گھبرانا بالکل بھی نہیں ہے 

گھبرانا بالکل بھی نہیں ہے 

وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے مزید مہنگائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی کا بھائو بیرون ملک سے آ رہا ہے، ہمیں عوام کی مشکلات کا اندازہ ہے لیکن جلد ہی ایک بڑا ریلیف پیکج لانے والے ہیں جس سے ان کی مشکلات کم ہو جائینگی، ایسی مشکلات جس سے عوام دب کر رہ گئے ہیں، روزگار چھن جانے سے نوجوان نسل گمراہ ہو رہی ہے، ان حالات میں وزیراعظم کا کہنا کہ یہ مشکل وقت ضرور ہے لیکن لوگوں کو اعتماد ہونا چاہئے جلد ہی اس مشکل سے ہم نکل جائینگے بہترین ہے لیکن مسئلہ ان اعلانات کو عملی جامہ پہنانا چاہئے تاکہ عوام براہ راست مستفید ہو سکیں، انہوں نے ورلڈ بینک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی بینک نے ملک میں غربت کم ہونے کے بارے میں کہا ہے، ان کے بقول غریب کے گراف نیچے آیا ہے، در حقیقت زمینی حقائق کی روشنی میں معاملہ اس کے برعکس ہے، غربت کا گراف نیچے نہیں اوپر جا رہا ہے، عوام مہنگائی کے ہاتھوں بھیک مانگنے پر مجبور ہیں اور سرکاری ملازمین بھی اپنے حقوق کیلئے الگ سے سرگرداں ہیں ایسے میں کیسے کہا جا سکتا ہے کہ مسائل کم ہوئے ہیں، وزیر اعظم کے کہنے کے مطابق ریلیف پیکج لانے والے ہیں بجا ہے لیکن ان کے ثمرات عام لوگوں تک پہنچنے کا وقت غیر متعین کردہ ہے، ریلیف پیکجز کے عوام تک پہنچانے کا حکومتی وعدہ بجا لیکن وعدہ وعدہ ہونا چاہئے جو ایفا ہو سکے ایسے وعدوں کے بارے میں عوام جان چکے ہیں جن کا برآنا ناممکن ہو اور عوام ویسے ہی محروم رہیں گے جیسا کہ اس سے پہلے پیکجز سے محروم رہے ہیں، چینی فراہمی کا معاملہ ہو یا سرکاری نرخ پر آٹا کی فراہمی ہو کسی بھی موقع پر عوام سہولت کر ترستے ہی رہے ہیں، اب حالیہ مہنگائی کی لہر تھمی ہی نہ تھی کہ وزیراعظم نے اس میں مزید اضافے کی نوید سنا کر عوام کو الجھا کر رکھ دیا ہے جس سے مزید پریشانیاں جنم لیں گی، اب حالیہ مسائل میں ایک مسئلہ پانی کی کمی کا بیان کرتے ہوئے وزیراعظم نے ڈیمز بنانے کا کہا ہے جسے قلت آب کو پورا کرنے کی سعی قرار دیا جا سکتا ہے اس سے سب سے زیادہ فائدہ پاور کے شعبے کو ہوگا، ڈیم بننے سے زیادہ تر قابل کاشت زمین جو پہلے ہی پانی کی کمی کی وجہ سے بنجر ہونے جا رہی تھی مزید مسائل کا شکار ہوگی اور زراعت کے شعبہ کو مزید مسائل درپیش ہونے کا احتمال ہے، ہمارے ملک کی ترقی میں زراعت کے شعبے کا کردار کلیدی رہا ہے اس لئے اسے قطعی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، وفاقی وزیر خزانہ نے مہنگائی کے سیلاب میں بجلی کی قیمت بڑھنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف نے ڈیل سے پہلے 5  پیشگی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے جن میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا مطالبہ پورا کر چکے ہیں۔ بجلی کی قیمتوں کے بڑھنے کا سب سے زیادہ شکار لوئر کلاس عوام ہونگے جن کی زرائع آمدن محنت مزدوری ہے، ان سے بمشکل ہی گھر کا خرچہ پورا کیا جاتا ہے، دیگر ضروریات پوری کرنا ان غریب عوام کی پہنچ سے باہر ہے، ایسے میں آئی ایم ایف کی شرائط لاگو کرنا عوام پر ظلم ہے، شوکت ترین کا کہنا تھا کہ اس سال شرح نمو 5 فیصد سے زیادہ رہے گی، ہم غریبوں کو امداد دیں گے اور انہیں بغیر شرح سود کے قرض فراہم کریں گے، وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ہونیوالے اعداد و شمار اپنی جگہ لیکن حکومت کی جانب بار بار کی مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، حکومت کی جانب سے سپورٹ اچھا فیصلہ ہو سکتا ہے لیکن اس کے فوائد نہ ہونے کے برابر ہیں، اول تو ان حکومتی امداد کا حصول جائے شیر لانے کے مترادف ہے جبکہ دوسری جانب ہر سو مہنگائی میں امداد دب کر رہ جائیگی ، حکومت کو چاہئے کہ مہنگائی کنٹرول کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے چاہئے وہ اشیائے خوردو نوش کی بڑھتی قیمتیں ہوں یا بجلی گیس کے نرخ ہوں ان میں کمی لانی چاہئے۔