کے پی حکومت کی ملازمین کے ساتھ تین بڑی زیادتیاں

کے پی حکومت کی ملازمین کے ساتھ تین بڑی زیادتیاں

اعجاز احمد
گذشتہ دس سال سے پاکستان تحریک انصاف خیبر پختون خوا میں اقتدار پر براجمان ہیں۔ مگر ان دس سالوں میں پی ٹی آئی حکومت نے کوئی ایسی کسر نہیں چھوڑی جو سرکاری ملازمین کے خلاف نہ ہو۔ سب سے پہلے کے پی حکومت نے سرکاری ہسپتالوں کے سٹیٹس یعنی قانونی حیثیت ختم کر دی جو پاکستان بننے سے پہلے چلی آ رہی تھی۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کا قیام 1927 میں ہوا اور افسوس کی بات ہے کہ اب پی ٹی آئی حکومت نے سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری کرکے ان کو ایم ٹی آئی کا غیرمنصفانہ، ملازم اور عوام دشمن درجہ دے دیا۔ اب ہسپتالوں میں علاج مریضوں کے ذاتی پیسوں سے ہوگا۔ پہلے بھی مریض اپنا خرچہ خود اُٹھاتا تھا مگر کچھ مل بھی جاتا تھا مگر اب مریض 100 فی صد اپنا خرچہ خود اُٹھائے گا۔ حالانکہ کسی بھی ریاست و حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ عوام کو ان کی دہلیز پر روز گار، صحت، تعلیم، تحفظ، انصاف اور سوشل سیکیورٹی جیسی سہولیات مہیا کریں۔ اس میں شک نہیں کہ حکومت نے صحت کارڈ جاری کرکے اچھا اقدام کیا مگر سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری اور ہسپتال ملازمین کے سٹیٹس کو پرائیویٹ کرنا عقل اور فہم سے بالاتر مفروضہ اور ملازم دشمن اقدام ہے۔ صحت کارڈ میں کرپشن اور بدعنوانی بھی عروج پر ہے۔ باچا خان میڈیکل کمپلیکس کے ایک سینئر پروفیسر کا کہنا ہے کہ صوابی کے مصافاتی علاقے شیوہ میں ایک ڈاکٹر سرجن نے تھوڑے عرصہ میں ایک چھوٹے سے ایریا میں اپینڈکس کے 100 آپریشن کئے حالانکہ شیوہ  رقبے اور آبادی کے لحاظ سے چھوٹا علاقہ ہے  اور اتنی بڑی تعداد میں اپینڈکس آپریشن ہو نہیں سکتے کیونکہ اپنڈکس کوئی وبائی مرض نہیں جس کے اتنی کثیر تعداد میں آپریشن ہو سکیں۔ بہرکیف میری یہ سٹیٹمنٹ غلط بھی ہو سکتی ہے اگر اس میں غلطی ہو تو متعلقہ ادارہ میری تصحیح کرے۔ جو جو ڈاکٹر حضرات ان کارڈوں سے عوام کو سہو لت دے رہے ہیں ان کا ایک ڈیٹا محکمہ صحت کے ضلعی دفتر اور خیبر پختون خوا کے صوبائی صدر دفتر میں مشتہر ہونا چاہئے۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ حکومت سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو مزید زیادہ سہولیات دیتی مگر بدقسمتی سے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کچھ نہیں ملتا۔ مریضوں کی طرح اب سرکاری ملازمین اور ڈاکٹر حضرات اپنی نوکری اور سٹیٹس بچانے کے لئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ سرکاری اداروں اور ہسپتالوں کی نج کاری اور ایم ٹی آئی کے بعد ہسپتالوں کی کا ر کر دگی مزید صفر ہوگئی ہے۔ مجھے محترم افتخار جھگڑا  صاحب بتا دیں کہ ایم ٹی آئی نافذ العمل ہونے کے بعد کون سی ایسی مثبت تبدیلی آئی۔ ڈاکٹر تو اب بھی ہسپتالوں میں ادارہ جاتی پریکٹس کے بجائے باہر اپنے کلینکوں میں پریکٹس کرتے ہیں اور عوام کی کھال کند چھری سے اتار رہے ہیں۔ ہسپتالوں سے قابل اور تجربہ کار ڈاکٹر اور پروفیسر سروس چھوڑ گئے۔ صوابی میں باچا خان میڈیکل کمپلیکس کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ نہ تو ڈاکٹر حضرات ہسپتال میں پریکٹس کرتے ہیں اور نہ حکومت کے خزانے کو اس پریکٹس سے فائدہ ہو رہا ہے۔ بلکہ بڑی بڑی تنخواہیں لے کر عیاشیاں کر رہے ہیں۔ ایک طرف اگر ہیلتھ ملازمین کا سول سروس سٹرکچر ختم کر دیا گیا ہے تو دوسری طرف دوسری جو سرکاری ملازمین کے ساتھ سب سے بڑی بددیانتی اور ظلم ہے وہ یہ ہے کہ سرکاری ملازمین کا پنشن ختم کر دیا گیا ہے اور اس کی جگہ سی پی ایف نافذالعمل ہوگیا۔ اب خیبر پختون خوا کے سرکاری ملازم پنشن کے بجائے سی پی ایف کے حقدار ہوں گے جس میں حکومت اور سرکاری ملازم کے تھوڑے تھوڑے پیسے ہوں گے۔ اور وہ سرکاری ملازم جنہوں نے بچیوں اور بچوں کی شادی اور حج وغیرہ کا فریضہ اس سے ادا کرنے کا ارادہ کیا تھا اب تو ریٹائرمنٹ کے بعد نہ تو وہ اپنے بچوں بچیوں کی شادی اور نہ عمرہ حج کی سعادت حاصل کر سکیں گے۔ لہذا موجودہ حکومت کا دوسرا بڑا منفی اقدام کے ساتھ انتہائی گھناؤنا کردار ان کا پنشن ختم کرنا تھا۔ تیسرا اور آخری بڑا ظلم جو خیبر پختونخوا حکومت اپنے صوبائی ملازمین کے ساتھ کر رہی ہے وہ سرکاری سکولوں کی مر حلہ وار طریقے سے نجکاری ہے۔ موجودہ حکومت ایک مر حلہ وار طریقے سے سکولوں کی نجکاری کے بار ے میں بیانات دے رہی ہے جس سے والدین کے وسائل پر مزید بوجھ پڑے گا۔ موجودہ حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ مزید سکول کھولتی مگر انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ پی ٹی آئی حکومت ان سکولوں کو بھی ختم کر رہی ہے جس میں ملک کے غریب پڑھ رہے ہیں۔ کیونکہ وطن عزیز تعلیم پر اپنے بجٹ کا بہت کم پیسے خرچ کرتا ہے جو تیسرے اور ترقی پذید ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ حالانکہ کسی بھی ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ تعلیم پر زیادہ سے زیادہ خرچ کرے۔ مگر موجودہ حکومت ایک منصوبہ بندی کے تحت تعلیم کو کم سے کم ترجیح دے رہی ہے۔ موجودہ پی ٹی آئی حکومت نے جو تعلیم، انصاف، روزگار، سر چھپانے کی جگہ کا نعرہ لگایا تھا مگر افسوس صد افسوس موجودہ حکومت ان تمام وعدوں میں ناکام رہی ہے۔ میں تو یہ کہوں گا کہ خیبر پختون خوا میں پی ٹی آئی کو سب سے زیادہ سپورٹ ملی مگر اس کے عوام کے ساتھ سب سے بڑی زیادتی بھی اسی حکومت نے کی۔ ان کو اللہ کا خوف کرنا چاہئے  اور اللہ سے ڈرنا چاہئے ورنہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔ میں اس کالم کے توسط سے سرکاری ملازمین سے یہ بھی استدعا کرتا ہوں کہ وہ اپنے صفوں میں اتفاق اور اتحاد کو بر قرار رکھیں اور سب مل کر سرکاری ملازمین اور پنشنی حضرات کے دفاع کے لئے یک قالب اور یک جان ہو جائیں۔