ہم اور ہماری ترجیحات 

 ہم اور ہماری ترجیحات 

سردار جمال 

دنیا کا موجودہ جنگی بجٹ ایک ہزار ارب ڈالر سالانہ کو پہنچ چکا ہے ۔ جنگ پر ہر سال ایک ہزار ارب ڈالر خرچ ہو رہے ہیں جبکہ ہر سال پندرہ لاکھ لوگ کم خوراک اور بیماریوں کی وجہ سے مر جاتے ہیں ۔ ہر منٹ تیس بچے غذا کی کمی اور مہنگی ویکسین کی وجہ سے مرجاتے ہیں اور ہر منٹ پبلک فنڈز کا تیرہ ملین ڈالر دنیا کے فوجی بجٹ پر خرچ ہوتا ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم مزید زندگی میں دلچسپی نہیں رکھتے، ہم نے خودکشی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ انسان کبھی خودکشی کے ایسے موڈ میں نہیں رہا ہے، پوری تاریخ میں کبھی نہیں۔ ڈھائی سو میلین بچے ابتدائی تعلیم سے بھی محروم ہیں ۔ صرف ایک ایٹمی آبدوز کا خرچ ترقی پذیر ملکوں کے سولہ ملین سکول جانے والی عمر کے بچوں کے تعلیمی بجٹ کے برابر ہے۔ 
صرف ایک آبدوز!  
ادھر دنیا بھر کے سمندروں میں سینکڑوں آبدوزیں تیرتی پھر رہی ہیں اور ہر آبدوز نے دوسری عالمی جنگ میں استعمال ہونے والے مجموعی اسلحے سے چھ گنا سے زیادہ طاقتور ہتھیار اٹھائے ہوئے ہیں ۔ یہ اتنے مہنگے ہیں کہ اس کے بجٹ میں ہم اپنے بچوں کو تعلیم مع خوراک کے فراہم کر سکتے ہیں  لیکن ہماری دلچسپیاں اس طرف نہیں ہیں ۔ دنیا کے آدہے سے زیادہ سائنسدان مزید جنگی مواد تیار کرنے میں مصروف ہیں ۔ دس ملین لوگ پہلے ہی ایڈز کا شکار ہیں جس کا کوئی علاج ہی نہیں ہے  اور یہ تعداد بھی درست نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت سے ممالک ایسے بھی ہیں جنہوں نے ابھی تک اپنے ہاں موجود ایڈز کے مریضوں کی تعداد کا اعلان نہیں کیا ہے ۔ وہ انہیں شمار ہی نہیں کر سکتے کیونکہ ان کے ہاں موزوں ذرائع موجود نہیں ہیں۔ موت کئی اطراف سے زمیں پر وارد ہو رہی ہے ۔ ہمارے مسائل بین الاقوامی ہیں جبکہ حل قومی ہے لیکن کوئی قوم بھی اس قابل نہیں  کہ جو ان مسائل کو سلجھا سکے ۔ مگر ادھر قوم ہے کہاں ؟ ادھر تو منافق معاشرہ ترتیب دیا جاتا ہے جس کو اپنا اصل چہرہ چھپانے کی تربیت دی جاتی ہے ۔ اس کی تمام تربیت یہی ہے کہ نقاب اوڑھ لو اور وہ ایسے نقاب جو لوگوں کو پسند آئیں، ایسے نقاب جن کی لوگ تعریف و ستائش کریں اور تربیت دی جاتی ہے کہ تم ہمیشہ دوسرے لوگوں کے تصورات کے مطابق چلنا فراموش نہ کرو ۔ اب بس بھی کرنا ہے، ہم نے بہت ساری جنگیں لڑی ہیں، بہت سارا خون بہایا ہے، بہت ساری نفرتیں پیدا کی ہیں۔ اب ایک اور تجربہ کرنا چاہیے اور وہ ہے پیار، محبت اور امن کا تجربہ۔ آئیں مل کر یہ عہد کریں کہ بارود کی جگہ اجناس کی کاشت کرتے ہیں تاکہ مزید انسانوں کو مرنے سے بچا سکیں ۔