ٹیکسوں کی بھرمار سے تمباکو کی صنعت کو شدید خطرہ لاحق ہے‘کسان بورڈ

ٹیکسوں کی بھرمار سے تمباکو کی صنعت کو شدید خطرہ لاحق ہے‘کسان بورڈ

تخت بھائی(مسلم صابر) کسان بورڈ ضلع مردان کا ہنگامی اجلاس زیر صدارت صوبائی صدر رضوان اللہ منعقد ہوا جس میں ضلع بھر کے کاشتکاروں نے کثیر تعداد میں شرکت کی‘ اجلاس سے کسان بورڈ کے صوبائی صدر رضوان اللہ، جواداللہ خٹک، حاجی غفور، حاجی قاسم، حاجی شیر علی خان صدر کسان بورڈ ضلع مردان،فرہاد علی خان سیکرٹری اطلاعات کسان بورڈ خیبر پختونخوا نے خطاب کیا جبکہ اس موقع پر ممتاز کاشتکاران حاجی نعمت اللہ،یعقوب خان،محمد نور،سعید خان اور قاسم بھی موجود تھے اجلاس میں طویل مشاورت کے بعد امیر نواب خان کو آئندہ سیشن کے لیے کسان بورڈ ضلع مردان کا جنرل سیکرٹری مقرر کیا گیا‘

 

مقررین نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ تمباکو کی طرح حکومت باقی تین بڑی فصلوں گنے، مکئی اور گندم کی COP تخمینہ لاگت بھی تیار کی جائے تاکہ کاشتکاروں اور زراعت سے متعلق حلقوں کو پتہ چلے کہ زرعی مداخل کے بے تحاشہ مہنگا ہونے کی وجہ سے زراعت اب منافع بخش کاروبار نہیں رہا‘کاشتکاروں کو مستقل طور پر خسارے کا سامنا ہے اسلئے لوگ زراعت کا شعبہ چھوڑ کر دوسرے شعبوں میں منتقل ہو رہے ہیں‘

 

زراعت کے شعبے کو استحکام بخشنے کے لیے حکومت کو انقلابی اقدامات کرنا ہوں گے‘رضوان اللہ خان صدر کسان بورڈ خیبر پختونخوا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زراعت کو دوبارہ اٹھانے کے لیے حکومت کو زرعی مداخل کی قیمتوں کو 50 فی صد تک کم کرکے استحکام لانا ہو گا‘

 

زرعی مداخل کی قیمتیں بڑھنے سے صوبے کی زراعت پر انتہائی منفی اور تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیںاس لئے ضروری ہے کہ زرعی مداخل پر سبسڈی دی جائے اور کسان کو فصلوں کی تخمینہ لاگت کے مطابق پیداوار کی مناسب قیمت دی جائے تاکہ صوبے کے کاشتکار معاشی طور پر خوشحال ہو سکیں‘

 

انہوںنے کہا کہ مرکزی حکومت اور پاکستان ٹوبیکو بورڈ کے حکام کو چاہیے کہ تمباکو کی موجودہ اعلان شدہ فی کلو قیمت پر نظرثانی کرکے اس میں مناسب اضافہ کا اعلان کریں کیونکہ فی کلو قیمت کے تعین کے بعد inputs کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہو چکا ہے جس سے اخراجات بھی پورے نہیں ہو رہے ‘

 

تمباکو پر بے لگام ٹیکسز لگانے سے گریز کیا جائے ٹیکسوں کی بھرمار سے تمباکو کی صنعت کو شدید خطرہ ہے اور لاکھوں افراد کے بیروزگار ہونے کے امکانات بڑھ رہے ہیںاسلئے لازم ہے کہ تمباکو کی صنعت پر ٹیکس لگانے کے بجائے اسے سپورٹ کیا جائے تاکہ صوبہ معاشی طور پر خوشحال ہو سکے‘

 

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آئندہ بجٹ میں زراعت پر مکمل توجہ دی جائے اور زراعت کو اٹھانے کے انقلابی اقدامات کئے جائیں‘بجٹ میں زرعی مداخل پر بھاری سبسڈی کے لیے رقم کا انتظام کیا جائے، زرعی مداخل پر ٹیکسز کم کئے جائیں۔