متاثرین سیلاب کی بحالی اور کورونا کی وبائ

متاثرین سیلاب کی بحالی اور کورونا کی وبائ

وزیر اعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا حکومت پر زور دیا ہے کہ سیلاب میں جاں بحق افراد کے لواحقین اور متاثرین کی مالی امداد کی رقم8  سے10  لاکھ کر دی جائے تو بہتر ہے۔ خیبر پختونخوا کے ایک روزہ دورے کے موقع پر سیلاب زدہ علاقوں اور امدادی کاروائیوں کا جائزہ لینے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں وزیر اعظ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ امداد میں اضافے کی یہ بات انہوں نے پنجاب کے وزیراعلی سے بھی کہی ہے، کچے پکے مکانوں کی تقسیم ختم کر کے منہدم ہونے والے مکانوں کو یکساں طور پر5  لاکھ امداد دے رہے ہیں اور یہ عمل جتنی تیزی سے ہو سکے ممکن بنایا جائے۔ دوسری جانب وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے صوبے بھر میں سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں تجاوزات کے خلاف بھرپور آپریشن کرنے کا حکم دیا ہے اور متعلقہ حکام کو سڑکوں کو فوری طور پر کھولنے کی ہدایت کی ہے۔ سیلاب کی تباہ کاریوں کے علاوہ ایک اور مسئلہ بھی تشویش ناک ہے، خیبر پختونخوا میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ باقی صوبوں سے زیادہ ہے، سب سے زیادہ کرونا وائرس کے متاثرین خیبر پختونخوا میں ہیں اور وہاں پہ کرونا وائرس سے متاثر ہونے کی شرح5  فیصد ہے جبکہ باقی صوبوں میں دو فیصد تک ہے۔ وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا کے مطابق صحت کا نظام ناقص نہیں بلکہ گزشتہ تین ماہ میں60  ہزار افراد باہر سے صوبے میں آئے، بیرون ممالک کے علاوہ مختلف صوبوں سے ہوتے ہوئے بھی آئے ہیں اور اس وجہ سے متاثرین کرونا میں اضافہ ہوا۔ حکومت سے یہ ہی درخواست ہے کہ خیبر پختونخوا کے متاثرین سیلاب کی امداد کے ساتھ ساتھ کرونا وائرس سے متاثر ہونے والوں پر اور حفظان صحت کے اصولوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اس صوبے پہ خاص توجہ دی جائے۔ اسی طرح قدرتی آفات کے قومی ادارے نیشنل ڈزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جانب سے ملک بھر میں متاثرین سیلاب کے لیے ہنگامی امداد کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔ میڈیا میں شائع رپورٹس کے مطابق40   ہزار سے زیادہ افراد میں خوراک کے پیکٹس تقسیم کئے گئے، 60 ہزار سے زیادہ متاثرین کے لیے خیمے، مچھر دانیاں، کمبل، نکاسی کے لیے117  ڈی واٹرنگ پمپس فراہم کئے گئے، ہنگامی بنیادوں  پر متاثرین سیلاب میں60  ہزار لیٹر صاف پانی بھی تقسیم کیا گیا۔ این ڈی ایم اے کے مطابق سب سے زیادہ امداد بلوچستان کو فراہم کی گئی، اسی طرح کچن سیٹ اور حفظان صحت کٹس بھی مہیا کی گئیں۔ صوبہ پنجاب کے ڈائریکٹر این ڈی ایم فیصل فرید نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب پرویز الہی نے بتایا کہ متاثرین سیلاب کی بحالی کے لیے امداد بدستور فراہم کی جا رہی ہے،29   فلڈ ریلیف کیمپس قائم کئے گئے ہیں جن میں190  گھرانوں کے افراد موجود ہیں، ان کے لئے تین وقت کھانا، پینے کا صاف پانی اور علاج معالجے کا مناسب انتظام کیا جا رہا ہے، جانوروں کے لیے بھی6  ریلیف کیمپ قائم کئے گئے ہیں جن میں تقریباً 500 جانوروں کو ویکسین لگائی جا چکی ہے، اب تک31933  افراد کا علاج معالجہ اور دیگر امداد دی جا چکی ہے،11461  گھرانوں میں ایک ماہ کے لیے راشن بیگ تقسیم کیے گئے، علاوہ ازیں76  کشتیاں اور 524 ریسکیو ورکرز نے حصہ لیا اور بروقت آپریشن مکمل کیا، سیلاب زدگان کے گھروں اور فصلوں کے نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے 25 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اب مون سون کی بارشوں اور سیلاب سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر کرنی ہوں گی۔ علاوہ ازیں   محمکہ خوراک کے مطابق  مشکل میں گھرے لوگوں کے گھر ٹرکوں کے ذریعے آٹا ان کی دہلیز پہ پہنچایا جا رہاہے اور منگل سے محکمہ خوراک نے یہ تعداد بڑھا کر روزانہ کی بنیاد پہ آٹا پہنچانے کا کام انجام دیا جائے گا۔