ہم نا ماننے والے لوگ!

ہم نا ماننے والے لوگ!

تحریر: شیخ خالد زاہد

وقت اور حالات کی روش نے ہر فردِ واحد کو عقل قل سمجھنے کی اجازت دے رکھی ہے، یہ شرط بھی نہیں رکھی گئی کہ وہ کس رتبے، کس منصب یا کن اسناد کا حامل یا کس قبیلے سے تعلق رکھتا ہے۔ آپ کسی سے گفتگو کرنے کھڑے ہو جائیں وہ آپ کو دیکھی ان دیکھی ساری حقیقتوں سے روشناس کروانے کی ہر ممکن نا صرف کوشش کرے گا بلکہ آپ کو اپنے ہاتھ پر بیعت کرانے تک کیلئے قائل کرتا محسوس ہو گا۔ کیا یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ ایک ایسا بھی وقت تھا جب یہ سنایا جاتا تھا کہ بے عمل عالم کی بات کو دل تک رسائی نہیں ملتی اور ایسے عالم بہت کم ملتے تھے بلکہ نا ہونے کے برابر ہوتے تھے۔ سب سے بڑی دکھ کی بات یہ ہے کہ کوئی بھی ان باتوں پر ان نصیحتوں پر عمل کروانے پر تو کمر بستہ ہے لیکن عمل کرنے کیلئے کوئی تیار نہیںہے۔ یہ انسان کا فطری تقاضا ہے کہ وہ کچھ نیا کرنے کی چاہ اپنے دل میں رکھے اور یقیناً ایسا ہر فرد کے ساتھ ہوتا ہو گا لیکن چند مخصوص لوگ اس چاہ کو عملی جامہ پہنانے پر یقین رکھتے ہوئے زاد راہ کی فکر سے آزاد نکل پڑتے ہیں۔ لوگوں کی اکثریت ایسا کرنے سے قاصر رہتی ہے اور یہ کثیر تعداد کسی بھی وجہ سے ایسا نا کر پاتی، وہ اپنے طور سے اپنی چاہ کو عملی جامہ محدود وسائل میں ممکن کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ کسی کے بنائے ہوئے راستے پر چلنا وہ بھی کسی دل کو نا لبھانے والے کے بنائے ہوئے کے راستے پر چلنا بھلا کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔ اگر ہم مثبت سمت دیکھیں تو ہم نے نا مان کر بڑی ترقی کر لی ہے، ہم نے دنیا سے کوئی سبق نہیں سیکھا بلکہ خود ہی سے نئے نئے اسباق تیار کر لئے ہیں اور ان کی تصحیح کیلئے ہمیں کسی کی ماہرانہ رائے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، بس ہم صحیح ہیں۔ ہاں! اگر کسی کو ہم سے کسی قسم کی معاونت چاہئے تو وہ ہم دینے کیلئے سب سے آگے دکھائی دیتے ہیں۔ آج دنیا میں امن مشن پر تعینات اقوام متحدہ کی فوج میں پاکستانی فوج کا دستہ جو مرد و خواتین دونوں پر مشتمل ہے، تقریباً ہر محاذ پر دکھائی دیتا ہے، اس کی ایک وجہ تو خدمت کے جذبات سے سرشار ہونا بھی ہے اور اپنے پیشے سے والہانہ محبت بھی ہو سکتی ہے اور کچھ خاص کرنے کی چاہ سب سے مقدم ممکن ہو سکتی ہے، تو دوسری طرف بین الاقوامی وسعتوں تک رسائی بھی ممکن ہے، دوسری ثقافتوں، تہذیبوں اور دوسری زبانوں کو دیکھنے اور سیکھنے کے وسیع مواقع بھی میسر آتے ہیں۔ کبھی ہماری خود سری کوہ ہمالیہ کو بھی پار کرتی دکھائی دیتی ہے اور جب ہم بے حسی پر اتر آتے ہیں تو انسانیت کو بھی شرمندہ ہو کر منہ چھپانے کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ ہم کسی کی جیت کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ اس پر الزام لگا کر ہارنے والے کی نااہلی پر پردہ ڈال دیتے ہیں۔ ہم مسلمان ہیں، ہمیں محسوس یہ ہوتا ہے کہ ہم قبل از اسلام والے مکہ کے کفار ہونے کا عملی تجربہ کرنے کا فیصلہ کئے ہوئے ہیں۔ کیا معصوم بچے بچیوں کے ساتھ ہونے والے واقعات، خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتیاں ہمارے ازہان پر سے گرد نہیں جھاڑ رہے؟ ہم بہت تیزی سے منزلیں طے کرتے ہوئے آگے کی طرف جا رہے ہیں، آسائشوں کے انبار لگائے جا رہے ہیں لیکن عملی طور پر محسوس یہ ہو رہا ہے کہ ہم اتنا ہی ماضی کی طرف تیزی سے پہنچ رہے ہیں، بھلا یہ کیسی ترقی کی گھنٹی ہم نے اپنے اپنے گلوں میں باندھ لی ہے جس کے بجنے سے یہ پتہ نہیں چل پا رہا ہے کہ سفر آگے کی جانب ہو رہا ہے یا کہ واپسی کی طرف؟ ان باتوں سے ہمیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ہم بہ حالت مجبوری کسی بھی عمل کیلئے تیار ہو جاتے ہیں۔ تازہ ترین مثال کیلئے باہر نکل کر خود مشاہدہ کر لیجئے۔ کورونا کی ویکسین لگوانے کیلئے شور مچا ہوا ہے، حکومت وقت نے ہر ممکن ذرائع سے عوام تک یہ آگاہی پہنچائی کہ ویکسین لگوا لیں جس کی تاحال کوئی قیمت نہیں ہے لیکن عوام اپنے مفروضوں کی بنیاد پر اس سے اجتناب کرتی رہی جس کی وجہ سے ویکسین لگوانے کی مخصوص جگہ اکثر اوقات خالی دکھائی دیں لیکن اب جب چوتھی لہر نے سر اٹھایا تو عوام اس طرح سے امڈ کر آ گئی ہے کہ مخصوص جگہوں میں حکومت کو اضافہ کرنا پڑ گیا ہے۔ حسب عادت عوامی ردعمل سامنے آنا شروع ہو گیا ہے کہ جی ہم تو ضعیف ہیں، ہم تو بیمار ہیں اور لائنوں میں لگا کر رکھا ہوا ہے، اتنا اتنا انتظار کروایا جا رہا ہے، ان کو یہ بتایا جائے کہ یہ ہی جگہیں چار دن پہلے تک سنسان پڑی ہوئی تھیں، اب جب موبائل سم بند ہونے کی دھمکی دی گئی، تنخواہیں بند کرنے کی دھمکیاں دی گئیں تو سب ایک ساتھ ہی نکل کر سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور عملے کو زدوکوب کرنے پہنچ گئے ہیں۔ وقت پر نا ماننے کی کوئی نا کوئی قربانی تو دینی پڑے گی۔ نا ماننے کی ایک اعلی ترین مثال سیاسی میدانوں میں دکھائی دیتی ہے جہاں آنکھوں والے اندھوں کی طرح اپنے اپنے قائدین کی حمایت میں نعرے پر نعرے لگاتے سنائی دیتے ہیں، وہ اس سمجھ سے بھی عاری ہوتے ہیں کہ بھلا وہ کیا نعرہ لگا رہے ہیں۔ سونے پر سوہاگہ یہ ہے کہ ساتھ کھڑے ہجوم میں سے بھی کوئی نہیں نکلتا کہ کم ازکم نعرے لگانے والے کو سمجھا دے، نہیں جی بس نعرے لگانے ہیں کیونکہ وہ جس کیلئے نعرے لگا رہے ہیں زمین پر اس سے بہتر کوئی انسان ہی نہیں ہے۔ ہم یہ جاننے کی کوشش بھی نہیں کرتے کہ اگر جان لیا جائے تو معاملات میں بہتری آنے کے قوی امکان پیدا ہو جاتے ہیں۔ ہمارے نا ماننے کا سلسلہ بہت دراز ہے جس کے آغاز کا علم شائد ہے بھی اور نہیں بھی۔ اللہ اور اس کے محبوب رسول مقبول ۖ پر ایمان کیلئے لازم ہے ان کے احکامات کو مانا جائے اور اپنی عملی زندگی کو ان کے مطابق گزارنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم نا ماننے والے لوگ ہیں لیکن ہمارے لئے یہ بھی کسی بڑے سے بڑے اعزاز سے کم نہیں ہے کہ ہم اپنے اللہ اور رسول پاک ۖ کو دل و جان سے مانتے ہیں۔ بدقسمتی صرف اس بات کی ہے کہ ہم نا تو اللہ تعالی کی کتاب پر عمل کرتے ہیں اور نا ہی نبی پاک ۖ کی سنتوں کو زندہ رکھنے کیلئے کوئی عملی مظاہرہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ بقول اشفاق احمد کے بابا جی مسلمان وہ ہے جو اللہ کو مانتا ہے جبکہ مومن وہ ہے جو اللہ کی مانتا ہے۔ کوئی بھی اجتماعی صورتِ حال کسی کی انفرادی خواہش کا مظہر ہوتی ہے۔ ہم بطور بڑے اپنے بچوں کو ماننے کی ترغیب ہی نہیں دیتے بلکہ منوانے کیلئے سختی بھی کرتے ہیں۔ اس کے برعکس اپنے بڑوں کی مانتے نہیں ہیں تو پھر یہ رویہ تو گردش کرتا ہی رہے گا۔ یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک ہم سچ بولنا نہیں شروع کر دیتے، جب تک ہم انسانیت کی خدمت کرنا نہیں شروع کر دیتے اور ہم ان لوگوں سے جان نہیں چھڑا لیتے جو ہمارے لئے، ہمارے آنے والے وقتوں کیلئے برائی کا سامان کرنے کے مرتکب ہو سکتے ہیں۔ جب تک ہم ماننے کی صلاحیت سے محروم رہیں گے ہم اسی طرح بھٹکتے رہیں گے اور ظالم ہمیں تقسیم در تقسیم کرتا اور ہم پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑتا رہے گا۔ فیصلہ ہم نے کرنا ہے تو پھر مان جائیے اور آنکھوں پر سے پٹیاں اتار دیجئے۔