ضم اضلاع کے بے روزگار جوان اور ''تحریک انصاف کا انصاف'' 

ضم اضلاع کے بے روزگار جوان اور ''تحریک انصاف کا انصاف'' 

ضم اضلاع اور وہاں پر آباد دہائیوں سے ہر طرح کے حقوق و بنیادی سہولیات و ضروریات سے محروم عوام خصوصاً نوجوان و تعلیم یافتہ طبقے کی اس سے بڑھ کر بدقسمتی اور کیا ہو سکتی ہے کہ فاٹا انضمام کے وقت ان کے ساتھ کئے گئے وعدوں میں سے کوئی ایک وعدہ آج تک ایفاء تو کیا نا ہو سکا الٹا خیبر پختونخوا کی موجودہ سرکار کو جب بھی اور جہاں بھی موقع ملا اس نے ان کے حق پر ڈاکہ ڈالنے میں کمال پھرتی ہی دکھائی ہے اور ایسا ایک بار نہیں بلکہ بار بار ہوتا رہا ہے، تازہ ترین واقعہ ضم اضلاع کے ہسپتالوں میں نرسز کی آسامیوں پر تقرری کا سامنے آیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق فاٹا بھر میں481  چارج نرسز کی تقرری کیلئے منعقدہ ٹیسٹ میں481  امیدوار کامیاب ہوئے تھے اور ان کو تقررنامے بھی جاری کر دیئے گئے تھے تاہم بعدازاں انکشاف ہوا کہ کامیاب امیدواروں میں سے90  فیصد سے زائد کا تعلق سوات، شانگلہ، دیر اور بونیر سے ہے، تقرریوں کی لسٹس سوشل میڈیا پر آنے کے بعد ضم اضلاع سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کا سخت ردعمل سامنے آیا جس کے بعد ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز خیبر پختونخوا نے تقرریوں پر عملدرآمد معطل کر دیا۔ گزشتہ روز ٹرائبل یوتھ موومنٹ کے ایک مرکزی رہنماء نے اس حوالے سے میڈیا کے ساتھ گفتگو کے دوران بتایا کہ ضم اضلاع میں ہزاروں نوجوان ڈگری لیے بے روزگار پھرتے ہیں لیکن اس کے باوجود سوات اور دیر کے نوجوانوں کو وہاں بھرتی کرنا سمجھ سے بالاتر ہے، ڈی جی ہیلتھ کی طرف سے لیا گیا ایکشن خوش آئند ہے لیکن اس میں بڑے بڑے مگرمچھ ملوث ہیں اور وہ ہر صورت ضم اضلاع کے بے روزگار نوجوانوں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے وزیر اعظم عمران خان سے مطالبہ کیا کہ ضم اضلاع کے نوجوانوں کی حق تلفی کا سختی سے نوٹس لیں کیونکہ فاٹا مرجر کے دوران ہم سے جو وعدے کئے گئے تھے حکومت انہیں پورا کرنے کی بجائے الٹا ہمارے حقوق سلب کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ہم تقرری کے اس عمل پر نظر رکھیں گے اور تب تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ضم اضلاع کے امیدواروں کو ان کا حق نہ ملے۔ دوسری جانب ضلع خیبر سے منتخب ممبر صوبائی اسمبلی و پارلیمانی لیڈر بلاول آفریدی نے بھی غیرقانونی بھرتیوں کے خلاف صوبائی اسمبلی میں تحریک التوا جمع کرائی ہے جس میں سپیکر صوبائی اسمبلی سے درخواست کی گئی ہے کہ اس مسئلے کو کل ہونیوالے اسمبلی سیشن میں زیر بحث لایا جائے۔ اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ضم ضلاع کے عوام70  سال سے محرومیوں کا شکار ہیں اور اب محکمہ صحت کے ڈائریکٹر غیرمقامی افراد کو بھرتی کر کے ان کے ساتھ ظلم کر رہے ہیں، لیکن ضم اضلاع کے عوام اپنا حق لینا جانتے ہیں۔ انہوں نے اس مسئلے پر دیگر پارلیمنٹیرین کو اعتماد میں لینے اور اس ناانصافی کے خلاف باقاعدہ احتجاج شروع کرنے کا عندیہ بھی دیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت ٹرائبل یوتھ موومنٹ کی جانب سے کئے گئے مطالبے کو کس حد تک پورا کرتی ہے، کیا وہ اس معاملے کی تحقیقات کر کے ان ''بڑے مگرمچھوں'' کے خلاف کارروائی کرے گی یا حسب معمول، حسب سابق اور حسب عادت بلند و بانگ دعوے اور بے سروپا بیانات جاری کرنے پر ہی اکتفاء کیا جائے گا اور معاملہ ٹھنڈا پڑے پر سردخانے کی نذر کر دیا جائے گا اور پھر تب تک خاموشی چھائی رہے گی جب تک ضم اضلاع کے عوام کے حقوق پر اس طرح کا کوئی اور ڈاکہ منظرعام پر نہیں آتا، ضم اضلاع کے وہ عوام جنہوں نے اس ملک کے لئے جانی، مالی غرض ہر طرح کی قربانیاں دی ہیں لیکن بدقسمتی سے ان کے ساتھ سب سے زیادہ ناانصافیاں کسی اور نہیں بلکہ تحریک انصاف کی حکومت میں ہی ہو رہی ہیں۔