بلدیاتی انتخابات سے قبل ضلع باجوڑ کو تیسراسب ڈویژن دینے کا مطالبہ

بلدیاتی انتخابات سے قبل ضلع باجوڑ کو تیسراسب ڈویژن دینے کا مطالبہ

باجوڑ(حسبان اللہ؍نمائندہ شہباز) بلدیاتی انتخابات سے قبل ضلع باجوڑ کو انتظامی طورپر تیسرا سب ڈویژن دینے کا مطالبہ، تاحال ضلع باجوڑ کو تیسرا سب ڈویژن نہ دینا پی ٹی آئی حکومت کی نااہلی کی بڑی مثال ہے.

 

ان خیالات کا اظہار عوامی نیشنل پارٹی باجوڑ کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری سید صدیق اکبر جان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان بننے سے پہلے اور پھر 1973ء تک باجوڑ ضلع مالاکنڈ کا ایک انتظامی یونٹ تھا ‘73میں ایجنسی کا درجہ ملنے کے بعد باجوڑ کودو سب ڈویژن ‘ سب ڈویژن خار اور سب ڈویژن ناواگئی میں انتظامی آسانی کیلئے تقسیم کیا گیا .

 

اس وقت ضلع باجوڑ کی آبادی تقریباً4لاکھ افراد پر مشتمل تھی جبکہ اس وقت ہماری آبادی ایک محتاط اندازے کے مطابق 20لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے مگر انتظامی امور43سال بعد بھی سب ڈویژنز پر مشتمل ہے.

 

گزشتہ مردم شماری کی بنیاد پر آبادی کے لحاظ سے باجوڑ تمام نئے اضلاع میں سب سے بڑا ضلع ہے جوکہ  سات تحصیلوں پر مشتمل ہے ‘دو سب ڈویژن کی انتظامیہ 20 لاکھ کی آبادی کے انتظامی مسائل کے حل کیلئے ناکافی ہے‘مردم شماری کے مطابق باجوڑ کی آبادی کو 10لاکھ 93ہزار ظاہر کیا گیا تھا جس پر ہمیں سخت تحفظات ہیں.

 

ان لاکھوں لوگوں کو گنتی سے باہر کیا گیا تھا جو دوسرے شہروں میں عارضی طور پر روزگار کی غر ض سے مقیم ہیں ‘ہمارے اپنے اندازے کے مطابق یہاں کی آبادی 20لاکھ سے بھی تجاوز کر گئی ہے لہٰذا آنے والے متوقع بلدیاتی الیکشن جوکہ 15ستمبر سے پہلے پہلے عدالتی حکم کے مطابق منعقد ہونا ہیں ضلع کو تیسرا سب ڈویژن دیا جائے ‘اس سلسلے میں عوامی نیشنل پارٹی باجوڑ کی طرف سے الیکشن کمیشن باجوڑ کو ایک سال قبل باقاعدہ طورپر ایک درخواست بھی دی گئی ہے.

 

ڈی سی باجوڑ اور وزیراعلیٰ کو بھی کاپیاں بھجوائی جا چکی ہیں لہٰذا ہم ایک بار متعلقہ اداروں سے درخواست کرتے ہیں کہ جتنی جلد ہوسکے ہمارے لئے تیسرے سب ڈویژن کی منظوری دی جائے ‘اگر بلدیاتی الیکشن سے پہلے باجوڑ کو تیسرا سب ڈویژن نہیں دیا گیا تو اس ناکامی کے ذمہ دارباجوڑ سے منتخب ہونے والے پی ٹی آئی کے قومی اور اسمبلی کے ممبران ہونگے ۔
 

ٹیگس