ہم سب مری والے ہیں 

ہم سب مری والے ہیں 

تحریر: ڈاکٹر محمد ہمایون ہما

مری کا 7 جنوری کا وقوعہ، جس میں سو سے زیادہ افراد موت کی وادی میں اتر گئے، سانحہ بھی تھا، حادثہ بھی اور المیہ بھی۔ جو تادیر یاد رہے گا۔ اسی تسلسل میں آج میں اپنی تحریر کی ابتدا ڈاکٹر عبد الجلیل پوپلزئی کی ایک پوسٹ سے کرنا چاہتا ہوں جو کل میرے فیس بک کے صفحے پر سامنے آئی، من وعن درج ہے۔ سویڈن میں معجزہ۔۔ ایک دیہاتی پر برف ہٹاتے ہوئے ہارٹ اٹیک۔۔ قریب سے گزرتے ہوئے ڈاکٹر مصطفی نے ایمرجنسی کو فون کیا۔ تین منٹ میں ڈرون نے جدید مشینری پہنچا دی۔ ظاہر ہے دل کے مریض کا بروقت علاج ہو گیا اور اس کی جان بچ گئی۔ ڈاکٹر عبدالجلیل مزید لکھتے ہیں سویڈن، ڈنمارک اور ناروے فلاحی ریاستیں عوام کے اعمال کا انعام ہیں۔ سوچتا ہوں۔۔ اگر یہاں کسی ویران راستے پر کسی کو حادثہ پیش آ جائے تو قرب و جوار کے لوگوں کا ان سے کیا سلوک ہو گا۔ یہ عمومی کلیہ نہیں ضروری  نہیں ہر جگہ حادثے کے شکار لوگوں کو ایسی صورتحال کا سامنا ہو مگر ایسا بھی ہوا ہے کہ لوگ زخمیوں کو لوٹنے کھسوٹنے میں مصروف ہو گئے ہیں۔ لاشوں کے ہاتھوں سے گھڑیاں اترنے کا عمل شروع ہو گیا ہے اور خواتین کے زیور اتارے جا رہے ہیں۔ ایسے بے شمار واقعات رونما ہو چکے ہیں کہ مملکت خداداد میں ایسے المیوں کے موقع پر عوام نے انہیں مزید المناک بنانے کی کوشش کی ہے۔ اگر اپنے اعمال پر ایک اچٹتی نظر ڈالی جائے تو اندر سے ہم سب مری والے ہی برآمد ہوں گے۔۔ فریبی، دھوکا باز اور لوٹ کھسوٹ کے ماہر۔۔ یہ تو ماضی قریب میں ہو چکا ہے۔ ڈیڑھ ایک سال پہلے جب ملک میں کرونا کی وباء اپنے عروج پر تھی تو وہ ماسک جس کی قیمت پانچ سے دس روپے تک تھی اس کی مانگ میں اضافہ ہوا تو پہلے ہلے میں ماسک وہ جو پشتو میں کہتے ہیں ''د انزر گل د مار خپہ اور د مرغئی پئے'' بنا کر مارکیٹ سے غائب کر دیئے گئے اور پھر دس روپے کا ماسک پچاس روپے میں فروخت ہونے لگا۔ چلئے مان لیتے ہیں کرونا تو یورپ کے سرمایہ داروں کی سازش تھی تو کیا ماسک کے کارخانے بھی انہوں نے بند کر دیئے تھے۔ جی ہرگز ایسا نہیں! یہ ہمارے اپنے اعمال، کرتوت اور لوگوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانے کی چال اور حربہ تھا۔ صرف ماسک ہی  نہیں۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر ڈاکٹرز پیناڈول کے استعمال کی بھی ہدایت کرتے۔ یہ عام دوا بھی مارکیٹ سے پہلے غائب کر دی گئی اور پھر دس گولیوں کا پلتہ جو بالعموم دس روپے میں ہر دکان پر مل جاتا تھا اس کی قیمت سو روپے کر دی گئی۔ پھر اسی روپے میں بکنے لگا اور اب پچاس روپے کی دس گولیاں ہر دکان سے مل جاتی ہیں تو عرض یہ  کرنا مقصود تھا کہ ہم اندر سے سب مری والے ہی ہیں۔ بس  برف باری کا انتظار رہتا ہے۔ چھوڑو یار مری والوں کو۔ مری کوئی اسکنڈے نیوین ملک میں تو واقع  نہیں۔ مملکت خداداد کا ہی ایک حصہ ہے۔ مری کے المیے کے بعد وہاں کے مقامی لوگوں نے سیاحوں کی جو درگت بنائی ہمارے بعض دوست بار بار کہتے ہیں کہ ہمارے پختونخواہ میں بھی میاں دم، مدین، بحرین اور کالام جیسے تفریحی مقامات ہیں مگر وہاں کے لوگ بڑے مہمان نواز ہیں اور خدانخواستہ ان علاقوں میں مری جیسا کوئی وقوعہ پیش آ جاتا تو مہمانوں سے یہ ظالمانہ اور سفاکانہ سلوک نہیں کیا جاتا۔ یہ بات کافی حد تک درست ہے مگر متذکرہ تفریحی مقامات پر عیدین اور قومی دنوں بالخصوص 14 اگست کے موقع پر سیاحوں کی تعداد میں کافی اضافہ ہو جاتا ہے۔ ہوٹلوں میں بے پناہ ہجوم ہوتا ہے۔ تو ایسے موقعوں پر وہاں کے ہوٹل والے بھی اپنے کمروں کے فی شب کرایہ میں اضافہ کر دیتے ہیں اور وہ کمرہ جو عمومی حالات میں دو سے تین ہزار تک دستیاب ہوتا ہے اس کے ایک رات کا کرایہ دس سے15  ہزار تک بڑھا دیا جاتا ہے۔ مگر ہم کہہ سکتے ہیں کہ برفانی ماحول سے لطف اندوز ہونے کے لیے ان قیمتوں کی ادائیگی کوئی بڑی بات نہیں۔ کھانے پینے کی چیزوں میں ایسے مواقع پر بھی کوئی اضافہ نہیں کیا جاتا ہے نہ سیاحوں کو تکلیف پہنچانے کے لیے سڑکوں کے درمیان گاڑی کھڑی کی جاتی ہے  اور نہ وہاں کے مقامی ہوٹل مالکان کے رویے میں کوئی فرق آیا ہے۔ یہ ان کی کمائی کا موسم ہوتا ہے اور طلب کی زیادتی پر قیمتوں میں اضافہ بعض اوقات ناگزیر ہو جاتا ہے مگر وہ لوٹ کھسوٹ نہیں ہوتی جو مری والوں نے کی ہے اور وہ بھی سیاحوں کی موت کی قیمت پر۔۔ بہرحال میں یہ عرض ضرور کروں گا کہ  آج بھی ہمارے ملک میں انسانیت سب سے بڑی اقلیت اور ہم سب برفباری کے موقع پر مری والے بن جاتے ہیں۔ برفباری سے میری مراد وباء کے موقع پر ادویات کو غائب کرنا یا پھر ان کی قیمتوں میں اضافے سے ہے۔ اللہ ہماری حالت پر رحم فرمائے!