عشرہ رحمت ا للعالمینۖ اور حکومتی اقدامات 

عشرہ رحمت ا للعالمینۖ اور حکومتی اقدامات 

وزیراعلی خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت صوبہ میں عشرہ رحمت ا للعالمینۖ اور عید میلا دالنبی ۖ سرکاری سطح پر منانے کے حوالے سے ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس عشرے کو شایان شان طریقے سے منانے اور صوبائی سطح پر سیرت کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا۔ پیر کو اس سلسلے میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ خود ربیع الاول کے حوالے سے تمام سرگرمیوں کی نگرانی کریں گے تاکہ کسی بھی قسم کی کمی کا احتمال باقی نہ رہے۔ اس مقصد کیلئے تیار کئے جانے والے جامع ایکشن پلان پر من و عن عمل درآمد کرانے کیلئے وزیراعلی نے وزیراعظم کی ہدایات کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ کو سخت ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے کہا کہ عشرہ رحمت اللعالمینۖ کے سلسلے میں صوبائی، ڈویژنل، ڈسٹرکٹ اور تحصیل سطح پر مختلف تقاریب کا اہتمام کیا جائے گا جس میں حضرت محمد ۖ کی حیات طیبہ کے مختلف پہلو اور سیرت و کردار کا احاطہ کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ تقاریب کے شرکا سمیت تمام ملکی و غیرملکی بھی فیض یاب ہو سکیں۔ اس مبارک ماہ منعقد ہونے والی تقاریب میں علمائے کرام کے علاوہ سیاسی رہنماؤں اور معززین علاقہ سمیت تمام مکاتب فکر سے وابستہ لوگوں کی شرکت کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ علم کی روشنی کو خوب پھیلایا جا سکے۔ اس سلسلے میں ہونے والے اقدامات مثبت اور بہترین قدم مانے جانے چاہئیں جس سے نئی شعاعیں پھوٹیں گی اور نئی نسل کو خاتم النبیینۖ کی زندگی کے بارے میں جانکاری کا بھرپور موقع ملے گا، اس کے ساتھ ساتھ حاضرین سمیت تمام دیکھنے اور سننے والوں کو اپنی زندگی میں موجود خامیوں کو بھی دور کرنے کا بھرپور موقع ملے گا، نبی آخرالزمانۖ کی زندگی کے اسرار و رموز جاننے کیلئے محافل میلاد اور سیرت النبیۖ کانفرنسز کا انعقاد لازمی ہے تاکہ معاشرے پر چھایا جمود اور اندھیرے دور کئے جا سکیں کہ یہیں سے روشی کے مینار بلند ہوتے ہیں۔ دوسری جانب این سی او سی نے اس سلسلے میں خصوصی ایس او پیز جاری کر دی ہیں تاکہ کورونا کے دوبارہ پھیلاؤ کو روکا جا سکے اور کم ہوتی ہوئی وبا دوبارہ سر نہ اٹھا سکے، محفل میلاد اور سیرت النبیۖ کانفرنسز کے انعقاد کے بارے میں ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کا اعلامیہ بھی جاری کر دیا گیا ہے کیونکہ کووڈ کا خطرہ ٹلا نہیں ہے۔ ایسے میں لوگوں کو ماسک کا استعمال، سماجی فاصلہ اور سینیٹائزر کا استعمال یقینی بنانے اور شریک علما اور نعت خوانوں کی مکمل ویکسینیشن لازمی قرار دے دی گئی ہے۔ رش کم کرنے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو سرکار دو جہاںۖ کی حیات طیبہ اور سیرت النبیۖ کانفرنس سے مستفید ہونے کیلئے سرکاری و نجی چینلز کو براہ راست نشریات کی تجویز دی گئی ہے تاکہ گھروں میں رہ کر بھی محافل میں شرکت کر پائیں۔ وینٹی لیشن ملحوظ خاطر رکھنے سمیت مسجد و پنڈال انتظامیہ سماجی فاصلے کے نشانات واضح اور داخلی راستوں پر تمام افراد کی تھرمل سکریننگ کا اہتمام یقینی بنائے، جلوسوں کی تعداد کم کرنے کی تجویز کے ساتھ صرف لائسنس یافتہ/روایتی جلوسوں کوکوویڈ ایس او پیزکی پابندی کے ساتھ  اجازت کا فیصلہ کیا گیا ایسے میں کسی بھی مشکل صورتحال سے نمٹنے کیلئے بھی ہنگامی اقدامات کیلئے کوششیں کرنی ہوں گی۔ کورونا کی بھرپور چیکنگ سمیت ویکسی نیشن کے موقع پر کرانے کے طریقے بھی آزمائے جا سکتے ہیں کیونکہ ویکسی نیشن سے ہی کورونا کو روکا جا سکتا ہے، اس سلسلے میں ہونے والے جلسے جلوسوں کے داخلی و خارجی راستوں پر سکریننگ سمیت حفاظتی اقدامات بھی ناگزیر ہیں۔ محفل میلاد اور سیرة النبی کانفرنسز میں شرکت کیلئے اہل اسلام جوق در جوق شرکت کرنے کیلئے سال بھر تیاریاں کرتے ہیں اور مقابلہ نعت و دیگر مقابلوں میں شرکت کیلئے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ایسے میں کورونا کا بھی زور ابھی ٹوٹا نہیں ہونا، تو چاہئے کہ ایس او پیز کے تحت تمام تقاریب کا بھرپور انعقاد کیا جائے جس سے علم و برکت سے فیض یاب ہونے کے ساتھ ساتھ وباء کو دوبارہ پھیلنے سے بھی روکا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو چاہیے کہ اپنی رعایا کی بھوک مٹانے کی بھی فکر کرے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی چلی جا رہی ہے۔