تاریخ سے سبق لینے کی ضرورت ہے

تاریخ سے سبق لینے کی ضرورت ہے

تحریر: انعام ازل آفریدی 

ایک محدود کم میدانی جغرافیے اور قلیل عوامی اور فوجی طاقت کے حامل  ملک افغانستان کی تاریخ بھی کچھ عجیب و غریب ہے۔ اس میں شک نہیں کہ محدود وسائل اور قلیل فوجی طاقت کے باوجود یہ ملک کبھی بھی کسی کا غلام نہیں رہا بلکہ افغان حکمرانوں نے وقتاً فوقتاً کافی سارے علاقوں کو فتح کر کے اپنے زیر نگیں رکھا جن میں دیگر علاقوں کے علاوہ برصغیر بھی تھا، جس کو افغانوں نے تقریباً پانچ سو سال تک اپنے قبضے میں رکھا۔ لیکن کسی بھی علاقے کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے نہ تو انتظامی امور کا خیال رکھا گیا نہ ہی اصلاحات کے لئے کوئی خاص روش اپنائی گئی۔ آسان الفاظ میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ مفتوحہ علاقوں کو صرف عارضی مفادات حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا گیا یہاں تک کہ اپنے آبائی وطن  افغانستان میں بھی کوئی خاص طرز حکمرانی تشکیل نہیں دے سکے۔ ان میں شہرت یافتہ حکمران اور جرنیل سلطان محمود غزنوی، جو افغان تو تھے لیکن، ترک نسل سے تعلق رکھتے تھے، شہاب الدین غوری بھی کہنے کو تو افغان ہی تھے لیکن نسلاً وہ بھی تاجک تھے، شیرشاہ سوری اسخاق زئی پختون افغان تھے، جن کی اصلاحاتی کوششوں میں جرنیلی سڑک ایک یادگار کارنامہ ہے۔ یہ وضاحت بھی کرتا چلوں کہ ہر پختون افغان ہے، جبکہ ہر افغان پختون نہیں ہے۔ افغانستان میں تھوڑی بہت منظم حکمرانی کی داغ بیل ہوتک خاندان نے ڈالی جو1709  سے1738  تک  قائم رہی۔ اس خاندان کے پہلے حکمران میرویس ہوتک تھے جبکہ حسین ہوتک ان کے آخری حکمران ثابت ہوئے۔ ہوتک پختون قوم کی ایک شاخ ہے۔ ہوتک حکمرانوں نے کندہار کو اپنا دار السلطنت بنا رکھا تھا۔ اس خاندان کے صرف میرویس ہوتک نے عوام کے دل جیت لئے تھے اور افغان تاریخ میں اب بھی اچھے الفاظ میں یاد کئے جاتے ہیں۔ مرنے کے بعد ان کی قبر پر مزار کی تعمیر ان  سے محبت کا اظہار ہی تو ہے۔ لیکن پہر بھی ایسے نقوش بہت کم چھوڑے ہیں جو قابل دید ہوں۔ اس کے بعد افغانستان کی باگ ڈور درانی خاندان کو نصیب ہوئی جس کی حکمرانی سن1823  تک جاری رہی۔ اس خاندان کے پہلے حکمران احمد شاہ جبکہ آخری حکمرانی اغیار کی بیساکھیوں کے سہارے شاہ شجاع درانی کی قسمت میں آئی۔ درانی پختون نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس خاندان کے حکمرانوں نے سیاسی اور دنیاوی مفادات کے پیش نظر اپنے دارالسلطنت کیلئے تین شہروں کا انتخاب کیا، جو کندہار، کابل اور پشاور  تھے۔ اس خاندان کے حکمرانوں میں قابل ذکر شخصیت احمد شاہ درانی تھے جنہوں نے نا صرف یہ کہ افغانوں کو اپنی علمی اور سیاسی بصیرت کے بل پر منظم رکھا بلکہ افغانستان کی جغرافیائی حدود کو وسعت بھی دی اور افغانوں کو سیاسی اور مالی لحاظ سے خوش رکھنے کی تاحد کوشش کے ساتھ ساتھ  افغانستان کو بیرونی سازشوں سے بھی محفوظ رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بھی افغانی تاریخ میں قابل قدر جگہ پا سکے ہیں۔ جس کا اندازہ ان کے مزار سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے جور بہت بڑے رقبے پر محیط ہے۔ درانی خاندان کے زوال کے بعد امارات افغانستان کا سلسلہ شروع ہوا جو1823  سے لے کر1926  تک قائم رہا۔ جس کے پہلے امیر دوست محمد خان جبکہ آخری امیر غازی آمان اللہ خان یاد کئے جاتے ہیں۔ نسل کے لحاظ سے یہ بھی پختون تھے۔ اور انھوں نے کابل کو اپنا دارالحکومت بنا رکھا تھا۔ امارات افغانستان کے حکمرانوں نے اپنی توجہ کا مرکز  صرف کابل ہی کو بنایا اور افغانستان کے دیگر علاقوں کو نظر انداز کرتے رہے، اس لئے عوام کے دلوں پر راج کرنے میں ناکام رہے۔ فرنگی سازشوں اور شورشوں کو ناکام بنا کر صرف غازی امان اللہ خان  افغان تاریخ میں نام اور مقام  پیدا کرنے میں کامیاب ہوئے۔ طرز حکمرانی کا یہ سلسلہ آگے چل کر مملکت افغانستان کے طرز پر سن1923  سے شروع ہو کر سن1973  تک جاری رہا۔ جس کے پہلے حکمران  غازی امان اللہ خان جبکہ آخری بادشاہ محمد ظاہر شاہ تھے۔ جو 12 سال کی عمر میں تخت نشین ہوئے۔ کم عمری کی وجہ سے اقتدار کی باگ ڈور ان کے چار چچا عزیز خان، ھاشم خان، شاہ ولی خان اور شاہ محمود وقتاً فوقتاً سنبھالتے رہے۔ یہ بھی پختون تھے اور کابل ہی کو دارالحکومت بنائے رکھا۔ ان کی حکمرانی کا  عرصہ لگ بھگ40  سال تک رہا، دنیا کی ترقی کا سلسلہ بھی اسی زمانے سے ہی شروع ہوا تھا۔ لیکن انھوں نے جان بوجھ کر کابل کے علاوہ تمام افغانستان کو معاشی اور علمی طور پر پسماندہ رکھا۔ جو ان کی معزولی کا سبب بنا، ان کے چچازاد بھائی سردار محمد داؤد خان نے کودتہ کر کے ان کا تختہ الٹ دیا اور خود تخت کابل پر براجمان ہوئے اور جمہوریہ افغانستان کے سن1973  سے لے کر 1978 تک حکمران رہے۔ وہ افغانستان کے پسماندہ نقشے کو تبدیل کرنے میں کامیاب تو نہیں ہوئے لیکن اپنے آپ کو ایک اچھا منتظم ثابت کرنے میں کامران ضرور ہوئے جن کی یادیں افغان عوام اب بھی اپنی نجی محفلوں میں تازہ کرتے رہتے ہیں۔ نوجوان اور تعلیم یافتہ طبقہ شہنشاہی نظام سے تنگ آ چکا تھا اور وہ افغانستان کو ایک جمہوری نظام کے تحت تعلیم یافتہ، خوشحال اور ترقی کی راہ پر گامزن دیکھنا چاہتا تھا۔ ایسی فکر نے نوجوان طبقے کو متحد کیا اور افغانستان کے اتحادی ملک سابقUSSR  سے فوجی مدد لے کر استاذ نور محمد ترکئی نے1978  میں سردار محمد داؤد خان کا تختہ الٹ دیا۔ 'افغانستان جمہوری دولت' کے پہلے سربراہ نور محمد ترکئی اور آخری سربراہ ڈاکٹر نجیب اللہ تھے جو1996  تک برسرقتدار رہے۔ یہ بھی پختون قوم سے تعلق رکھتے تھے اور کابل ہی کو دارالحکومت رکھا۔ 'افغانستان جمہوری دولت' نے طویل بادشاہی نظام اتحادی ملکUSSR  کی مدد سے ختم کر کے جمہوری نظام قائم تو کیا لیکن عوامی ناخواندگی کی وجہ سے پنپنے میں سیاسی مشکلات اور دشواریاں پیش آنا شروع ہوئیں۔ امریکہ کو روس سے ویت نام میں ان کی کوششوں سے ناکامی کا بدلہ چکانے کا موقعہ ہاتھ آیا۔ اپنے اتحادیوں سے مل کر افغان حکومت مخالف مذہبی رہنماؤں کو اکٹھا کر کے ھم خیال بنایا۔ اور مکمل سپورٹ دے کر افغان حکومت اور روس کے خلاف استعمال کیا جس میں امریکہ نے کامیابی حاصل کی۔ افغانستان کے صدر ڈاکٹر نجیب اللہ نے امن سے مشروط استعفی دیا۔ مجاہدین آئے، لیکن آپس میں رسہ کشی کی وجہ سے بمشکل چھ ماہ بھی برسر اقتدار نہ رہ سکے۔ اور ایک ڈرامائی شکل میں افغانستان پر ایک نئی مسلح تنظیم طالبان اقتدار کی غرض سے کابل پر حملہ آور ہوئی جس نے خلاف توقع کامیابی حاصل کر کے اسلامی امارات کے نام سے خلافت شروع کی جس پر9/11  کے بعد امریکہ نے  القاعدہ اور داعش کو لاجسٹک سپورٹ دینے کا بہانہ بنا کر حملہ کیا اور طالبان حکومت ختم کر کے سابق شاہ ظاہر شاہ، جو اٹلی میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ کابل لے آئے۔ ان کی نگرانی میں انتخابات ہوئے، اور حامد کرزئی ووٹ جیت کر برسر اقتدار آ گئے۔ امریکہ نے آخری دہشت گرد اور طالب کے خاتمے تک افغانستان میں ٹھہرنے کا ارادہ کیا۔ طالبان نے صف بستہ ہو کر امریکہ اور اس کی مدد سے اقتدار میں آنے والی حکومت کے خلاف جہاد کا اعلان کیا۔ جس کے ساتھ ایک بار پھر افغانستان میں حالات روز بروز بگڑتے گئے۔ کابل میں حامد کرزئی کی حکومت ختم، ان کی جگہ محمد اشرف غنی منتخب ہوئے جنہیں دوسرے دورانیے سے پہلے طالبان کے ہاتھوں معزول ہونا پڑا۔ اور کابل حکومت پر ایک دفعہ پھر طالبان نے قبضہ کیا۔ جس کو تاحال دنیا کے  دو تین ممالک سے زیادہ کسی ملک نے بھی رسمی طور پر تسلیم نہیں کیا ہے۔ افغانستان کی تاریخ پر اگر نظر دوڑائی جائے تو کابل میں برسر اقتدار تقریباً اکثر حکومتیں انتخاب کے ذریعے نہیں بلکہ رسہ کشی اور جنگ و جدل کے ذریعے وجود میں آئی ہیں۔ اتنی لمبی چوڑی تاریخ اور درجنوں سربراہان رکھنے والی ریاست افغانستان کو میری عقل اور فکر کے مطابق صرف پانچ سربراہ ایسے ملے جو اپنی قوم اور ملک سے مخلص تھے۔ ان میں میرویس ہوتک،  احمد شاہ درانی، سردار محمد داؤد خان، ڈاکٹر نجیب اللہ اور ڈاکٹر محمد اشرف غنی شامل ہیں۔ لیکن  اگر کچھ گنے چنے سربراہان قوم اور ملک سے مخلص رہے تو کیا؟ کیونکہ قوم ان سے مخلص نہ رہی۔ لیکن آخرکار یہ رسہ کشیاں جنگ وجدل قوم اور ملک کی اپنے نفس کی خاطر تباہی کب تک؟ کیا افغان قوم تاقیامت علم، امن، ترقی اور خوشحالی کا راستہ چھوڑ کر تباہی کے راستے پر چلے گی؟ کیا بحیثیت قوم افغانوں کو تاریخ سے سبق لینے کی ضرورت ہے یا کہ تاریخ کو دہرانے کی؟  اے افغان قوم! اپنے ضمیر، احساس اور شعور کو بیدار کر کے فیصلہ کیجیے کہ ایک درست فیصلہ آپ کو آباد جبکہ غلط فیصلہ آپ کو مزید برباد کر سکتا ہے۔