ملک میں کوئی مقدس گائے نہیں، آپ حکم کریں ہم ایکشن لیں گے، وزیراعظم

ملک میں کوئی مقدس گائے نہیں، آپ حکم کریں ہم ایکشن لیں گے، وزیراعظم

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں سانحہ آرمی پبلک اسکول ازخود نوٹس کیس کی سماعت میں وزیراعظم عمران خان نے کہا ہےکہ ملک میں کوئی مقدس گائے نہیں ،آپ حکم کریں ہم ایکشن لیں گے۔

 

وزیراعظم عمران خان سانحہ آرمی پبلک اسکول ازخود نوٹس کیس میں عدالت کے طلب کرنے پر سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔

 

سماعت سے قبل وزیراعظم عمران خان فواد چوہدری سے گفتگو کرتے رہے، جب سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ وزیراعظم صاحب آپ آئیں۔

 

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ والدین کو مطمئن کرنا ضروری ہے، والدین چاہتے ہیں اس وقت کے حکام کیخلاف کاروائی ہو۔

 

وزیراعظم عمران خان کیس کی سماعت کےدوران روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ جب سانحہ ہوا تو خیبرپختونخوا میں ہماری حکومت تھی ، سانحہ اے پی ایس بہت دردناک تھا، سانحہ کی رات ہم نے اپنی پارٹی کا اجلاس بلایا تھا‌۔

 

وزیراعظم نے اس وقت کےاٹھائے گئے اقدامات سے سپریم کورٹ کوآگاہ کیا۔

 

عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نے کہا تھا کہ امریکا کی جنگ میں شامل نہ ہوں، ہمیں نیوٹرل رہنا چاہئیے، آج تک ہم دوسروں کی جنگ لڑتے ہوئے ہمارے80ہزارلوگ شہید ہوچکے ، ہمیں پتہ ہی نہیں تھا کہ دوست کون ہے اوردشمن کون، ہم دہشتگردی کیخلاف جنگ اس لئے جیتے ہیں کہ قوم پیچھے کھڑی تھی،میں قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتا ہوں۔

 

وزیر اعظم عمران خان نے مزید کہا کہ طالبان حکومت آنےکے بعد داعش،ٹی ٹی پی اور بلوچ علیحدگی پسند لوگ پاکستان آگئے ، طالبان حکومت کے بعد ڈھائی لاکھ لوگ پاکستان کےراستے باہرگئے، دہشت گرد ان ڈھائی لاکھ لوگوں کی آڑمیں پاکستان میں روپوش ہوئے۔

 

عدالتی استفسار پر وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے سانحہ اے پی ایس کے بعد نیشنل ایکشن پلان بنایا، ہم نے نیشنل انٹیلی جنس کوآرڈینشن کمیٹی بنائی جو معاملے کو دیکھ رہی ہے، والدین نے جو نام دیئے ان میں سے ملک میں کوئی مقدس گائے نہیں، سپریم کورٹ حکم دے ہم ایکشن لیں گے۔