میٹھا میٹھا ہپ ہپ کڑوا کڑوا تھو تھو 

میٹھا میٹھا ہپ ہپ کڑوا کڑوا تھو تھو 

تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں پاک تاجک مشترکہ بزنس فورم میں شرکت کے موقع پر ملک کے چیف ایگزیکٹو، وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے ایک محب وطن، پرخلوص اور ملک و قوم کا درد رکھنے والے مبینہ طور پر ایک بزرگ تارک وطن کے جذبات کو جو ٹھیس پہنچا کر جس ''بے مروتی'' کا مظاہرہ کیا ہے، اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ افسوس کی بات تو یہ بھی ہے کہ جب ان کے سامنے پاکستان کی فریاد رکھی جا رہی تھی تو وزیر اعظم پاکستان کو اس پر کوئی اعتراض یا کسی قسم کی تکلیف محسوس نہیں ہو رہی تھی بلکہ انہوں نے غالباً ترکوں کی نقل اتارتے ہوئے، سینے پے ہاتھ رکھ کر شعر سنانے والے کو ایک قسم کی داد بھی دی لیکن اگلے ہی لمحے جب خود ان کو مخاطب کر کے، انہی کے لئے ایک شعر سنانے کی کوشش کی اور شعر بھی ایسا کہ جس میں ان سے یہ گزارش کی جا رہی تھی کہ وہ اتنے ظالم نا بنیں اور ذرہ مروت بھی سیکھ لیں، تو انہوں نے اگلے کو یہ کہہ کر خاموش کروا دیا کہ بزنس کی باتیں ہو جائیں، شعر و شاعری بعد میں کر لیں گے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایک غیر ملک میں بیٹھ کر وزیر اعظم عمران خان ایک درد دل رکھنے والے پاکستانی کو اپنے احساسات، اپنے جذبات کے اظہار کی آزادی اور اجازت دیتے، پاکستان کی ''فریاد'' کے ساتھ ساتھ ذاتی طور پر ان کے لئے جو پیغام مقصود تھا، اسے سمجھنے اور پھر اس کی روشنی میں مذکورہ شہری کو  تسلی و تشفی دینے کی کوشش کرتے لیکن۔۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وزیر اعظم عمران خان نے یہ حرکت کر کے یہ ثبوت نہیں دیا ہے کہ ملک میں آزادی اظہار رائے، بالخصوص میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مجوزہ بل کے خلاف پارلیمان کے سامنے دھرنا گزیں صحافیوں کے ساتھ ساتھ نا صرف اندرون ملک بلکہ عالمی سطح پر مختلف حلقوں کی جانب سے ان پر لگائے گئے تمام الزامات من و عن درست ہیں، کیا یہ اس بات کا بھی ثبوت نہیں ہے کہ وزات عظمیٰ کی کرسی پر آج ایک خود پسند، خوشامد پسند اور مروت و برداشت سے عاری ایک انسان بیٹھا ہوا ہے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم نے دوشنبے میں بیٹھ کر دنیا بالخصوص ملک کے اندر موجود جمہوریت، آزادی اظہار رائے، آئین اور قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق پر یقین رکھنے والوں اور اس کے لئے جدوجہد کرنے والوں کو جو واضح پیغام دیا ہے، وہ اپنی جگہ لیکن یہاں یہ سوال بھی اٹھانا نہایت ضروری ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کا محولہ بالا رویہ کیا ملکِ عزیز میں ادارہ جاتی سطح پر بھی دیکھنے میں نہیں آ رہا ہے؟ کیا ہمارے قومی سلامتی کے اداروں سے لے کر عدلیہ، انتظامیہ اور اس طرح ملک کے اندر موجود ہر محکمہ اور ہر ادارہ اپنے اوپر جائز تنقید کو برداشت کرنے کا روادار ہے؟ صرف یہی نہیں بلکہ من حیث القوم، انفرادی طور پر بھی ہمارے اندر خود نمائشی، خود پسندی اور خوشامد پسندی کا یہ مرض سرایت نہیں کرتا جا رہا ہے؟ کیا ہم اختلاف کو مخالفت پر محمول نہیں کر رہے؟ اگر ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی درکار ہے تو یہ اور اس طرح کے مزید کئی سوالات ہیں جو فوری توجہ اور جن کے جواب یا حل ڈھونڈنے کی ضرورت ہو گی۔ ہمیں اس حقیقت کا اعتراف کرنا ہوگا کہ قوم کے اذہان پر، ان کی سوچ پر پہرے لگانے اور انہیں عزت و وقار  کی بجائے ذلت و محکومی کا احساس دلانے سے ملک کبھی ترقی نہیں کرے گا بلکہ اس کے لئے ہمیں ان تلخ حقائق کو ان سماجی، اخلاقی و معاشی امراض کو تسلیم کر کے ناصرف ان کا سامنا کرنا ہو گا بلکہ ان کے حل کے لئے اجتماعی کوششوں کا بھی جلد سے جلد آغاز کرنا ہو گا، بصورت دیگر ہم ترقی کی بجائے تنزلی کا ہی شکار رہیں گے جو کسی بھی وقت افراتفری، انارکی اور مکمل تباہی و بربادی پر منتج ہو سکتی ہے۔