فوری فیصلوں کی ضرورت

فوری فیصلوں کی ضرورت

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے قومی معاملات پر اتحادی جماعتوں کے سربراہوں سے مشاورت کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلہ میں گزشتہ روز ''خادم پاکستان'' نے جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان، شریک چیئرمین پی پی پی آصف زرداری اور ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی سے ملاقاتیں کیں جبکہ اس موقع پر وفاقی وزرا اعظم نذیر تارڑ، خواجہ آصف اور سعد رفیق کے علاوہ مریم اورنگزیب بھی شریک ہوئیں۔ وزیراعظم نے ملک کی اقتصادی صورتحال سمیت دیگر درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کیا اور طے پایا کہ تمام فیصلے اتحادیوں کو اعتماد میں لے کر کئے جائیں گے جس سے امید کی جا سکتی ہے کہ ملک کو مسائل کے بھنور سے نکالا جا سکے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر فوری قانونی رائے لی جائے اور آئندہ الیکشن کیلئے انتخابی اصلاحات جلد مکمل کی جائیں۔ اقتصادی صورتحال کی بہتری اور استحکام کیلئے فوری اقدامات کا فیصلہ کرتے ہوئے اجلاس میں اتحادیوں نے روپے کی قدر میں استحکام کیلئے معاشی ٹیم کے فوری حرکت میں آنے اور معیشت کی بہتری کیلئے آئی ایم ایف پروگرام کو فوری حتمی شکل دینے کا مشورہ دیا گیا، ان حالات میں حکومت کی جانب سے کئے جانے والے سخت فیصلوں پر بھی حکومت کا ساتھ دینے کا عہد کیا گیا۔ دریں اثنا پاکستان میں موجود چینی شہریوں کی سیکورٹی یقینی بنانے کیلئے ہونے والے اجلاس میں وزیراعظم نے چینی شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں امن و امن کی صورتحال کو بہتر کرنے کیلئے بھی فوری اقدامات کیے جائیں اور سی پیک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کسی طرح بھی قابل قبول نہیں کیونکہ اس کا ملک کی ترقی میں اہم کردار ہے۔ وفاقی اجلاس میں بھی حکومتی معاملات بالخصوص پارلیمنٹ تحلیل کر کے فوری انتخابات کرانے اور نگران سیٹ اپ تشکیل دینے کے بارے میں مشاورت اور موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس سلسلہ میں فوری انتخابات کا انعقاد یا معیشت کے حوالے سے سخت فیصلوں کے دو ممکنہ آپشنز پر اتحادی جماعتوں کی رائے لی گئی۔ وفاقی کابینہ نے اصلاحات کے بغیر فوری انتخابات میں جانے کی مخالفت کر دی تاہم حتمی فیصلہ اتحادیوں پر چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں امن وامان کی صورت حال بہتر بنانے کے لئے تمام تر اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ موجودہ مشکل صورتحال کے باعث مسائل بڑھتے ہی جا رہے ہیں آج بھی وہی مہنگائی اور بیروزگاری کا طوفان برپا ہے، غریب آج بھی دو وقت کی روٹی کو ترس رہا ہے جبکہ دہشت گردی نے خوف کے سائے مزید دبیز کر دیے ہیں ایسے میں حکومت کو ان تمام  چیلنجز کا مقابلہ کرتے ہوئے اس سے بہرکیف نبردآزما ہونا ہو گا اور ان کٹھن حالات میں کامیابی پر ہی عوام کو سکون میسر آ سکے گا۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو پریشانیوں اور مشکلات کے سائے مزید گہرے ہوتے جائیں گے۔ حکومتی اتحادیوں نے اس سلسلہ میں جو بھی فیصلہ کرنا اور قدم اٹھانا ہے انہیں یہ سارے معاملات بلاتاخیر طے کر لینے چاہئیں کہیں ایسا نہ ہو کہ ملک کو اقتصادی اور سیاسی استحکام کی جانب لے جانے کی  بجائے مزید بدحالی کی جانب دھکیل دیا جائے۔ 

 

منحرف رکن اسمبلی نئی مشکل کا شکار 
پارلیمانی جمہوریت کو ڈی ریل ہونے سے بچانے اور انحراف کینسر کی روک تھام کیلئے عدالت عظمی کی جانب سے لارجر بنچ نے اپنا تاریخی فیصلہ سنا دیا جس کے مطابق منحرف اراکین اسمبلی کا پارٹی پالیسی کے برخلاف دیا گیا ووٹ شمار نہیں ہو گا، عدالتی فیصلے کی رو سے اب وہ اراکین جو اسمبلی میں پہنچ کر اپنے قائد کے فیصلے کے خلاف سے منہ پھیرتے ہوئے انحراف کریں گے تو اب ان کی نہیں چلنے والی، اب فیصلہ سیاسی جماعتوں کے سربراہان کی جانب سے فائنل تصور ہو گا۔ عدالتی فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ آرٹیکل63  اے اور آرٹیکل 17سیاسی جماعتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے ہیں اس لئے آرٹیکل 63 اے کو اکیلے نہیں پڑھا جا سکتا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں5  رکنی بینچ نے آرٹیکل63  اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کا فیصلہ2  کے مقابلے میں3  کی برتری سے سنایا۔ چیف جسٹس عمر عطابندیال، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر نے کہا کہ منحرف رکن کا دیا گیا ووٹ شمار نہیں کیا جائے کیونکہ سیاسی پارٹیوں کے اراکین کا انحراف کرنا سیاسی جماعتوں کو غیرمستحکم اور پارلیمانی جمہوریت کو ڈی ریل بھی کر سکتا ہے۔ فیصلہ میں کہا گیا کہ آرٹیکل 63 اے کا مقصد جماعتوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہے، پارٹی پالیسی کے خلاف ڈالا گیا ووٹ شمار نہیں ہو گا جبکہ رکن اسمبلی کے انحراف کی صورت میں تاحیات نااہلی کے سوال پر رائے نہیں دی گئی۔ یوں عدالتی فیصلے کی رو سے انحراف کرنے والے اراکین تاحیات نااہلی سے تو بچ گئے لیکن ان کا ووٹ شمار نہیں کیا جائے گا جبکہ اکثریتی فیصلے میں کہا گیا کہ منحرف رکن کی نااہلی کی معیاد کا تعین پارلیمنٹ کرے، عدالت عظمی کے لارجر بینچ کے دو ججز جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ اکثریتی فیصلے سے متفق نہیں ہیں، آرٹیکل63  اے انحراف اور اس کے نتائج پر مکمل ضابطہ ہے، کسی رکن کے انحراف پر الیکشن کمیشن پارٹی سربراہ کے ڈیکلریشن کے مطابق ڈی سیٹ کرتا ہے۔ صدر کے ریفرنس میں پوچھے گئے سوالات میں کوئی جان نہیں، ان سوالات کاجواب ناں میں دیا جاتا ہے، اگر پارلیمنٹ مناسب سمجھے تو منحرف ارکان پر مزید پابندیاں عائدکر سکتی ہے۔