مسلط کردہ وزیراعظم کو صادق اور امین قرار دینے والے ایکسپوز ہوچکے، میاں افتخار

مسلط کردہ وزیراعظم کو صادق اور امین قرار دینے والے ایکسپوز ہوچکے، میاں افتخار

پشاور۔۔۔عوامی نیشنل پارٹی کے سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ آئین میں تمام اداروں کا اختیار واضح ہے، سابق جج کا کردار آئین کی پامالی ہے۔ موجودہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پاکستان کے ساتھ ایک خطرناک کھیل کھیل رہی ہے، آئین کو ہر حالت میں مقدم رہنا ہوگا۔

 

باچا خان مرکز پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ سابق چیف جسٹس کی شہرت میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ موجودہ وزیراعظم کو صادق اور امین قرار دینے والا ایکسپوز ہوچکا ہے۔ جس کی ایمانداری خود مشکوک ہو، وہ کسی اور کو کیا صادق اور امین قرار دے گا۔ عدلیہ کے دامن پرسابق چیف جسٹس کا کرداران مٹ نقوش چھوڑ کر جائیگا۔

 

انہوں نے کہا کہ لیک آڈیو میں سابق چیف جسٹس خود کہہ رہے ہیں کہ انہیں حکم دیا گیا کہ کس کو گرفتار کریں، کس کو سزا دیں؟ ماتحت ججوں کو احکامات جاری کرکے لوگوں کو سزائیں دلوانے کے بعد کوئی بات چھپی نہیں رہی۔ فارنزک کے بعد آڈیو ٹیپ کی صداقت ثابت ہوچکی ہے۔ عمران خان کیلئے پری پول دھاندلی کی گئی، لوگوں کو سزا ئیں دی گئی اور نااہل کیا گیا۔ انتخابی دھاندلی کیلئے ایک واٹس اپ گروپ بنایا گیا جس میں ثاقب نثار جیسے افراد شامل تھے۔ عدلیہ سے لوگ انصاف کی توقع رکھتے ہیں، اس قسم کے واقعات عدلیہ کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ تیارشدہ اور کسی کے کہنے پر ہونیوالے فیصلے کسی بھی صورت انصاف نہیں۔ جعلی وزیراعظم کی بات اب ثابت ہوچکی ہے کہ موجودہ حکومت کو عوام پر مسلط کیا گیا۔

 

انہوں  نے کہا کہ سابق جج کو اپنے آئینی فرائض سے زیادہ دلچسپی بازاروں اور ہوٹلوں کے چکر لگا کر میڈیا سے گفتگو اور احکامات جاری کرنے میں تھی۔ منتخب حکومتوں اور عوامی نمائندوں پر رعب ڈالنا سابق جج کا معمول تھا۔ سابق جج نے ڈیم فنڈ کے نام پر پاکستانی عوام کے ساتھ ڈرامہ بازی کی اور ملک سے رفو چکر ہوگیا۔

 

انہوں نے کہا مزید کہاکہ جب مقتدر حلقے حکومت سے ناراض ہوئے تو حکومت پارلیمان کا مشترکہ اجلاس تک نا کرسکی۔ اتحادیوں نے برملا اظہار کیا کہ ان کا حکومت پر اعتماد نہیں، ایک رات میں ایسا کیا ہوا کہ سب ایک پیج پر آگئے۔ ناراضگی ختم ہوئی تو اپوزیشن اراکین پر اجلاس میں شرکت نہ کرنے کیلئے دباؤ ڈالا گیا۔ اگر پارلیمان اسی طرح چلتا رہا تو ملک کیسے چلے گا؟۔تمام اداروں کو آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

 

ملک میں جاری مہنگائی بارے میاں افتخار حسین نے کہا کہ بین الاقوامی مہنگائی کا بہانہ کرنے والے جھوٹ بول رہے ہیں۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے معاہدے کر کے ملک گروی رکھ دیا گیا ہے۔ اقتصادی پالیسیاں بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی مرضی سے تیار ہورہی ہیں۔ آج ملک میں ٹیکسز اور قیمتوں میں اضافے کا اختیار بھی آئی ایم ایف کو دے دیا گیا ہے۔ سٹیٹ بینک جیسا ادارہ بھی آج آئی ایم ایف کے قبضے میں ہے اور گورنر سٹیٹ بینک کو ہر قسم کی تحقیقات سے استثنی دیا گیا۔ وزیر خزانہ ملک کے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی بجائے آئی ایم ایف کی خوشنودی کے لئے کام کررہا ہے۔ پٹرولیم ایسوسی ایشن  نے جمعرات سے ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ عوام کو قرضوں اور مہنگائی کے بوجھ تلے ڈبودیا گیا ہے۔

 

بلدیاتی انتخابات بارے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے گھبرا رہی ہے اور اپنی نااہلیوں کی وجہ سے اپنے ہی انتخابی نشان سے بھاگ رہی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کیلئے پوری طرح تیار ہے اور ہر میدان میں ڈٹ کر نااہل اور جعلی حکومت کا مقابلہ کرے گی۔

 

اس موقع پر جماعت اسلام لوئر دیر کے بانی رکن عبدالرحمان نے خاندان اور ساتھیوں سمیت عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت بھی اختیار کی، صدر اے این پی لوئر دیر و ایم پی اے حاجی بہادر خان اور دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔