

 

زمانہ کرکٹ میں اپنی پلے پوائے جیسی زندگی سے متعلق سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ یہ میری ذات کی نہیں بلکہ میرے معاشرے کی بات ہے، میری ترجیح یہ ہے کہ میرا معاشرہ کیسے برتاؤ کرتا ہے اور کیا ردعمل آتے ہیں، لہذا جب ہمارے ہاں جنسی جرائم بڑھتے ہیں تو ہم بیٹھ کر اس مسئلے کا حل سوچتے ہیں۔