دو سے تین عیدیں، اک گزارش

دو سے تین عیدیں، اک گزارش

مملکت خداداد میں ہر سال رمضان المبارک کے اختتام پر دو عیدوں کی روایت اب پرانی ہو چکی تاہم گزشتہ دو تین سالوں سے دو کی بجائے تین تین عیدیں منائی جانے لگی ہیں جو افسوس ناک ہے۔ وزیرستان میں خال خال گزشتہ سال کی طرح امسال بھی سعودی عرب سے اک روز قبل عید منایا گیا۔  اس کے علاوہ عید اس سال سیاست کا شکار ہو گئی یا بنا دی گئی۔ اسی طرح افغانستان میں بھی اتوار کو ہی عید منائی گئی تھی۔ بعض اطلاعات یہ بھی ہیں کہ خیبر پختونخوا خصوصاً پشاور میں مقیم ایسے افغانوں کو بھی فون کر کے عید منانے کی اطلاع دی گئی جو افغان حکومت کے تنخواہ دار ہیں۔ اس صورتحال پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ دیکھا جائے تو ٹیکنالوجی کی وجہ سے یہ دنیا کب کی ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے، اطلاعات محض سیکنڈ جبکہ فاصلے بھی مہینوں اور دنوں سے گھٹ کر گھنٹوں پر محیط ہو چکے ہیں ایسے میں ہم سمجھتے ہیں کہ عیدین خصوصاً عیدالفطر اور رمضان المبارک کے حوالے سے قانون سازی وقت کی ضرورت بن چکی ہے۔ اس سلسلے میں علماء کو ضرور آن بورڈ لیا جائے اور اتفاق رائے سے کوئی فیصلہ کیا جائے کہ سعودی عرب یا دنیا کے کسی بھی ملک سے رویت ہلال کی شہادتیں موصول ہوئیں تو پاکستان میں اس سے اگلے دن روزہ رکھا جائے گا اور یا پھر عید منائی جائے گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایسا کر کے اس اختلاف کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ امید ہے کہ حکومت دیگر معاملات کے ساتھ ساتھ اس اہم مسئلے پر توجہ دے گی۔
 بجلی کی لوڈشیڈنگ عید میں بھی جاری
اس سال وفاقی حکومت نے عید الفطر کے تینوں دن بجلی کی لوڈ شیڈنگ نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا، وزیر اعظم شھباز شریف نے عید پر بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے احکامات جاری کئے تھے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں سے بجلی کی طلب اور رسد کی تفصیلات طلب کر لی تھیں جبکہ لوڈشیڈنگ نہ ہونے کو یقینی بنانے کے لیے تمام پاور جنریشن کمپنیوں کو مطلوبہ تیل اور گیس فراہم کرنے کی ہدایت  کر دی تھی، اور یہ واضح کر دیا گیا تھا کہ عید پر بجلی کی لوڈ شیڈنگ کنٹرول نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہو گی۔ تاہم زرائع کا کہنا تھا کہ تیل اور گیس کی قلت کے باعث متعدد پاور پلانٹس سے بجلی کی پیداوار میں کمی آئی پے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ پشاور بالخصوص صوبائی دارالحکومت کے مضافات میں عید کے دنوں میں بھی سارا سارا دن بجلی غائب، خصوصاً جب بارش ہوئی اور تھوڑی سی آندھی چلی تو اس کے بعد رات کو بھی بجلی بیشتر وقت کے لئے غائب رہی جس کے باعث ظاہر ہے کہ شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اب جبکہ عید گزر چکی ہے اور ہر گزرت ن کے ساتھ بجلی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے تو شہریوں کو یہ تشویش لاحق ہو گئی ہے کہ آنے والے دنوں میں کہیں بجلی کی لوڈشیڈنگ اسی طرح سے شروع نا ہو جائے جس طرح پہلے ہوتیی تھی۔ امید ہے کہ حکومت اس حوالے سے بھی فوری اقدامات کرے گی اور توانائی سے متعلق مسائل پر قابو پانے کی کوششیں کی جائیں گی۔