پختون خطے میں بدامنی کسی طور پر قبول کی جائے گی۔صوابی امن مارچ

پختون خطے میں بدامنی کسی طور پر قبول کی جائے گی۔صوابی امن مارچ

صوابی (نمائندہ شہباز ) خیبر پختونخوا کی سیاسی و مذہبی جماعتوں نے کہا ہے کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ حکومت کی آئینی و قانونی ذمہ داری ہے۔ لیکن بد قسمتی سے آج پختون مٹی بد امنی کا شکار ہے ضلع صوابی میں آئے روز ڈاکے اور بھتہ خوری ہو رہی ہے ،جمعرات کی سہہ پہر اس امن مارچ کا انعقاد عوامی نیشنل پارٹی ضلع صوابی نے کیا تھا۔  

 

امن ریلی سے عوامی نیشنل پارٹی ضلع صوابی کے رھنماووں کے علاوہ جماعت اسلامی کے صوبائی امیر سینیٹر مشتا ق احمد خان، اے این پی کے صوبائی سیکرٹری جنرل سردار حسین بابک، پشتون تحفظ تحریک  کے چیر مین منظور پشتون، جمیعت العلما اسلام ف کے ضلعی امیر مولانا فضل علی حقانی، سیکرٹری جنرل حاجی نور الا سلام، پی پی پی کے صوبائی رہنما لیاقت شباب، قومی وطن پارٹی کے مرکزی رہنما ہاشم بابر،اے سابق ممبر قومی اسمبلی بشری گوہر، ضلعی سینئر نائب صدر اے این پی حاجی غلام حقانی،جماعت اسلامی کے ضلعی نائب امیر محمود الحسن اور دیگر نے بھی خطاب کیا ھے ۔

 

مقررین نے امن مارچ  میں شرکت کرنے والے ہزاروں شرکا سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ قیام امن کے لئے تمام سیاسی جماعتیں کے قائدین ایک پلیٹ فارم پر متحد ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ دنیا میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر دکھ کااظہار کیا جاتا ہے کہ مگر پختونوں پر جو برا حال ہے۔ اس پر کسی نے دکھ و غم کااظہار نہیں کیا۔ہم عوام سے ووٹ مانگنے کے لئے یہاں اکٹھے نہیں ہوئے ہیں بلکہ امن کے لئے متحد ہو چکے ہیں۔یہ بد امنی ہم سب کا مسئلہ ہے جب امن ہو تب معیشت ملک ترقی کریگا۔اور عوام سکون کی زندگی گزاریں گے۔

 

ہم اپنی مٹی پر فیصل آباد اور پنجاب جیسا امن چاہتے ہیں۔جہاں کار خانے چل رہے ہیں جب کہ پختونوں کے گھروں سے دھواں اٹھ رہا ہے۔ منشیات کو فروغ مل رہا ہے کیونکہ اس میں وہ لوگ شامل ہیں جو اس کا خاتمہ نہیں چاہتے۔

 

انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان کے مطابق جس صوبے میں گیس اور دیگر قدرتی وسائل پیدا ہو تے ہیں اس کا پہلا حق اس صوبے کا ہوتا ہے مگر بد قسمتی سے پختونوں کے وسائل پر دوسروں کا قبضہ ہے ہم اپنے وسائل پر اپنا اختیار مانگتے ہیں۔

 

ہم اپنے صوبے میں بجلی گیس کی لوڈ شیڈنگ اور بد امنی نہیں مانتے۔انہوں نے کہا کہ  پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے دہشت گردی کی نئی لہر کا مقابلہ کرنے کے لیے واضح پالیسی کو اپنانے کی ناکام کوشش کی ہے۔ اس لئے اس کی ذمہ دار پی ٹی آئی کے ذمہ داران ہے۔

 

امن مارچ میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی-ف)، قومی وطن پارٹی (کیو ڈبلیو پی)، جماعت اسلامی (جے آئی) پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)کے علاوہ پشتون تحفظ موومنٹ (PTM)، نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ (NDM) اور پاکستان مسلم لیگ نواز (PML-N) نے بھی شرکت کی۔

 

امن مارچ میں سپریم بار کونسل کے قتل ہونے والے سابق صدر عبداللطیف آفریدی کے لیے خصوصی فاتحہ خوانی کی گئی۔

 

امن مارچ سے خطاب کر تے ہوئے منظور پشتین نے کہا کہ وہ پہلے بھی کہہ چکے ہیں اور یہاں ایک بار پھر دہراتے رہے ہیں کہ پختونوں کو ایک منصوبہ بند حکمت عملی کے تحت نشانہ بنایا گیا ہے، جس کا مقصد ان کو تقسیم کرنے کی سازشوں کے ذریعے پسماندہ رکھنا ہے۔ملک میں پارلیمنٹ کا کوئی اختیار نہیں، اس ملک میں لاقانونیت ہے، ہمارے وسائل کوئی اور ہتھیا رہا ہے۔

 

اے این پی کے صوبائی سیکرٹری جنرل سردار حسین بابک نے کہا کہ وہ باچا خان کے عدم تشدد کے فلسفے پر یقین رکھتے ہیں، امن کے لیے عسکریت پسندوں سے امن معاہدے کیے لیکن انہوں نے خلاف ورزی کی اور سفاکانہ ہتھکنڈوں سے اپنا اثر و رسوخ بڑھانا شروع کیا۔ ''عبدالغفار خان نے اپنے 40 قیمتی سال جیل میں گزارے، پختونوں سے ووٹ نہیں مانگے، بلکہ ان کے حقوق کے لیے لڑے۔''مولانا فضل علی نے کہاہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں اور اب بھی کہہ رہے ہیں کہ پی ٹی آئی کی حکومت اپنے دور حکومت میں تمام محاذوں پر بری طرح ناکام رہی ہے۔

 

جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ آئین کے مطابق عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ''ہم پٹھانوں کے قتل کو دہشت گردی کہتے ہیں۔

 

پی پی پی کے صوبائی رہنما لیاقت شباب نے کہا کہ جب پی ٹی آئی صوبے پر حکومت کرتی ہے تو لوگوں کو دہشت گردی سے بچانے میں ناکامی کی ذمہ دار ہوتی ہے لیکن سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کے پی کے وزیر اعلی پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی ''آنکھیں مارنے'' اور ''ہلاک'' کرنا چاہتے تھے جو یو ٹرن میں ماسٹر تھے۔ لیکن درحقیقت کے پی میں ساری خرابی کی ذمہ دار پی ٹی آئی ہے۔

 

 بشری گوہر نے کہا کہ وزیرستان کے لوگوں نے ہمیں سکھایا کہ امن کے لیے کیسے لڑنا ہے تاہم پختون اب متحد ہیں اور امن کے لیے قربانیاں دینے کو تیار ہیں لیکن ہمارا امن راولپنڈی اور اسلام آباد کی پالیسیوں سے جڑا ہوا ہے اور ہم کسی کو گڑبڑ کرنے کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔